پرویز احمد
سرینگر //انسانی ہمدردی کے ایک والہانہ اظہار میں پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بین الاقوامی رضاکار تنظیم کی مدد سے سٹیم سے عطیہ کرنے مانسبل سے تعلق رکھنے والے ایک 3سالہ بچے کی جان بچائی ہے۔ جموں و کشمیر میں اس نوعیت کی پہلے پیوندکاری ہے جس میں 3سالہ بچے کی سٹیم سیل پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک رضاکار کی سیٹم سیل سے 100فیصد مل رہی تھی۔ منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ڈائریکٹر سکمزپروفیسر محمد اشرف گنائی نے بتایا کہ اس جراحی کو بیرون ریاستوں میں کرانے پر 30سے 40لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے جبکہ سکمز میں مذکورہ مریض کے والدین کو صرف 10سے 12لاکھ روپے کا خرچہ آیا ہے۔ڈائریکٹر نے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ آئندہ 2سال کے اندر اندر ہم سکمز صورہ میں دیگر پیوندکاریوں کا بھی عمل شروع کریں گے اور اس کیلئے ہم کام کررہے ہیں۔ عام لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے ڈائریکٹر سکمز نے کہا کہ تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سٹیم سیل اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کیلئے عطیہ کرنے کیلئے رجسٹریشن کراکر اپنا انسانی فریضہ انجام دیں۔
اس موقع پر شعبہ ہیمٹولوجی کے سربراہ ڈاکٹر سجاد گیلانی نے کہا کہ یہ جراحی خاص ہے کہ کیونکہ اس میں والدین یا کسی بھی قریبی رشتہ دار کا بون میرو بچے کے ساتھ نہیں مل رہا تھا اور ہم نے اس بون میرو عطیہ کیلئے بین الاقوامی سطح پر عطیہ کی اپیل کی تھی جس میں کئی لوگوں نے رجسٹر کرایا تھا لیکن پولینڈ سے تعلق رکھنے والے سٹیفن کا بون میرو بچے سے 100فیصد ملا تھا ۔ سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ میں کلیدی رول ادا کرنے والے ڈاکٹر ریشم روشن نے بتایا ’’ یہ مریض ہمارے پاس پچھلے ایک سال سے آیا تھا۔ڈاکٹر ریشم نے مزید کہا ’’ بچے ہمارے پاس ایک نایاب بیماری جس کو ہم طبی زبان میں (Hemophagocytic lymphohistiocytosis) کہتے ہیں، یہ معدافتی نظام میں جنم سے موجود ایک نایاب بیماری ہوتی ہے۔ڈاکٹر ریشم نے بتایا کہ اس بچے کو ہمارے پاس اس کے والدین نے لایا جس کا ایک بچہ 3سال قبل اسی بیماری سے فوت ہوگیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ مریض کو گنگا رام ہسپتال علاج کیلئے لے گئے تھے لیکن وہاں ڈاکٹروں نے علاج کیلئے تقریبا 40لاکھ روپے کی مانگ کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری کا واحد علاج بون میرو ٹرانسپلانٹ ہوتا ہے اور اسلئے ہمیں عطیہ کرنے والے کی ضرورت ہوتی ہے، عام طور پر عطیہ کرنے والابھائی بہن ہوتا ہے لیکن اس کا بون میرو کنبہ میں کسی سے نہیں ملتا تھا ۔عطیہ کرنے والوں میں ایک راستہ ہوتا ہے کہ ہم بیرون ریاستوں اور بیرون ممالک سے عطیہ کرنے والوں سے اپیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کی تفصیلات World Marrow donar Registryمیں ڈالیں لیکن اس کا صحیح طریقے یہ ہوتا ہے کہ یہاں لانے کیلئے ہم کو ٹڑانسپورٹیشن چارج ادا کرنے پڑتے ہیں جو قریب 10سے 12لاکھ روپے ہوتے ہیں کیونکہ یہ صرف خلیوں کو منتقل کرنا ہوتا ہے اور اس کو منتقل کرنے کا عمل کافی پیچیدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تشخیص کے بعد مذکورہ بچے کا بون میرو ٹرانسپلانٹ کیا گیا ۔ اس موقع پر بچے کے والد محمد اشرف شیخ ساکنہ مانسبل نے کہا کہ اس نایاب پیوندکاری سے اس کے بچے کی جان بچے ہے جس کیلئے میں شعبہ ہیموٹولوجی کے تمام ڈاکٹروں کا شکر گزار ہوں۔ اس دوران ڈائریکٹر سکمز نے ٹیم میں موجود دیگر ڈاکٹر صاحبان ڈاکٹر انشاء اور ڈاکٹر آفاق کی بھی سراہنا کی جنہوں نے اس پیوندکاری کی جراحی میں اہم رول ادا کیا ۔ اس موقع پر شعبہ ہیمٹولوجی کے سینئرڈاکٹروں کے علاوہ سینئرریزیڈنٹوں اور جونیئر ریزیڈنٹ بھی موجود تھے۔