آسٹریلیا//ایک صدی سے کم عرصے میں آسٹریلیا سے برطانیہ کا سفر جو سمندر کے راستے کبھی چھ ہفتوں کا ہوا کرتا تھا اب صرف 17 گھنٹوں کی ایک فلائٹ میں سمٹ گیا ہے۔آسٹریلیا کی کوانتس ایئرلائن نے سنیچر کو آسٹریلیا سے برطانیہ کے لیے اپنی پہلی براہ راست پرواز کا آغاز کر دیا ہے۔یہ فلائٹ بغیر کہیں رکے 9 ہزار میل کا سفر 17 گھنٹوں میں طے کر کے لندن پہنچی۔ایک صدی سے کم عرصے میں آسٹریلیا سے برطانیہ کا سفر جو سمندر کے راستے کبھی چھ ہفتوں کا ہوا کرتا تھا اب صرف 17 گھنٹوں کی ایک فلائٹ میں سمٹ گیا ہے۔یہ فلائٹ 24 مارچ کو پرتھ کے مقامی وقت کے مطابق شام چھ بج کر 45 منٹ پر روانہ ہوئی ہے اور بغیر کہیں رکے 17 گھنٹوں کا سفر طے کر کے لندن کے مقامی وقت کے مطابق اتوار کو صبح سویرے 5 بجے لندن پہنچی۔جب آسٹریلیا سے لندن تک کا یہ روٹ شروع کیا گیا تھا تو اسے ’کینگرو روٹ‘ کا نام دیا گیا تھا۔کوانتس ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ 'جب 1947 میں کوانتس نے لندن تک کا یہ کینگرو روٹ شروع کیا تھا تو اس وقت اسے منزل تک پہنچنے میں چار دن لگتے تھے جس دوران اسے نو جگہوں پر رکنا پڑتا تھا۔‘اب اتنی طویل براہ راست پرواز کیسے ممکن ہوئی؟اس فلائٹ کے لیے بوئنگ کا ڈریم لائنر 787-9 استعمال کیا جا رہا ہے جو ایندھن کے معاملے میں بوئنگ 747 کے مقابلے میں دو گنا باکفایت ہے۔انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ دنیا کی دوسری طویل ترین پرواز تھی اور فی الحال دنیا کی سب سے طویل ترین فلائٹ کا اعزاز قطر ایئرویز کے پاس ہے جو دوہا سے نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ کا 14 ہزار 529 کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے۔اس کے علاوہ ایمریٹس اور یونائیٹڈ ایئرلائنز بھی بغیر رکے 14 ہزار کلومیٹرسے زیادہ کا سفر طے کر چکی ہیں۔سنگاپور ایئرلائن بھی بغیر کہیں رکے سب سے طویل فلائٹ کا اپنا اعزاز واپس حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔سنگاپور ایئرلائنز سنگاپور سے نیویارک کا 15 ہزار 300 کلومیٹر کا سفر طے کرتی تھی لیکن اس نے 2013 میں یہ سفر روک دیا تھا جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ اس کے لیے چار انجن والا جہاز ناکافی تھا۔وہ اس سفر کے لیے ایئربس A340-500s استعمال کرتی تھی۔ایئر بس کے طیارے اے 350 کے تازہ ترین ماڈل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بغیر کہیں رکے 17 ہزار 960 کلومیٹر کا سفر طے کر سکے گا۔ اگر ایسا ہوا تو سڈنی سے لندن تک کا طویل سفر بھی بغیر کہیں رکے ممکن ہو سکے گا۔آسٹریلیا کی حکومت کو امید ہے کہ اس سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔2015 میں برطانیہ سے چھ لاکھ ساٹھ ہزار افراد نے آسٹریلیا کا سفر کیا تھا اور وہ حکام اس میں اضافے کی امید کر رہے ہیں۔سنگا پور نے نیو یارک کی وہ فلائٹ اس لیے بھی معطل کر دی تھی کیوں کہ اکانومی کلاس میں 19 گھنٹے کا سفر برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔ اور پورے طیارے کو بزنس کلاس بنا دینا مالی طور پر قابل برداشت نہیں تھا۔اب ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ طویل فلائٹوں کے دوران اکانومی میں سفر کرنے والے مسافروں پر ہونے والے منفی اثرات کو کیسے کم کیا جا سکے۔یونیورسٹی آف سڈنی کے چارلس پرکِنز سینٹر سے منسلک پروفیسر سٹیو سمپسن کوانتس ایئرلائن کے ساتھ کام کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ طویل سفر کے دوران انسان کے جسم پر کیا اثر پڑتا ہے۔ان کے مطابق فلائٹ کے دوران انسان کی 'باڈی کلاک' یا جسم کے اوقات متاثر ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر کے مطابق آپ اس قسم کے سفر سے پہلے ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جس سے آپ کے جسم کو مدد مل سکتی ہے۔'فلائٹ سے چند روز پہلے صبح سویرے جاگ جائیں، ایئر پورٹ پہنچ کر لنچ جلدی کر لیں جیسا کہ دس بجے صبح، فلائٹ کے دوران دیا گیا پہلا کھانا آپ کا رات کا کھانا بن جائے گا اور پھر چاہے سہ پہر کے چار ہی کیوں نا بجے ہوں آپ سو جائیں گے'کوانتس کی اس افتتاحی فلائٹ میں 20 مسافروں کو مانیٹر کیا جائے گا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ سفر کے دوران ان کے جسم کا ردعمل کیا ہوتا ہے جس میں درجہ حرارت بھی شامل ہوگا جوکہ نیند کے لیے بہت ضروری ہے۔