بیجنگ// چین کے شمالی علاقے میں کان کنوں سے بھری بس بریک فیل ہونے سے حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں تقریباً 20 کان کن ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے۔ خبر رساں ادارے نے چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ڑنہوا' کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’چین کے خود مختار خطے اندرون منگولیا میں حادثہ اس وقت پیش آیا جب کان کنوں سے بھری بس کا بریک فیل ہو گیا اور وہ بے قابو ہو کر حادثے کا شکار ہو گئی‘۔ بس کو حادثہ ہفتے کی صبح پیش۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثے میں 15 کان کن جائے حادثہ پر ہی دم توڑ گئے تھے، جبکہ 5 دوران علاج دم توڑ گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 زخمی کان کن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ حکام کی جانب سے واقعے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں تاہم رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ’کان‘ کون سی تھی۔ چین کی کانوں میں خطرناک حادثات عام ہیں جہاں کوئلے کی پیداواری حالات میں بہتری کی کوششوں اور غیر قانونی کانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے باوجود حفاظتی حالات ابتری کا شکار ہیں۔ کوئلے کی نجی کانیں، سرکاری کان کے برعکس کم احتیاطی تدابیر اختیار کرتی ہیں۔ 13 جنوری کو چین کے شمالی علاقے میں کوئلے کی کان بیٹھنے سے 21 کان کن ہلاک ہو گئے تھے۔ شانسی صوبے میں ہونے والے حادثے کے وقت زیر زمین کان میں 87 افراد کام کررہے تھے۔ گزشتہ برس دسمبر میں چین کی جنوب مغربی کوئلے کی کان میں ایک حادثے میں 7 کان کن ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے تھے۔ اس سے قبل اکتوبر میں شانڈونگ صوبے میں کان میں ہونے والے حادثے میں 21 کان کن ہلاک ہوئے تھے اور صرف ایک کان کن زندہ بچ سکا تھا۔ چین کی نیشنل کول مان سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2017 میں چین میں کوئلے کی کان میں مختلف حادثوں میں 3 سو 75 افراد ہلاک ہوئے تھے۔نر منگولیا کی اس کان سے زنک، سیسہ اور تانبا نکالا جاتا ہے، مقامی حکومت نے بس حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تفتیشی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ انر منگولیا کی یہ کان دیگر کانوں کی نسبت سہولتوں سے لیس اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ قائم کی گئی تھی۔