سرینگر //پردھان منتری نیشنل ڈائلیسز پروگرام (PMNDP) کے تحت جموں و کشمیر میں قائم ہونے والے 7ڈائلیسز سینٹروں پرسست رفتاری سے کام جاری ہے۔جموں و کشمیر میں پردھان منتری نیشنل ڈائلیسز پروگرام کے تحت جموں کشمیر کے 20اضلاع میں ڈسٹرکٹ ڈائلیسز سینٹر دو مراحل میں قائم کرنا تھے۔ پہلے مرحلے میں 13 اضلاع میںڈائلیسز سینٹر قائم کئے گئے، ان میں اننت ناگ، جموں،بارہمولہ، سرینگر،کٹھوعہ، ادہمپور، راجوری، ڈوڈہ، پلوامہ، کولگام، پونچھ،کپوارہ اور کشتواڑ شامل ہیں۔یہ مراکز سال 2018میں قائم کئے گئے۔ دوسرے مرحلے میں 7ڈائلیسز سینٹروں کا کام جولائی 2020تک مکمل ہونا تھا ‘‘۔ان میں شوپیان اور گاندربل کے علاوہ بانڈی پورہ، بڈگام،سانبہ، ریاسی، رام بن کے مراکز شامل ہیں، لیکن ان پر کام نہ ہونے کے برابر چل رہا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ بعض مراکز پر کام سرے سے ہی نہیں ہورہا ہے۔نیشنل ڈائلیسز پروگرام کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر عبدالرشید پرہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ 7ڈایلیسز سینٹروں پر گزشتہ سال جولائی میں کام مکمل ہونا تھا لیکن عالمی وباء کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ گاندربل اور شوپیان میں ڈیلیسز سینٹروں میں مشینوں کو نصب کیا گیا ہے اور ریلیز آرڈرجاری کردیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا’’ شوپیان اور گاندربل کا ڈائلیسز سینٹر مارچ کے آخری دنوں تک کام کرناشروع کردے گا لیکن دیگر چار ڈائلیسز سینٹروں کو مکمل کرنے میں ابھی وقت درکار ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکزی سرکار نے جموں و کشمیر میں تمام اضلاع میں مفت ڈائلیسز سینٹر قائم کرنے کاا علان کیا تھا لیکن 3سال کا عرصہ گذرنے جانے کے باوجود بھی یہ مراکز مکمل طور پر فعال نہیں بن سکے ہیں اور 5مراکز پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ان سرکاری ڈائلیسز مراکز پر بی پی ایل زمرے کے تحت آنے والے مریضوںکی مفت ڈائلیسزہوگی جبکہ خطبہ افلاس سے اوپر زندگی گزر بسر کرنے والے مریضوں کو 950روپے بطور فیس ادا کرنے پڑتے ہیں۔ پرائیویٹ کلنکوں پر ڈائلیسز کی فیس 2500ہے ۔