ڈوڈہ //ڈیلر ایسوسی ایشن نے اپنی بقایاجات کو لے کر ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کے دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے محکمہ کے آفیسران پر رشوت ستانی کا الزام عائد کیا۔ ایسوسی ایشن کے ضلع صدر ہری کرشن نے اس موقع پر بولتے ہوئے کہا کہ محکمہ خوراک،امور صارفین و عوامی رسدات میں کام کر رہے سینکڑوں ڈیلر محکمہ کی عدم توجیہی سے سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈوڈہ ضلع کی 90 فیصد آبادی پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر ہے اور وہاں راشن پہنچانا کوئی آسان کام نہیں۔ہری کرشن نے کہا کہ لاکھوں روپے کا کرایہ محکمہ کے پاس زیرالتواء ہے اور ہر بار انہیں یقین دہانی کرائی جاتی ہے لیکن کوئی عملی کام نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے اے ڈی پر رشوت خوری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ میں رشوت خوری عروج پر ہے اور ہم نے رشوت دینے سے انکار کیا ہے جس کی وجہ سے ہمیں ستایا جارہا ہے۔ محمد حنیف ملک نے کہا کہ باقی اضلاع کو چھوڑ کر ڈوڈہ میں ہی ٹنڈر سسٹم لاگو کیا اور مذکورہ ٹھیکیدار اپنی من مانی سے کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ڈیلروں کا عرصہ چار سال سے کرایا بقایا ہے وہیں کمیشن بھی ادا نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ POS مشین کے استعمال سے راشن کی تقسیم کاری میں بھی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈیلر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں زیادہ تر مزدور طبقہ گھروں سے باہر رہتے ہیں اور ان کے اہل خانہ کو راشن دینے میں کافی پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلروں کو POS کے تحت راشن نہیں دیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ایسوسی ایشن کے وفد نے رواں ماہ کی پانچ تاریخ کو ڈی سی ڈوڈہ سے ملاقات کرکے اپنے مسائل سے آگاہ کیا تھا اور محکمہ خوراک، امور صارفین و عوامی رسدات میں ہورہی بے ضابطگیوں کی تحقیقات و ڈیلروں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر ڈپٹی کمشنر نے اے ڈی سی کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دے کر رپورٹ طلب کی تھی۔ ڈیلر ایسوسی ایشن نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنچائتی نمائندگان کی طرف سے تیار کردہ راشن کارڈوں کی فہرستوں میں بھی محکمہ نے ردو بدل کیا ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے ڈوڈہ ضلع کے راشن ڈیلروں کے ساتھ ہورہی ناانصافی کو دور کرنے و رشوت خور آفیسروں کے خلاف کارروائی کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکم ستمبر سے ضلع بھر میں کام چھوڑ ہڑتال شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔