اننت ناگ//گورنمنٹ ڈگری کالج ڈورو،اننت ناگ میں عملہ کی کمی اور بنیادی ڈھانچے کے فقدان کی وجہ سے یہا ں زیرتعلیم طلبہ اورطالبات کے تعلیمی مستقبل پر سوالیہ لگ چکا ہے۔کانگریس اورپیپلزڈیموکریٹک پارٹی کے دوراقتدار میں سال2005میں قائم کیا گیا یہ کالج زبوں حالی کا شکار ہے۔ڈھلوان زمین کے دامن میں واقع اس کالج میں فی الوقت 1300لڑکے اورلڑکیاں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔دوماہ قبل کالج کے چھ اساتذہ کاتبادلہ عمل میں لایا گیا لیکن ان کی جگہ تاحال نئے اساتذہ کوتعینات نہیں کیا گیا۔کالج میں کیمسٹری،بائیوکیمسٹری ،انگریزی ،اقتصادیات مضامین پڑھانے کیلئے اساتذہ نہیں ہیں ،اس کے علاوہ فزیکس اورسائیکالوجی مضامین پڑھانے کیلئے بھی گزشتہ ایک سال سے کالج میں کسی لیکچرار کو تعینات نہیں کیا گیا۔پولٹیکل سائنس پڑھانے کیلئے کالج میں ایک استاد ہے جوکثیرتعداد میں زیرتعلیم طلباء کیلئے ناکافی ہے۔کالج میں زیرتعلیم خورشیداحمد نامی ایک طالب علم نے کہا کہ حکومت نے رواں ماہ کی 15تاریخ سے تعلیمی سرگرمیاں شروع کی ہیں لیکن ڈوروڈگری کالج میں مختلف مضامین پڑھانے کیلئے اساتذہ دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہورہے ہیں۔کالج میں 1300طلباء کیلئے پانچ کمرے دستیاب ہیں ۔جگہ کی کمی کے باعث اساتذہ طلبہ کو موٹر گیراج اور ٹین کے عارضی شیڈمیں پڑھانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔کالج کیلئے سائنس بلاک تعمیر کرنے کو دوسال قبل منظوری حاصل ہوئی ہے اوراس کیلئے8 .85کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں لیکن ٹھیکیدار اور محکمہ تعمیرات عامہ کے درمیان رسہ کشی کی وجہ سے اس کی تعمیرکاکام ٹھپ ہے ۔بلاک کی تعمیرکیلئے محکمہ نے اب تک پانچ بار ٹینڈر نکالے اور یہ معاملہ عدالت میں فی الوقت زیرسماعت ہے ۔ٹینڈر دوڑ میں شامل ایک ٹھیکیدار نے کہا کہ محکمہ نے پہلے اس عمارت کی تعمیرکاکام مجھے تفویض کیاجبکہ دوسری بار مجھے نااہل قراردیا گیا ،لیکن اسی محکمہ نے اس سے بڑے پروجیکٹوں کیلئے اُسے اہل قراردیا ہے ۔اس ٹھیکیدار نے الزام لگایا کہ کسی مخصوص ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچانے کیلئے محکمہ نے جان بوجھ کراُسے نااہل قرار دیااوروہ معاملہ کو عدالت میں لے گئے۔اس سلسلے میں ایگزیکیٹوانجینئر آر اینڈ بی ،قاضی گنڈ ریاض احمدنے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ کالج میں جگہ کی تنگی کو مدنظر رکھ کر محکمہ نے 2منزلہ سائنس بلاک تعمیر کرنے کے لئے ٹیندر طلب کئے تھے جس کے لئے فنڈس بھی مختص رکھے گئے لیکن جس ٹھکیدار کے حق میں کام الاٹ ہوا تھا، اُس کے کاغذات سرکل آفس میں ضابط کے تحت نہیں پائے گئے جس کی وجہ سے ٹینڈر منسوخ کرنے پڑے، تاہم ٹھیکیدار نے اب معاملہ کورٹ میں لیا ہے اور اُنہیں کورٹ سے جلد فیصلہ آنے کی اُمید ہے ۔کالج میں3سال قبل اگنو سٹیڈی سنٹر چالو کیا گیا تاہم نامعلوم وجوہات کی بناء پر سنٹر کو بھی اب بند کیا گیا ہے ۔شاہ آباد سٹیزن فورم کے صدر جاوید احمد کا کہنا ہے کہ کالج میں ڈورو،ویری ناگ،کپرن اور بانہال سے طلاب پڑھنے کے لئے آتے ہیں تاہم معقول سہولیات نہ ہونے کے سبب طلاب و کالج عملہ کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ،جگہ کی تنگی کے باعث دن بھر بچے کھلے میدان یا ٹین شیڈوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیںجس سے بچوں کے ذہنوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے ۔اُنہوں نے ایل جی انتظامیہ سے معاملہ کے حوالے سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔