عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// موسمیاتی مرکز سرینگر نے جمعرات کی سہ پہر ایک ایڈوائزری جاری کی، جس میں 22جون تک جموں و کشمیر ڈویژن کے کئی مقامات پر تیز بارش، ژالہ باری اور تیز ہوائوں کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ نے متعلقہ علاقوں کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اندر رہیں اور ڈھیلے ڈھانچے، بجلی کے تاروں، کھمبوں اور پرانے درختوں سے دور رہیں۔محکمہ نے کہا کہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران وادی کشمیر میں گریز اور اننت ناگ میں بادل پھٹنے کے واقعات پیش آئے۔
شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں گریز کے آن لائن آف کنٹرول کے دور دراز علاقے میں واقع وادی تلیل کے ترتی کلو گائوں میں بدھ کے روز زبردست بادل پھٹنے کی اطلاع ملی۔ اچانک اور مسلسل پانی اور ملبے کے تیز بہا ئونے گائوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا کر دی جس سے درجنوں رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا اور سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ گئی۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔سیلاب جیسی اس صورتحال سے مقامی لوگوں میں گھنٹوں خوف و ہراس پھیل گیا اور مکین اپنے گھر بار چھوڑ کر اپنے بچوں اور جانوروں کو بچاتے ہوئے اونچی جگہوں پر بھاگ گئے۔بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سرہامہ، سری گفوارہ میں بادل پھٹے جس سے کئی کنبے بال بال بچ گئے تاہم پانی مکانوں میں گھس گیا۔بادل پھٹنے سے کنگ پوش کالونی زیر آب آگئی اور یہاں خانہ بدوشوں کے عارضی خیمے اکھڑ گئے۔اسکے علاوہ زرعی اراضی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔حکام نے بتایا کہ اس ماہ کے شروع میں، ایک اور بادل پھٹنے کی اطلاع ملی تھی جس میں جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کے پہاڑی بٹھوئی علاقے میں 4 جون کی شام کو کئی مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔ تاہم، اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔جموں خطے میں حالیہ دنوں میں یہ پانچواں بادل پھٹنا ہے۔ منگل کو جموں و کشمیر کے تین اضلاع ،ڈوڈہ، کشتواڑ اور پونچھ میں چار بادل پھٹنے کی اطلاع ملی، جس سے کئی علاقوں میں سیلاب اور سڑکیں بند ہوگئیں، حالانکہ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، حکام نے بتایا۔مہور سب ڈویژن کے بٹھوئی علاقے میں بادل پھٹنے سے پانی اور ملبہ کا اچانک اضافہ رہائشی علاقوں میں چلا گیا۔ طوفانی سیلاب سے کئی مکانات ڈوب گئے، گھریلو سامان کو نقصان پہنچا اور رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔