جاوید اقبال
مینڈھر//تحصیل مینڈھرکے چھترال علاقہ سے تعلق رکھنے والے مقامی افراد نے انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دریا کا پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے اور لوگ دو دن سے شدید خطرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، مگر اس کے باوجود انتظامیہ نے ابھی تک علاقے کی خبر تک نہیں لی۔مقامی لوگوں کے مطابق دریا پر قائم کلوٹ ٹوٹ چکا ہے، جس کے باعث دریا کا رخ آبادی کی طرف مڑ گیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف لوگوں کو خوفزدہ کر دیا ہے بلکہ قیمتی املاک کے بڑے نقصان کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔سماجی کارکن تنویر اقبال قریشی نے الزام لگایا کہ کلوٹ ٹوٹنے اور دریا کے رخ کی تبدیلی کے بعد بھی کسی افسر نے علاقے کا دورہ تک نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام تنہائی اور بے بسی کی حالت میں ہیں اور فوری مدد کے منتظر ہیں۔انہوںنے جموں و کشمیر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر چھترال علاقے کا دورہ کیا جائے، نقصانات کا جائزہ لیا جائے اور متاثرین کو جلد از جلد مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی زندگی دوبارہ معمول پر لا سکیں۔