سرینگر//معروف افسانہ نگار اورکشمیر یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مرحوم پروفیسر ریاض پنجابی کی اہلیہ ڈاکٹر ترنم ریاض کے انتقال پرکشمیر یونیورسٹی ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ اور سماج کے مختلف طبقوں بالخصوص ادابی حلقوں نے زبردست رنج و غم اظہار کر کے مرحومہ کیلئے مغفرت کی دعا کی ہے ۔ وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر طلعت احمد ، رجسٹرار ڈاکٹر نثار احمد میر اور یونیورسٹی کے دیگر سینئر عہدیداروں نے جمعرات کو ڈاکٹر ترنم ریاض کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔وائس چانسلر نے ڈاکٹر ترنم کو ایک ممتاز مصنف قرار دیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ملک کے ادبی منظر نامے پر انمٹ نقوش چھوڑدئے۔ پروفیسر طلعت نے سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعا کی۔رجسٹرار ڈاکٹر نثار اور دیگر سینئر کارکنان نے مرحومہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر ترنم کی ملک کے ادبی شعبے میں وسیع تر شراکت کو یاد کیا۔انہوں نے کہا’’ہم سب غم اور دکھ کی اس گھڑی میں سوگوار کنبہ کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘۔ادھرشعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ اور آیوسا کے با ہمی اشتراک سے ایک تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔موصولہ بیان کے مطابق اس آن لائن اجلاس میں کورونا جیسی مہلک وبا کے دوران دنیائے ادب کے معروف اور منفرد فکشن نگار،ناقدین اور مشاہیر ادب اور صحافیوں کے اس دنیا سے چلے جانے کوادب کا ایسا خسارہ قرار دیا گیا جس کو آسانی سے پورا نہیں کیا جا سکتا ۔ پروفیسر غلام ربانی (بنگلہ دیش) نے کہا کہ آج کے اس جلسے میں بڑے بڑے ادباء اور ناقدین کو سنتے ہوئے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ واقعی یہ مرحومین ادب کا بڑا سرمایہ تھے۔الازہر یونیورسٹی مصر کے سابق وائس چانسلرپروفیسر یوسف عامر نے کہا کہ آج ہمارا یہ تعزیتی جلسہ ایسے ماحول میں منعقد ہو رہا ہے جہاں ہر طرف کورونا وباء کا چرچاہے اس وباء نے بڑے بڑے علماء ، شعراء اور ادباء کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔پروفیسر ریاض احمد نے کہا کہ ڈاکٹر ترنم ریاض ایسی عظیم شخصیت کی مالک تھیں جن کو دیکھ کر ہمارے اندر کام کرنے کا جوش آتا تھا۔پروفیسر محمد کاظم نے کہا کہ ترنم ریاض کے جانے سے جو خلاہ پیدا ہوا ہے اس کو پُر ہونے میں کافی وقت لگے گا۔کلچرل اکیڈیمی نے ترنم ریاض کے انتقال کو اردو زبان و ادب کے لئے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں اکیڈیمی کے صوبائی دفتر واقع لال منڈی سرینگر میں اکیڈیمی سٹاف کا ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں ترنم ریاض کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اْن کی مغفرت کے لئے دعا کی۔ اجلاس میں غمزدہ خاندان کے ساتھ تعزیت بھی کیا گیا۔ولر اردو ادبی فورم کشمیر کے عہدیداروں اور جملہ اراکین نے اپنے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایک تعزیتی بیان میںفورم کے صدر طارق شبنم،چیف کاڈی نیٹر ڈاکٹر ریاض توحیدی اور نگران راجہ یوسف نے ترنم ریاض کی ادبی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کے انتقال پر اپنے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے اور ان کے انتقال کو اردو زبان وادب کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔انہوں نے مرحومہ کی جنت نشینی کی دعا کی ہے۔گلشن کلچرل فورم کشمیر کے جنرل سیکریٹری گلشن بدرنی ،صدر سید بشیر کوثر اور دیگر اراکین نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔بزم شعروادب سنگرامہ کے صدر یوسف صمیم اوربزم کے دیگر ارکان نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی مغفرت کیلئے دعا کی ہے ۔حقانی میموریل ٹرسٹ نے معروف افسانہ نگار ڈاکٹر ترنم ریاض کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ٹرسٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر ترنم ریاض نے اپنے فن کی بنیادپر بین الاقوامی سطح پربھی اپنا لوہا منوالیا۔کشمیر بُک پرموشن ٹرسٹ کی طرف سے ترنم ریاض کے انتقال پر رنج غم کا اظہار کیا گیا۔ اپنے ایک تعزیتی بیان میں ٹرسٹ نے ترنم ریاض کے انتقال کو اردو ادب کے لئے ایک عظیم نقصان قرار دیا گیا اور انہیں اردو دنیا ہمیشہ قدر کی نگاہوں سے یاد رکھے گا۔ ٹرسٹ نیترنم ریاض کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انکے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس دوران اردو کی دیگر انجمنوں اور شخصیات نے بھی ترنم ریاض کو خراج عقیدت پیش کیا ہے جنمیں اردو اکادمی کے نورشاہ، وحشی سعید،محمد زمان ٓزردہ،جاوید ماٹجی،صوفی علی محمد اور جاوید کرمانی کے علاوہ میزان پبلشرز نے بھی مرحومہ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔