سوال:۔ شریعت کی روشنی میں ائمہ مساجد کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟ کیا امام صاحب کے حق میں یہ کہنا مناسب ہے کہ امامت ایک پرائیوٹ نوکری ہے ( یعنی جب مالک چاہئے تو رکھے گا، نہیں چاہئے تو برخواست کریگا)؟۔
محمد سلطان بٹ
امام کے مقام کا احترام لازم
جواب:۔ مقتدی حضرات پر امام کے حقوق یہ ہیں ۔ امام کا احترام کرنا ۔ اس سے محبت کرنا اس کو معقول اور ضروریات پورا کرنے کی مقدار کے برابرتنخواہ دینا۔ اس کے رہنے سہنے کا مناسب اور آرام دہ انتظام کرنا۔ اس پر بے جا حکم نہ چلانا۔ غیر ضروری کاموں کا اُسے مکلف نہ بنانا۔ آپسی رسہ کشی میں امام کو طرف داری کرنے پر مجبور کرنے سے پرہیز کرنا، امام میں جس بات کی صلاحیت نہ ہو اُس بات کے پورا کرنے کا اُسے حکم نہ دینا ، امام کو کوئی ناگہانی ضرورت پڑے تو محلے والے اجتماعی طور پر اس ضرورت کو پرا کرنے پر سرگرم ہو جائیں۔ امام سے غلطی یا کوتاہی ہو جائے تو عفو و درگذر کرنا۔ اور معمولی بات پر امام کو معزول کرنے پر نہ تُل جاناو غیرہ۔
قران کریم اور احادیث میں امام کا مقام و مرتبہ بہت اونچا بیان کیا گیا ہے ہے اسلئے جو لوگ یہ کہیںکہ امامت ایک پرائیوٹ نوکری ہے اور مالک جب چاہئے برخواست کرسکتا ہے۔ اور اسی طرح جو لوگ یہ کہیں کہ امام کی حیثیت ہمارے گھر یا دکان کے ملازم کی طرح ہے تو یقیناً ایسے لوگ امام کے مرتبہ سے ناواقف ہیں، اور امام کی اس طرح کی توہین آگے اماموں سے محروم ہونے کا سبب بنے گا اور کوئی نماز پڑھانے والا نہ ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال: احادیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے ہر انسان کا مقدر طے کر رکھا ہے۔ انسان کب پیدا ہوگا، کہاں پیدا ہوگا، کیسے پیدا ہوگا، کب شادی ہوگی، کہاں ہوگی، کس کے ساتھ ہوگی، کب وفات ہوگی اور موت کیسے ہوگی، سب کچھ طے ہے، تو آپ بتا دیجئے کہ اگر کسی انسان کی موت اللہ نے خودکشی کرنے کی وجہ سے لکھی ہوگی، جبکہ خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے، تو اس میں خودکشی کرنے والے کا کیا قصور ہے؟
بلال احمد ڈار ۔مانو حیدرآباد
خودکشی، انسان کا اپنا عمل
جواب: خودکشی کرنا سخت ترین حرام کام ہے۔ حضرت نبی کریم ؐ کا مبارک ارشاد ہے کہ خودکشی کرنے والا قیامت تک اُسی عذاب میں مبتلا رہے گا جس آلے سے اُس نے خودکشی کی ہو۔ حضرت خباب بن الارث ایک سخت ترین جسمانی تکلیف میں مبتلا تھے اور اس سخت ترین اذیت کی وجہ سے بار بار دربارِ رسالت (ﷺ) سے انہوں نے استدعا کی کہ خودکشی کی اجازت دی جائے، مگر اجازت نہیں ملی۔ چنانچہ بقیہ ساری زندگی ایسی اذیت میں گذاری مگر خودکشی نہیں کی۔ تقدیر کا ایک حصہ انسان کے اختیار سے باہر ہے اور ایک حصہ اُس کے خود اختیاری کا ہے۔ کس انسان کی موت کب، کہاں اور کس طرح ہوگی، یہ سب کچھ مقدر میں لکھا ہو اہے۔ مگر جس وقت انسانی خودکشی کرتا ہے تو وہ پہلے خود ارادہ کرتا ہے۔ اسباب مہیا کرتا ہے۔ تدبیر جوڑتا ہے اور اپنے عزم و نیت سے یہ قدم اُٹھاتا ہے۔ اُسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اُس کی تقدیر میں کیا لکھا ہے، جب وہ خود یہ قدم اُٹھاتا ہے تو اس غلط قدم اٹھانے پر وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ یہ اقدام ہی اُس کا قصور ہے۔ وہ یہ قدم اس لئے نہیں اُٹھاتا کہ اس کے مقدر میں یہی لکھا ہے اور اس پر وہ مجبور ہے۔ بلکہ جو کچھ اُسے کرنا ہوتا ہے اللہ اپنے علم قطعی کی بنا پر پہلے ہی لکھ دیتے ہیں کہ فلاح شخص یہ کرے گا۔ اس کے لئے چند مثالیں سمجھئے۔
محکمہ موسمیات اطلاع دیتا ہے کہ فلاح دن بارش یا برف ہوگی۔ چنانچہ بارش ہوجاتی ہے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ محکمہ موسمیات کی اطلاع کی وجہ سے بارش ہوئی۔ کسی ڈاکٹر نے لاعلاج مریض کو کہاکہ یہ چند ماہ میں فوت ہوجائے گا اور مریض واقعی چند ماہ ہی میں فوت ہوا۔ اب مریض کے فوت ہونے کا سبب ڈاکٹر کی اطلاع نہیں ہے۔ اسی طرح کسی انسان کے متعلق خودکشی کا سبب اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر نہیں ہے بلکہ اُس انسان کا خوداقدامِ خودکشی ہے۔ جو واقعہ جس انسانی سے صادر ہونے والا ہے اللہ اپنے علم قطعی کی بنا پر پہلے ہی مطلع ہے۔ مگر واقعہ انسان کا خود کا عمل ہے، اسی پر ثواب و عذاب ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:آج کل بہت سارے لوگ ، جن کے سر سے بال گر گئے ہوں، نقلی بال سر پر لگاتے ہیں ۔ س کی ایک صورت “WIG” ہے۔ یہ بالوںکی ایک ٹوپی نما کیپ ہوتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ مصنوعی بال لگانا جائز ہے یا نہیں ؟ اور اگر لگائے گئے ہوں تو ان پر مسح کرنا صحیح ہوگا یا نہیں؟ اور اسی طرح غسل میں اگر اس ٹوپی یا مصنوعی بالوں کو ہٹائے بغیر غسل کیا جائے تو وہ غسل ادا ہوگا یا نہیں ؟
شوکت احمد …پٹن
مصنوعی بال لگانا حرام
جواب:-مصنوعی بال چاہے انسان کے بال ہوں یا جانوروں کے بال ہوں ۔ یہ ہر قسم کے بال لگانا سخت منع ہے ۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبال جوڑنے والوں اور بال لگوانے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ (بخاری ومسلم)۔ ایک خاتون نے دربارِ رسالتؐ میں عرض کیا کہ میری بیٹی کے سر کے بال جھڑ گئے ہیں ۔ اگر اُس کو نقلی بال نہ لگائوں تو ہوسکتاہے کہ اُس کا ہونے والا شوہر اُس سے نفرت کرے۔ تو کیا یہ نقلی بال لگانے کی اجازت ہے ؟ اس پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا کہ اس کی اجازت نہیں ہے ۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے دوسرے انسان یا حیوان (مثلاً گھوڑے) کے بال اپنے بالوں میں ملانا حرام ہے ۔بہرحال حدیث میں جس کام کی صریح اور صاف ممانعت موجود ہواُس کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ دورِ نبوتؐ میں تو عورتیں ہی یہ کام کرتی تھیں ۔ اس لئے ممانعت کا حکم اُن کے لئے ہی ارشاد ہوا۔ عورتوں کے لئے لمبے بال یقیناً مستحسن اور پسندیدہ ہیں لیکن اس کے باوجود جب اُن کو خارجی بال لگانے کی اجازت نہیں دی گئی تو مَردوں کے لئے کیسے اس کی اجازت ہوسکتی ہے ۔
بہرحال حدیث کی رو سے ’وگ‘ لگانے کی ہرگز اجازت نہیں ۔ جس شخص نے ’وگ‘ لگائی ہو اس کا نہ مسح درست ہے نہ غسل صحیح ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:ہمارے علاقے میں بڑے پیمانے پر بھنگ کی کاشت ہوتی ہے جس سے چرس اور گانجا تیار کیا جاتا ہے اور اس کے کاروبار کے ساتھ کافی لوگ منسلک ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ قرآن و حدیث میں چرس اور بھنگ کی حرمت کا کہیں ذکر نہیں لہٰذا یہ جائز ہے۔ اس کاروبار سے لوگ لاکھوں کی دولت کما چکے ہیں اور مکانات، باغات ، دکانات ،گاڑیاں اور بڑی بڑی جائیداد حاصل کر چکے ہیں۔ کئی ایک تو معززبن کر مساجد کی انتظامیہ کمیٹیوں میں بھی شامل ہوئے ہیں۔ براہ کرم ہمیں آگاہ کریں کہ کیا قرآن اور حدیث کی رُو سے بھنگ کی کاشت جائزہ ہے یا حرام۔ اس کا روبار سے پیدا کی گئی جائیداد، زمینیں اور انکی پیداوار میوہ جات وغیرہ حلال ہیں یا نہیں ۔اگر کوئی یہ کمائی مسجد شریف پر خرچ کرے یا اسی کمائی سے افطار کے وقت مسجد میں کھجوریں، میوے اور دوسری چیزیںبھیجے ،کیا اس سے روزہ داروں کو افطار کرائے کیا یہ جائز ہے کہ حرام؟
علی محمد اور دیگر ساتھی
عقل و شعور کو متاثر کرنے والی اشیاء پر شرعی حکم
بھنگ اور چرس کی کاشت اورتجارت حرام، اس کی کمائی کا چندہ مساجد میں استعمال کرنا ناجائز
جواب: اسلام نے تمام اُن منشیات کو حرام قر ار دیا ہے جو شراب کی طرح نشہ آور ہوں۔ اس کیلئے اسلام نے ایک اصول مقرر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو نشہ آور چیز انسان کی عقل و شعور کو اُس طرح متاثر کرے جیسے شراب تو جس طرح شراب حرام ہے اُسی طرح وہ نشہ آور چیز بھی حرام ہوگی۔ چنانچہ بخاری شریف میں یہ اصول ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے ( الخمر ماخامر العقل) اسلئے بھنگ ، چرس ،افیون اُسی طرح حرام ہے،جیسے شراب حرام ہے اور جیسے شراب کی وجہ سے دس افراد پر لعنت کی گئی ہے اُسی طرح بھنگ و چرس کا حکم بھی ہے۔ یعنی یہ طے ہے کہ چرس اور بھنگ اُگانے والے، اُس کی کاشت کرنے والے اُس کو کاٹنے والے، اُس کو نچوڑنے والے، اُس کو سکھانے والے ، اُس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والے اُس کا بزنس کرنے والے، اُس کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے والے سب مستحق لعنت ہیں جیسے کہ شراب کی وجہ سے ایسے ہی دس افراد پر لعنت ہے۔اس چرس و بھنگ کی تجارت سے کمائی گئی ساری دولت حرام ہے اور اُس دولت سے مکانات، زمین، باغ، گاڑیاں اور دوسرا جو بھی سامان یا مال خریدا گیا ہے وہ حرام ہی ہے ۔ اس حرام رقم سے مساجد کے لئے چندہ لینا بھی ناجائز ہے اور اگر وہ کوئی چیز مثلاً مائک، ٹینکی وغیرہ دیں تو ہر گز قبول نہ کی جائے۔ اُن کی دعوت، سحری و افطاری میں اُن کی فراہم کردہ ماکو لات و مشروبات بھی حرام ہی ہیں۔ یہ کہنا کہ چرس کو قرآن و حدیث میں کہیں حرام قرار نہیں دیا لہٰذا اس کا بزنس حرام نہیں ہے یہ شرعی اصولوں سے ناواقفی ہے یا حرام چیز کو اپنی غلط تاویلات سے حلال بنانے کی جاہلانہ کوشش ہے۔ شراب حرام ہے اور وجہ اس کا نشہ آور ہونا ہے۔ اب جس چیزمیں بھی شراب کا جیسا نشہ ہوگا وہ بھی حرام ہوگا۔ اسی وجہ سے براون شوگر بھی حرام ہے حالانکہ اس کا تذکرہ بھی کہیں قرآن و حدیث میں نہیں ہے آج کل بذریعہ انجکشن کتنی ہی منشیات کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر آئندہ کوئی نشہ آور شے بصورت گیس استعمال ہونے لگے ۔آج کل نوجوان نسل میں بوٹ پالش یا الکوحل سے تیارہ شدہ کئی اشیاء مثلاًCorrectionFluid ،thinnerاور Nail Polish Removerکو بھی بطور نشہ استعمال کیا جار ہا ہے ۔ یہ سب بطور منشیات استعمال ہوتے ہیں تو کوئی شخص یہ کہہ کر اس کے استعمال کو جواز کا حکم دے سکتا ہے کہ اِن کا تذکرہ قرآن و حدیث میں موجود نہیں ہے دراصل یہ ہے کہ نشہ کسی بھی شکل میں ہو وہ حرام ہے اور اس نشہ آور چیز کے بزنس سے کمائی ہوئی دولت بھی حرام ہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱- کسی شخص کے فوت ہونے پر بیوہ کا اس کے جائیداد میں کتنا حصہ شرعی دینا لازمی ہے۔ عموماً مشاہدے میں آیا ہے کہ بیوہ کو جوحصہ اداکیاجاتاہے وہ اس شرط پر اداکیاجاتاہے کہ اگر اس نے دوسری شادی کی تو وہ اس حق سے محروم ہوجائے گی۔ اس لئے عوام میں بھی اس کو تاحیات سمجھا جاتاہے اور بیوہ کے نام کے ساتھ لفظ ’’تاحیات تانکاح ثانی‘‘ اندراج کیاجاتاہے ، یہ کس حد تک درست ہے ؟
ایک سائل…واتھورہ
بیوہ کے حق وراثت اور نکاح ثانی کا کوئی تعلق نہیں
جواب:-شریعت اسلامیہ نے تقسیمِ وراثت میں فوت ہوئے شخص کی زوجہ کو ہرحال میں مستحق وراثت قرار دیاہے اور یہ قرآن میں صاف صاف موجود ہے کہ فوت ہونے والے شوہر کے ترکہ میراث میں سے زوجہ کو چوتھا (1/4)حصہ ملے گا ،اگر فوت ہونے والے شخص کی اولاد نہ ہو اور اگر اس کی اولادہوئی تو پھر زوجہ (بیوہ)کو کل ترکہ کا آٹھواں (1/8) حصہ دیا جائے۔ اس سے واضح ہواکہ بیوہ کو یہ حصہ قرآن نے دیا ہے۔یعنی اللہ نے یہ حصہ مقرر کیا ہے۔ اس لئے اس حصہ کے متعلق یہ کہنا کہ ’’یہ تاحیات یا نکاح ثانی ‘‘ ہے غلط ہے۔ نہ محکمہ مال کے اندراج کنندگان حضرات کے لئے ، نہ بیوہ کے لئے ، نہ بیوہ کے بھائیوں یا اولاد کے لئے یہ درست ہے کہ شریعت کے مقرر کردہ حصہ کو وقتی قرار دیں۔جیسے ہر وارث کو شریعت نے حصہ دیاہے اور اس کو مکمل اختیار دیا ہے کہ وہ جیسے چاہے اس میں تصرف کرے۔ چاہے فروخت کرے یا صدقہ کرے۔ یا کسی کو ہبہ کرے یا اْس کے متعلق شرعی طور پروصیت کرے۔ یا چاہیں جو کرے ہروارث کی طرح بیوہ کو بھی یہ حق ہے۔ اسلئے تاحیات یا نکاح ثانی کہنا ، یاسمجھنا ،لکھ کر رکھنا ہرگز درست نہیں ہے۔بہرحال شریعت اسلامیہ کی رو سے بیوہ کو ملنے والی وارثت اْس کا ایسا ہی حق ہے جیسے دوسرے وارثوں مثلاً بیٹوں کوملنے والی وراثت ہوتی ہے۔