نئی دہلی// کانگریس پارلیمانی پارٹی کی نو منتخب لیڈر سونیا گاندھی نے موجودہ سیاسی بحران کو کانگریس کے لئے منفرد قرار دیتے ہوئے پارٹی رہنماؤں سے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر عوامی مفاد کے مسائل کو مؤثر طریقے سے اٹھانے کی اپیل کی اور کہا کہ انہیں پورا بھروسہ ہے کہ پارٹی واپسی کرے گی۔محترمہ سونیا گاندھی نے ہفتہ کے روز یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے سینٹرل ہال میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر منتخب ہونے کے بعد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی بحران کے جس دور سے گزر رہی ہے ، وہ غیر معمولی ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے پارٹی لیڈروں اور کارکنوں کو سڑک سے پارلیمنٹ تک جوش و خروش کے ساتھ لوگوں کے حقوق کی لڑائی لڑنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شکست سے سبق لینے کی ضرورت ہے اور انسانی بنیاد پر اور اعتماد کے ساتھ ملک کے عوام کی لڑائی لڑني ہے ۔ ملک کے عوام کو کانگریس سے توقع ہے اور ان کی توقعات پر پارٹی کو کھرا اترنا ہے ۔ مفاد عامہ کی لڑائی لڑ کر ہی پارٹی پھر اقتدار میں واپسی کرے گی۔ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے ) کی چیئر پرسن نے کہا کہ ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ انتخابات میں شکست سے حوصلے پست نہیں ہونے دینا ہے ۔ لوگوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ کانگریس پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک ان کی توقعات پر کھری اترے گی۔ کانگریس کو مسلسل مفاد عامہ کے مسئلے اٹھانا ہوگا اور حکومت کو عوام سے کئے گئے وعدے پورا کرنے اور شفاف طریقے سے کام کرنے کے لئے پابند کرنا ہے ۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی نو منتخب لیڈر نے کہا کہ پارٹی کے سامنے کئی طرح کے چیلنج ہیں۔ ان میں سے کئی چیلنجوں پر گزشتہ دنوں اس کی سب سے بڑی پالیسی ساز اکائی کانگریس ورکنگ کمیٹی میں بھی تبادلہ خیال ہوا ہے ۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اور کانگریس کو پھر سے مضبوط پوزیشن میں لاکر کھڑا کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں کانگریس کے ارکان کی تعداد آنے والے دنوں میں پارٹی کے سامنے چیلنج کے حالات پیدا کرے گی ، اس لئے حکومت کا مقابلہ کرنے کے لئے حزب اختلاف کے ذہن رکھنے والی جماعتوں کے ساتھ اسٹریٹجک مطابقت برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر طریقے سے اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے لئے پارٹی کے تمام ارکان کو عوام کی مشکلات کو اہمیت دینا ہے ۔ محترمہ سونیا گاندھی نے اس سلسلے میں گزشتہ لوک سبھا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں 44 اور راجیہ سبھا میں 55 رکن ہونے کے باوجود کانگریس صدر راہل گاندھی کی قیادت میں پارٹی نے دونوں ایوانوں میں مؤثر کردار ادا کیا اور مکمل طاقت کے ساتھ حکومت کو بار بار کٹہرے میں کھڑا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ لوک سبھا میں کانگریس اور یو پی اے کی مخالفت کے سبب ہی حکومت بہت سی تاریخی دفعات کو ختم کرنے کی اپنی پالیسی میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ کانگریس نے حکومت کے اچھے کاموں کے لئے اس کے ساتھ کئی مواقع پر تعاون بھی کیا ہیکانگریس صدر کی قیادت کی ستائش کرتے ہوئے محترمہ سونیا گاندھی نے کہا کہ مسٹر راہل گاندھی نے صدر کی ذمہ داری بحسن وخوبی نبھائی ہے ۔ پورے ملک میں انہوں نے پارٹی کو ایک فارمولے میں پرونے کے لئے انہوں نے جم کر کام کیا اور دن رات ایک کرکے کانگریس کی مضبوطی کے لئے کام کیا۔ محترمہ سونیا گاندھی نے کہا کہ کانگریس صدر کی اسی محنت نے کئی ریاستوں میں کانگریس کو زندہ کیا ہے ۔ حال میں پارٹی نے چھتیس گڑھ، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں جیت کا پرچم لہرایا ہے ۔ کانگریس صدر کے طور پر انھوں نے ملک بھر میں ہر کارکن اور کروڑوں ووٹروں کا احترام اور پیار حاصل کیا ہے ۔ انہوں نے پارٹی کے کارکنوں سے بھی اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کے صف اول کے شہسوار ہیں ۔ گزشتہ پانچ برسوں میں انہوں نے بلاغرض کے پارٹی کے لئے کام کیا ہے ۔ حکمراں پارٹی کی طرف سے تیار کیے گئے غیر معمولی ماحول میں بھی انہوں نے متحد ہوکر کانگریس اور ملک کے لئے کام کیا۔ انہوں نے کانگریس پر اعتماد ظاہر کرنے والے 12.5 کروڑ ووٹروں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔یو این آئی