محمد امین اللہ
دنیا کا ہر فرد بے انتہا اس کشمکش میں اپنی پوری زندگی مبتلا رہتا ہے کہ وہ زندگی کے دوڑ میں ہر وہ چیز حاصل کر لے جو لوگوں میں اس کو ممتاز اور با وقار بنا دے ۔ اس کے پاس زندگی کی ہر وہ آسائش اور سہولت موجود ہو جو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ ہو۔ دولت، طاقت ، عہدہ ، سب سے زیادہ اس کے پاس موجود ہو اور اس کو حاصل کرنے کے لئے وہ دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے بعض اوقات وہ جرائم کرنے سے نہیں چوکتا ۔ یہ تو انفرادی سطح پر بھی ہمہ وقت جاری رہتا ہے اور دنیا کی ہر قوم اور ملک اس کشمکش اور برتری کی جنگ میں مبتلا ہے جو چھوٹی بڑی جنگوں کا باعث بنی رہتی ہیں ۔ دنیا میں برتری حاصل کرنے کے لئے انسانوں کو ذبح کیا جا رہا ہے ۔ یہ اس وقت تک جاری ہے جب سے انسان اس دھرتی پر قدم رکھا ہے اور تا قیامت جاری رہے گا ۔ اس جنگ و جدل میں ابتدا سے انسانوں کو دو خطرات لاحق ہیں ۔ پہلی چیز بھوک اور دوسری جان و مال کا خطرہ ۔ انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے پاس جتنی وافر مقدار میں اشیاء خوردونوش ہو مگر وہ اپنی بھوک سے زیادہ کھا نہیں سکتا اور سردی گرمی سے بچنے کے لئے اور درندوں سے حفاظت کے لئے صرف خند گز پر مشتمل اک محفوظ کمرہ چاہئے اور یہ چیزیں بھی اس دنیا کی عارضی زندگی کے لئے ہے جس کا انجام اس کو معلوم نہیں ہے ۔ وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ وہ ایک مسافر ہے اور یہ دنیا چند روزہ ٹھہرنے کی ایک سرائے ہے اور تا قیامت اس کا ٹھکانہ دو گز زمین کا ایک گڑھا ہے جسے قبر کہتے ہیں ،اس حقیقت سے آشنا ہونے کے باوجود اور اپنی نظروں سے بام عروج پر موجود انسانوں کے انجام کا مشاہدہ کرنے کے باوجود ہوس کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ دوسروں کے لئے باعث ہلاکت بن جاتا ہے اور اسی کو کامیابی سمجھتا ہے ۔ انسانوں کی کل آبادی دو گروہوں پر مشتمل ہے ایک حق والے اور دوسرے باطل پرست ۔
اس کشمکش میں اہل حق کو باطل پرستوں سے جس آزمائش کا سامنا ہوگا وہ بھوک اور جان و مال کا خوف ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ باطل پرست اپنے جیسے انسانوں کے لئے نقصان دہ نہیں بلکہ یہ ہوس پرست اتنے خود غرض اور مادہ پرست ہوتے ہیں کہ اپنوں کا استحصال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ یورپ امریکہ اور دیگر عیسائی دنیا والوں نے اسی ہوس پرستی اور برتری حاصل کرنے کے لئے دو عالمی جنگیں لڑی ہیں، جس میں کروڑوں انسان تہہ تیغ کئےگئے ۔
ایک ادنیٰ سا مسلمان یا رتبے اور دولت والا ہے، اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بے عملی کے باوجود اسے جنت ملے ۔ وہ دنیا کی ہر آزمائش سے محفوظ و مامون رہے ۔ اس دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز پراللہ کے رسولؐ نے فرمان ہے ، پہلا اور آخری کامیابی کا راز یہ ہے کہ اللہ کی زمین پر رہنے والے انسان اللہ کی بندگی کو اختیار کریں ۔ کامیابی حاصل کرنے کے لئے نماز کا قیام اور صبر یعنی استقامت اس لئے ہے کہ جبر کا مقابلہ صبر سے ممکن ہے جو انبیاء اور رسولوں کی سنت ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے اور اس پر مستقم ہو گئے تو ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہ گھبراؤ نہ غم کرو، تمہارے لئے اللہ کی جانب سے جنت کی بشارت ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ ہم اس دنیا اور آخرت میں تمہارے ساتھ ہیں اور دنیا وہ آخرت میں ہر وہ چیز ملے گی جو تم چاہو گے، یہ اللہ کی جانب سے عظیم انعام ہے۔اور جن لوگوں انکار کیا اور طاغوت کو اپنا ولی بنایا، اللہ ان کے نور بصیرت کو چھین کر اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔’’اے لوگو کیا تمہیں ایسی تجارت نہ بتا دیں جو تمہیں عذاب الیم سے نجات دیدے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولؐ پر اور جہاد کرو اپنی جان ومال سے، یہی بھلائی کا راستہ ہے ۔ اللہ تمہیں معاف کر دے گا ،تمہاری خطاؤں کو درگذر فرما دے گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور تمہیں پاکیزہ رہائش گاہیں عطا کرے گا اور تمہیں جلد ہی فتح و نصرت سے نوازے گا ۔‘‘( سورہ الصف )۔یہی ایمان و یقین کی زاد راہ تھی کہ 50 سالوں کے دوران عرب کے بدو ایمان کی دولت سے مالا مال ہوکر میدان جہاد و قتال میں اترے اور قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کے مالک بن گئے ۔
دنیا اور آخرت کی کامیابی کے لئے تقوی یعنی خوف خدا ، اطاعت خداوندی اور اطباء رسول ؐ کے ساتھ زندگی بسر کرنا ۔تقویٰ ہدایت کا سر چشمہ ہے ۔ تقویٰ جنت کے حصول کے لئے لازم ہے ۔ تقویٰ فلاح کا ضامن ہے ۔ متقی اللہ کی نظر میں برگزیدہ اور معتبر ہے ۔ اللہ کا تقویٰ ہی اللہ کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی و دنیا میں امامت کے حصول کا ذریعہ ہے ۔
اللہ کے رسولؐ نے حج الوداع میں ارشاد فرمایا ، آج کے بعد کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی گورے کو کالے پر اور نہ رنگ و نسل کی بنیاد پر بڑائی حاصل ہے ۔ آپؐ نے فرمایا،ہر عمل کا دار و مدار نیتوں پر ہے ۔ یہ وہ کامیابی حاصل کرنے کا راز عیاں ہے جس کی پردہ داری چودہ صدیوں پہلے رحمت اللعالمینؐنے کی اور صحابہ کرام نے عملی جامہ پہنا کر دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے، جب مسلمانوں نے اس راستے کو ترک کیا تو ذلت ورسوائی مقدر بنیں ۔
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
( علامہ اقبال)