طویل جد و جہد اور بے حساب قربانیوں کے بعد ملک آزاد ہوا۔ سراج الدولہ ، ٹیپو سلطان اور اشفاق اللہ خاں سے لیکر منگل پانڈے ، اور رانی لکشمی بائی اور بھگت سنگھ تک لاکھوں مسلمانوں اور ہندئوں نے ملک کی آزادی کے لئے اپنی جانیں قربان کیں۔ اتنی قر بانیوں کے بعد 15 اگست1947 ، یومِ آذادی کا وہ دن آیاکہ ملک کے عوام ذات و مذہب کی تفریق کے بغیر سکوں کی زندگی گزار سکیں اور ظلم و استحصال کا خاتمہ ہو جائے۔ لیکن ہمیں احساس ہی نہیں ہوا کہ کب ہم نے اپنی متعین راہ چھوڑ دی اور اندھیروں میں بھٹک گئے۔ آج کی صورت حال یہ ہے کہ ہم آزاد تو ہیں لیکن کسی پہلو چین نہیں ہے۔ مجاہدین آزادی کے قافلہ سالار مہاتما گاندھی نے ایک بار اپنے خوابوں کے ہندوستان کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا تھا’ میں ایک ایسا ہندوستان بنانا چاہتا ہوں جس میں سماج کا غریب ترین آدمی بھی فخر کر ے، اسے یہ احساس ہو کہ اسے بنانے میں اس کا بھی ایک حصہ ہے، ایک ایسا ہندوستان بنانا چاہتا ہوں جس میں ذات پات کی بنیاد پر کوئی تفریق اور امتیاز نہ ہو ، ایسا ہندوستان جس میں سبھی اقوام ایک ساتھ امن و امان سے رہتے ہوں، چھوا چھوت کے لئے جس میں جگہ نہ ہو، عورتوں کو بھی وہی حقوق و تحفظ حاصل ہوں جو مردوں کو ہیں ۔ یہی میرے خوابوں کا ہندوستان ہے۔ لیکن مجاہدین آزادی کے یہ خواب آج چوہتر سال بعد بھی شرمندہء تعبیر ہوتے نظر نہیں آتے۔ اگر ذکر غریبی کا کریںتو جو مناظر ہمیں ایک صدی قبل پریم چند کے افسانوں اور ناولوں میں نظر آتے ہیں ان کی جھلک آج بھی پورے ملک میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اکیسویں صدی کے اکیس سال گذرنے کے بعد بھی ہمارا ملک غریبی سے نجات حاصل نہیں کر سکا ہے ۔ آزادی کے بعد سے ہی حکومتوں نے غریبی کے خاتمے کے لئے بہت سی اسکیمیں چلائیں۔ جو زیادہ تر بد عنوانی کی نذر ہو گئیں۔ تمام اسکیموں پالیسیوں اور پروگراموں کے باوجود ملک کی آدھی آبادی غریب کی غریب ہی رہی۔ سرکاریں اعداو شمار کی نمائش کر کے اپنی پیٹھ تھپ تھپاتی رہیں۔ ہاں! ان اسکیموں س متعلق سرکاری ملازمین اور دلال ضرور مالامال ہوتے گئے۔ حکومتوں کے غریبی کے خلاف چلائے جا رہے پروگراموں میں منریگا اور فوڈ سیکیورٹی اسکیم اہم پروگرام ہیں۔ منریگا کی حقیقت کسی بھی گائوں میں جا کر دیکھی جا سکتی ہے۔ جہاں زیادہ تر کام مشینوں سے لیکر مزدوری کی رقم خرد برد کر دی جاتی ہے۔ غریبی کا تعلق صرف آمدنی سے جوڑ کر اصل حالت کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ لوگوں کو میسر روٹی، کپڑا مکان ، صحت ، تعلیم اور روزگار کے حاصل مواقع سے ہی اصل حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ غریبوں اور امیروں کے بیچ کی کھائی لگاتار چوڑی ہوئی ہے۔ امیر اور امیر ہوتے گئے ہیں اور غریب اور زیادہ غریب۔ اگر ذات پات کی تفریق پر نظر ڈالی جائے تو یہ ہندوستانی سماج میں ہزاروں سال سے موجود رہی ہے۔ لیکن آزادی کے بعد 1950 میں آزاد بھارت کے آئین کے نفاظ کے ساتھ ہی ذاتوں پر مبنی امتیاز قانونی طور پر ختم کر دیا گیا تھا۔ لیکن پورے ملک میں ، خاص کر دیہی علاقوں میں یہ آج بھی رائج ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ذات پات کا نظام ہندئوں کے مذہبی عقیدے کا حصہ ہے اور اس کا ماخذ مقدس کتاب ’ منو اسمرتی‘ ہے۔ذات پات کی تفریق کو لے کر شہری علاقوں میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن دیہی علاقوں میں یہ اب بھی پوری طرح موجود ہے۔ اتر پردیش کے ہاتھرس میں ایک دلت لڑکی کو ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ معاملے کے طول پکڑنے پر ہی کاروائی ہو سکی ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آزادی کے اتنے طویل عرصے کے بعد بھی سماج میں نچلی ذات کے سمجھے جانے والے لوگ کس طرح برابری کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں۔ سال در سال اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن مجرموں کے با اثر ہونے کی وجہ سے اکثر انصاف نہیں مل پاتا۔ اگرچہ چھوا چھوت کے خلاف 1955 میں اور ان طبقات کے تحفظ کے لئے 1989 میں قوانین وضع کئے جا چکے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ قوانین پر عمل درٓمد کا ہے۔ جس میں اکثر جانب داری آڑے آتی ہے۔ ایک اور مسلہ عوام کے ساتھ پولیس کی زیادتی کے متعلق ہے جس پر حال ہی میں سپریم کورٹ نے سخت تنقید کی ہے ۔ چیف جسٹس رمنا نے کہا ہے کہ’ آزادی کے 74 سال بعد بھی پولیس حوالات میں قیدیوں کو اذیت پہونچائی جاتی ہے پولیس تھانوں میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزی دیکھنے میں آتی ہےاور قیدیوں کو ٹارچر کیا جاتا ہےجب کہ ازروئے دستور ایسا نہیں ہونا چائے۔ لیکن بظاہر حالات میں تبدیلی کا امکان نہیں نظر آتا۔
جہاں تک فرقہ وارانہ مسائل کا تعلق ہے تو ان کی شروعات تو غیر ملکی حکمرانوں نے اپنے divide and rule کے نظریے کے مطابق کی تھی اور جس کے نتیجے میں آزای کے وقت ملک کی تقسیم کا اندوہناک سانحہ برداشت کرنا پڑا تھا۔یوں تو آزادی کے بعد سے ہی فرقہ پرست طاقتیں قومی ایکتا کو برباد کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ اس کی شکار مسلم اقلیت زیادہ رہی، اس کو جذباتی مسائل میں الجھا کر تعلیم اور روزگار سے بیگانہ کرنے کی کوششیں بھی جاری رہیں،فروارانہ فسادات کا لمبا سلسلہ چلتا رہا ، بابری مسجد کوشہادت کرنے والے لگاتار طاقت ور ہوتے گئے اور انجام کار حکومت اسی حکمت عملی کے تحت حاصل کرلی ہے ۔ اس کے بعد سلسلہ شروع ہوا ماب لنچنگ کا۔ کبھی گئوکشی کے بہانے ،کبھی زبردستی جے شری رام کہلانے کو لیکر مارپیٹ کرنا ا ور قتل کر دینا عام بات ہو گئی ۔ جسکی تازہ مثال چند روز قبل کانپور میں ہوا واقعہ ہے جہاں ایک غریب رکشے والے کو زبردستی جے شری رام کہلانے کے لئے اس کی گڑ گڑاتی ہوئی معصوم بچی کے سامنے بری طرح زدوکوب کیا گیا۔ اس طرح کے زیادہ تر معاملات میں سیاسی پشت پناہی شامل رہتی ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں اتنا زہر بھر دیا گیا ہے کہ آس پاس کے رہنے والے ، اکٹھے بیٹھنے اُٹھنے والے ایک دوسرے کے دشمن نظر آنے لگے ہیں۔ سیاست دانوں کو اپنی سیاسی اغراض پوری کرنے کے لئے ذات پات کی تفریق اور مذہبی منافرت ہی راس آتی ہے ۔ جس کے باعث حقیقی مسائل کی طرف توجہ نہیں ہو پاتی اور ہر معاملے میں حکومتیں جوابدہی سے بچ جاتی ہیں۔
آزادی کے اتنے طویل عرصے کے بعد بھی خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم کا سلسلہ جاری ہے ۔ جہیز کے لئے قتل، جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات ملک کے طول و عرض میں جاری ہیں۔ گھریلو تشدد، اور رحم مادر میں بیٹیوں کا قتل بھی عام بات ہے اور یہ سب حکومت کے بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو کے نعرے کے باوجود ہو رہا ہے۔ آزادی کی جد و جہد میں اپنا سب کچھ قربان کر دینے والوں نے یہ سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایک دن ملک کے ایسے حالات ہونگے کہ تقریباََ آدھی آبادی غریبی کی حالت میں جینے کو مجبور ہوگی۔ذات پات کی تفریق جاری رہے گی اور مذہبی منافرت سیاست کا اہم ستون ہوگی۔ خواتین پر مظالم کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ ان سارے مصائب کے باوجود بس ایک اطمینان کی بات ہے کہ آزادہیں۔ ان حالات میں ڈاکٹر علیم عثمانی مرحوم کا پچاس برس قبل1972 کے جشنِ یومِ آذادی کے موقع پر پڑھا گیا شعر بر وقت لگتا ہے۔؎
عمر بھر خشک اِک آنسو نہ ہو آزاد تو ہیں
چَین چاہے کسی پہلو نہ ہو آزاد تو ہیں
فون نمبر۔ 9450191754