عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے کل ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ محکمہ کی طرف سے سینٹر فار اِنوویشن، ٹیکنالوجی اینڈ گورننس (سی آئی ٹی اے جی )کے تعاون سے تیار کی جا رہی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پالیسی کے اِبتدائی مسودے کے اہم نکات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور اس کا مقصد یہ ہے کہ نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور جموں و کشمیر میں اِنفراسٹرکچر اور عوامی خدمات کی ترقی کو تیز کرنے کے لئے ایک سازگار ماحول بنایا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے عالمی بہترین طریقوں کا حوالہ دیتے ہوئے ورلڈ بینک کے معروف ایس ٹی اِی پی ماڈل کا ذکر کیا اور اسے ایک متحرک اور خود ارتقا ئی فریم ورک قرار دیا جو کم سے کم طریقہ کار کی رْکاوٹوں کے ساتھ پروجیکٹ کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کی سہولیت فراہم کرتا ہے۔
اْنہوں نے جموں و کشمیر کی اِنتظامی ڈھانچے، ترقیاتی ترجیحات اور مقامی ضروریات کے مطابق اسی نوعیت کا ایک اِدارہ جاتی ماڈل تیار کرنے پر زور دیا۔اْنہوںنے سی آئی ٹی اے جی کو مزید ہدایت دِی کہ وہ مختلف شعبوں میں قابل عمل پی پی پی منصوبوں کی ایک جامع فہرست تیار کرے اور ساتھ ہی ایسا مضبوط اِدارہ جاتی میکانزم اور عملی فریم ورک بھی قائم کرے تاکہ پالیسی کے نوٹیفکیشن کے بعد ان کی بروقت تکمیل ممکن ہو سکے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری خزانہ شیلندر کمار نے کہا کہ مجوزہ پالیسی کا بنیادی مقصد نجی سرمایہ کاری سے فائدہ اْٹھاتے ہوئے عوامی اثاثے تشکیل دینا اور عوام کو معیاری خدمات فراہم کرنا ہے۔ اْنہوں نے زور دیا کہ اگرچہ قومی اور بین الاقوامی بہترین تجربات سے رہنمائی حاصل کی جائے، تاہم پالیسی کو جموں و کشمیر کی مقامی ضروریات، ترقیاتی ترجیحات، چیلنجوں اور مواقع سے ہم آہنگ رکھا جانا چاہیے۔میٹنگ مختلف محکموں سے موصول ہونے والی تجاویز کو شامل کرکے مسودہ پالیسی کو مزید بہتر بنانے اور نجی سرمایہ کاری کومتحرک کرنے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو تیز کرنے اور جموں و کشمیر میں دیرپا اِقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے قابل ایک جامع، شفاف اور سرمایہ کار دوست پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق رائے کے ساتھ اِختتام پذیر ہوئی۔