سرینگر // دور دراز علاقوں میں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے دعوﺅں کے باوجود اکثر علاقوں میں ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ کرناہ سب ضلع ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی کے نتیجے میںمریضوں کو کپوارہ اور سرینگر کے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔اس وقت کرناہ کے کئی ہیلتھ سینٹرایسے ہیں جہاں اَلو بول رہے ہیںان سینٹر وں میں ان سینٹروں کے ساتھ منسلک مریضوں کو معمولی ادویات بھی حاصل کرنے کیلئے ٹنگڈار آنا پڑتا ہے۔ معلوم رہے کہ اس وقت پورے بلاک میں 27ڈاکٹروں کی اسامیاں ہیں جس میں سے 15اسامیاں خالی پڑی ہیں۔پورے ہیلتھ بلاک کی حالت ایسی ہے کہ کل 137پیرا میڈیکل سٹاف کی اسامیاں یہاں منظور ہیں ،لیکن ان میں 70 اسامیوں پر عملہ ہی تعینات نہیں ہے۔ہیلتھ بلاک کرناہ کی حالت ایسی ہے کہ وہاں موجود ملازمین پہلے سے ہی پریشانی میں مبتلا ہیں کیونکہ انہیں کام کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ایسے ملازمین نے اگرچہ کووِڈ – 19کے دوران محنت اور لگن سے کام کیا لیکن اضافی بوجھ ہونے کے نتیجے میں وہ بھی ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق پورے کرناہ میں محکمہ صحت میں عملے کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے اور کرناہ سب ضلع ہسپتال جس پر 80ہزار آبادی کا دادومدار ہے یہاں ، 2سرجن ڈاکٹر 2فزیشن دو ماہر امراض خواتین دو بچوں او رایک ماہر امراض چشم کا ڈاکٹر ہونا ضروری ہے کیونکہ سرما کے موسم میں جب برف باری کی وجہ سے علاقہ ضلع ہیڈکواٹر سے کٹ جاتا ہے تو اس وقت ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے بیمار گھٹ گھٹ کر دم توڑ دیتے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹنگڈار سب ضلع ہسپتال کے بلاک میڈیکل افسر ڈاکٹر فاروق قریشی کا تبادلہ کرناہ ہونے کے بعد یہاں سے کوئی بھی حاملہ خاتون علاج کےلئے کپوارہ یا پھر سرینگر نہیں گئی ہے کیونکہ ان کی تعیناتی کے بعد ایسی جرائیاں کرناہ میں ہی انجام دی جاتی ہیں لیکن جب کبھی یہ واحد ڈاکٹر جس پر اضافی بی ایم او شپ کا بوجھ بھی ہے کبھی چھٹی پر چلا جائے تو ہسپتال کی حالت خراب ہو جاتی ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کرناہ میں ایک زنانہ ماہر امراض خواتین کی ڈاکٹر کی ضرورت ہے کیونکہ اس ہسپتال پر کرناہ کی 80ہزار آبادی کا دارومدار ہے ۔لوگوں کومحکمہ صحت نے کرناہ کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑا ہے۔وادی کے مختلف علاقوں سے کرناہ تعینات کئے گے ڈاکٹروں کےلئے بھی کرناہ میں ڈیوٹی دینا کافی پریشان کن ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ان کےلئے بہتر رہائشی کواٹر دستیاب نہیں ہیں ۔لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس علاقے کی جانب دھیان دے کر یہاں ماہر ڈاکٹر تعینات کئے جائیں تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔