ملک میں جاری کسان تحریک کی قیادت کرنے والوںاور حکومت کے متضاد دعوئوں کے پیش نظر فی الحال کسان بمقابلہ سرکار کی صورتحال تبدیل ہونے کا امکان نظر نہیں آرہا ہے۔26جنوری کو دہلی میں پیش آئے واقعات کے بعد لگتا تھا کہ حکومت کیلئے احتجاجی کسانوں کو رام کرنے کی راہ کسی حد تک ہموار ہوگئی ہے لیکن جس طرح کسان لیڈران نے حکومت پرجوابی الزامات عائد کرنے کا سلسلہ شروع کیا ،اُس سے یہ بات طے ہوگئی کہ مذکورہ لیڈران محض اپنے شعبے کے ہی ماہر نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہیں۔
کسی بھی تحریک کیلئے اس کی قیادت کرنے والوں کا مضبوط اور اہل ہونااہمیت کا حامل ہوتاہے ۔اگر چہ احتجاجی کسانوں کیخلاف ایک منظم مہم بھی چلائی گئی جس کے تحت ان کو ’ان پڑھ گنوار‘ ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا لیکن اس کے باوجود کسان لیڈران بہت ہی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا دفاع کرنے میں کامیاب نظرآرہے ہیں۔ یوم جمہوریہ ٹریکٹر ریلی کے دوران کسان مورچہ نے انتشار کی اخلاقی ذمہ داری لی ہے۔ایسا کرکے احتجاجی کسان نہ صرف ایک بار پھر رائے عامہ کواپنے حق میں کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں بلکہ وہ یہ پیغام بھی دے رہے ہیں کہ دہلی میں جو کچھ ہوا اُس سے اُن کی تحریک ختم نہیں ہونے والی ہے۔حالانکہ کئی مبصرین کا ماننا ہے کہ دہلی میں پیش آئے واقعات سے احتجاجی کسانوں کی آوازیں اب صدا بہ صحرا ثابت ہونگی کیونکہ حکومت کو اُن کیخلاف محاذ کھولنے کا ایک طاقتور ہتھیار ہاتھ آیا ہے۔
کسان مورچہ ، جس کے بینر تلے سینکڑوں چھوٹی بڑی کسان تنظیمیں جمع ہوچکی ہیں ، نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تینوں متنازع زرعی قوانین کے خاتمے کے لئے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔گذشتہ ہفتے مورچہ کی ایک نیوز کانفرنس میں ، راشٹریہ کسان مزدور مہاسنگھ کے شیو کمار شرما کاکا جی نے کہا ’’ٹریکٹر ریلی کا پروگرام ہمارے ذریعے بنایا گیا تھا ، لہذا ہم نے اس ریلی کے دوران پیش آئے واقعات کی اخلاقی ذمہ داری قبول کی ہے‘‘۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا’’ہم نے ان لوگوں کا مقابلہ نہ کرنے میں غلطی کی جنہوں نے ہماری تحریک میں دخل اندازی کی تھی اور ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں‘‘۔
بالفاظ دیگر کسان مورچہ کو اس بات کا یقین ہے کہ دہلی میں جو ہوا وہ اُن کا کیا دھرا نہیں بلکہ اُس میں اُن عناصرکا ہاتھ تھا جو کسان تحریک کیخلاف ہیں۔ مورچہ نے اس کیلئے براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو الزامات کا نشانہ بناتے ہوئے کہا’’مودی اور شاہ نے ایک قومی تحریک کو کچلنے کیلئے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے تشدد کی تحریک کو تیز کردیا ہے‘‘۔
ایک طرف کسان رہنماؤں نے یہ اعتراف کیا کہ دارالحکومت میں تشدد کے مناظر نے ان کی تحریک کی حمایت کو کم کردیا ہے ،اور دوسری طرف تجربہ کار کسان یونین رہنما بلبیر سنگھ راجیوال کا کہنا تھا’’ کسان پریڈ تاریخی تھی اور اس میں حصہ لینے والوں میں سے 99.9 فیصد پرامن رہے‘‘۔یعنی وہ دہلی پریڈ کے دوران پیش آئے واقعات سے دامن نہیں بچاتے بلکہ منجھے ہوئے اور بالغ نظر سیاست دانوں کی طرح اس دوران پیش آئے واقعات کا الزام حکومت پر ڈال رہے ہیں۔راجیوال نے کہا’’ہماری تحریک کو بدنام کرنے اور اسے کمزور کرنے کی متعدد کوششوں کے بعد اس کو توڑنے کی حکومتی سازش طشت از بام ہوئی ہے ‘‘۔
ان الزامات کہ کسانوں نے قومی پرچم کی توہین کی ہے ، مورچہ قیادت نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ لال قلعے میں ، جہاں 1947 میں جواہر لال نہرو نے پہلی بار ترنگا لہرایا تھا ، مظاہرین نے قومی پرچم کو ہاتھ نہیں لگایا ۔انہوں نے کہا’’ سنگھ کواس معاملے میں زیادہ ٹانگ نہیں اڑانی چاہئے ، سنگھ کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ 2002 تک آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر میں قومی پرچم نہیں لہرایا گیا تھا‘‘۔
یوم جمہوریہ کو دہلی میں جو کچھ ہوا وہ تقریباً ناگزیر تھا کیونکہ بیشتر تجزیہ نگار بھاری بھیڑ کو کنٹرول کرنے کو ناممکن قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ احتجاجیوں کو زیادہ دیر تک پر امن رکھنا ممکن نہیں ہے۔اُن کے صبر کا پیمانہ پہلے ہی شدید سردیوں میں مسلسل شب و روزکاٹنے سے لبریز ہوچکا ہے اس لئے اُن کا مزید امتحان لینا دانشمندی نہیں ہے۔مذکورہ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ تشدد کے واقعات پیش آتے ہی اُن سے علیحدگی اختیار کرنا کسان رہنمائوں کا بڑا اقدام تھا جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قیادت کی سطح پر احتجاجی کسان کسی کنفیوژن کا شکار نہیں ہیں بلکہ اُنہوں نے اپنے اہداف مقرر کررکھے ہیں اور اُنہی پر نظریں جمائے ہیں۔کسان قیادت کی اس سیاست گری اور حکومت کے سخت رویہ کے بیچ فریقین الگ الگ دعویٰ کرنے میں مصروف ہیں۔ایک طرف کسان قائدین نئے زرعی قوانین کو عام کاشتکاروں کے خلاف قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت مذکورہ قوانین کو ’اصلاحات‘ کا نام دیکر ان کا دفاع کررہی ہے۔
زمینداری کے لحاظ سے کسانوں کی درجہ بندی مختلف ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر حکومت کے معیار کے مطابق بڑاکسان وہ ہوتا ہے جس کے پاس 10 ہیکٹر سے زیادہ اراضی ہوتی ہے۔ ایک درمیانی کسان کے پاس 4۔10 ہیکٹر، ایک نیم درمیانی کسان کے پاس2۔4 ہیکٹر، چھوٹے کسان کے پاس 1۔2 ہیکٹر اراضی ہوتی ہے جبکہ1 ہیکٹر سے نیچے اراضی رکھنے والا معمولی کسان کہلاتا ہے۔
بڑے کاشتکار اپنی زمینوں کی پیداوار کا ایک بہت بڑا حصہ بیچ دیتے ہیں، یعنی وہ بازار کیلئے کاشت کرتے ہیں۔ درمیانی اور نیم درمیانی کسان بھی مارکیٹ کے لئے کاشت کرتے ہیں اور جو کچھ بھی اناج اگاتے ہیں اسے بیچ دیتے ہیں ۔ان دونوں زمروں میں آنے والے کسان دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں اور اسی لئے اُنہیں ہندی میں ’ان داتا‘ کہا جاتا ہے۔ چھوٹے کسان اپنی روزی کے لئے کاشت کرتے ہیں اور ایسے چھوٹے کسانوں کے لئے اپنے لئے پیدا کرنا عالمی سطح سطح کی حقیقت ہے۔کسانوں کے مذکورہ تینوں طبقات کو متنازع زرعی قوانین کس طرح متاثر کرتے ہیں؟
پچھلے سال منظور کردہ تینوں زرعی قوانین میں قانون سازی زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹیوں کے ذریعہ منضبط منڈیوں میں تجارت کی اجارہ داری کو مؤثر طریقے سے ختم کردیتا ہے۔ اس طرح ان کمیٹیوں یا دیگر حکام کے ذریعے ضابطے میں لائے بغیر کوئی بھی ادارہ ریاست کے اندر اور ریاستوں کے مابین تجارت میں مشغول ہوسکتا ہے۔یہ قوانین زراعت کے لئے قانونی شرائط مرتب کرتے ہیں اوران میں کسان کاشتکاری معاہدے میں شامل ہوتا ہے۔اس کے علاوہ یہ قوانین زرعی اجناس کے ذخیرے کی شدت کو نمایاں طور پر کنٹرول کرتا ہے۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ ابھی ملک میں فصلوں کی خریداری کی کوئی قانونی ضمانت نہیں ہے۔ اگر قانونی ضمانت فراہم کی جاتی ہے تو اس کے دو آپشن ہیں، یا تو حکومت کو فی الحال فہرست میں موجود 23 فصلوں کا پورا قابل منقول سرمایہ خریدنا ہوگا، یا اسے نجی تاجروں کو بھی کم سے کم ضمانت شدہ قیمت پر خریدنے پر مجبور کرنا پڑے گا۔ لیکن اس معاملہ کو لیکر بھی تنازع موجود ہے ۔ کسان یونینیں تجویز کردہ فارمولے کے نفاذ کے لئے احتجاج کر رہی ہیں۔ پیچیدہ تفصیلات میں جائے بغیر یہ بات واضح ہے کہ کم سے کم سپورٹ قیمتیں یا MSP ان کاشتکاروں کے لئے زیادہ اہم ہے جو استعمال کرنے والے چھوٹے اور پسماندہ کاشتکاروں کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر منڈیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئے زرعی قوانین کا مقصد منڈیوں کو غیرضروری بناکر دو سالوں میں کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنا ہے۔ احتجاجی کسانوں کا تاہم کہنا ہے کہ ان قوانین سے ان کے شعبے میں عدم مساوات کو مزید وسعت ملے گی۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ حکومت کے قیمتوں کی ضمانت کے نظام کو کمزور کرنے سے 80فیصدچھوٹے اور غریب کسانوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ وہ کسان ہیں جو غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔کسانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئے زرعی قوانین کے تحت لائی جانے والی تبدیلیوںسے چھوٹے کاشتکاروں پر سب سے زیادہ اثر پڑے گا کیونکہ ان کی کم پیداوار انہیں سودے بازی کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ چھوٹے اور پسماندہ کاشتکار بڑے زرعی ماہرین کی نسبت اپنی پیداوار کے لئے کم قیمت وصول کرتے ہیں۔
حکومت اور کسانوں کے مابین جاری تعطل کے بیچ اقتصادی ماہرین زرعی قوانین میں تبدیلیوں کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک کو باقی ماندہ دنیا کے ساتھ جوڑنے یا وہاں تک پہنچنے کیلئے ہر شعبے کیلئے نئی قانون سازی ضروری ہے۔بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت زرعی شعبہ کو یورپ کے ہم پلہ لانا چاہتی ہے لیکن اس کیلئے وہ جو راستہ اختیار کررہی ہے وہ غلط ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ تبدیلیوں کا آغاز اس طرح کرے کہ کسان ان کو اختیار کرنے کیلئے راضی ہوں اور اس کیلئے عام لوگوں کا معیار زندگی تبدیل کرکے اُونچا کرنا پڑے گا۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جگی جھونپڑی میں زندگی بسر کرنے والے کسان کو منڈیوں کے جدید تقاضے اور مارکیٹ کے نئے اصول سمجھائے جائیں ۔کسان لیڈروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ زرعی شعبے میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جن کا مقصد عام کسانوں کی زندگی پر مثبت اثرات ہوں تاکہ کسانوں کا معیار زندگی تبدیل ہوکر اُن کی کاشتکاری کے معیار کو بھی بڑھا یاسکے۔اس کے بعد ہی جدید زرعی اصلاحات کا نفاذ ممکن ہوسکتا ہے، بصورت دیگر ملک میں تنائو اور کشیدگی کا موجودہ ماحول مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔