مشتاق الاسلام
پلوامہ//ضلع پلوامہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہائی ڈینسٹی سیب کی کاشت میں نمایاں ترقی کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے اہم باغبانی اضلاع میں شامل ہو چکا ہے۔ مقامی باغبانوں کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 20فیصد زرعی اراضی، جس میں روایتی سیب کے باغات، بادام کے باغات اور دیگر کھیتی باڑی شامل تھی، کو ہائی ڈینسٹی باغات میں تبدیل کیا گیا۔ اس تبدیلی نے اگرچہ جدید باغبانی کو فروغ دیا لیکن اس کے ساتھ کئی نئے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔تین دہائیوں سے باغبانی سے وابستہ متعدد کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ہائی ڈینسٹی باغات کی توسیع کے ساتھ روایتی باغات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ لیف مائنر بیماری نے وادی خصوصا ضلع پلوامہ میں سیب کی فصل کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق بیماری پر موثر قابو نہ پانے کی وجہ سے ہر سال زرعی ادویات پر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود بیماری کی شدت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔قصبہ پلوامہ سے تعلق رکھنے والے باغبان ادریس ملک کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے درآمد کیے جانے والے ہائی ڈینسٹی پودوں کو کم از کم ایک سال تک لازمی قرنطینہ میں رکھا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی نئی بیماری یا نقصان دہ کیڑے کو مقامی باغات تک پہنچنے سے پہلے روکا جا سکے۔ ان کے مطابق اگر ابتدا ہی میں سخت قرنطینہ نظام نافذ کیا جاتا تو آج باغبان لیف مائنر جیسے سنگین مسئلے سے دوچار نہ ہوتے۔باغبانوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران محکمہ باغبانی لیف مائنر بیماری کے موثر تدارک میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق فیلڈ عملے کی محدود موجودگی، بروقت رہنمائی کے فقدان اور غیر سائنسی انداز میں زرعی ادویات کے استعمال نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف سیب بلکہ دیگر باغبانی اور زرعی فصلوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ضلع کے شالہ ٹکنہ اونتی پورہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کاشتکار نے مطالبہ کیا کہ حکومت کے پاس ہائی ڈینسٹی اسکیم کے تحت آنے والے کل رقبے، ہر سال مختلف عمل درآمدی ایجنسیوں (PEs) کی جانب سے فراہم کیے گئے پودوں کی تعداد، قرنطینہ مراکز کی تفصیلات اور پودوں کی اصل خریداری کے بلوں کا مکمل، شفاف اور عوامی ریکارڈ ہونا چاہیے تاکہ اس پورے نظام میں جوابدہی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔کاشتکار طارق عزیز نے کہا کہ زرعی ادویات کی قیمتوں میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے، مگر بیماریوں پر قابو پانے میں کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق وادی کشمیر، بالخصوص پلوامہ میں لیف مائنر کا حملہ انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، جبکہ محکمہ باغبانی عملی سطح پر مثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔باغبانوں نے حکومت اور محکمہ باغبانی سے مطالبہ کیا ہے کہ لیف مائنر سمیت دیگر بیماریوں کے تدارک کے لیے سائنسی بنیادوں پر جامع حکمت عملی مرتب کی جائے، درآمدی پودوں کیلیے سخت قرنطینہ نظام نافذ کیا جائے، معیاری زرعی ادویات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے اور فیلڈ عملے کو مزید فعال بنا کر باغبانوں کو جدید تکنیکی رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ پلوامہ کی باغبانی اور عالمی معیار کے سیب کی پیداوار کو درپیش خطرات کا مثر سدباب کیا جا سکے۔