سرینگر//پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں آگ لگ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر سے تشدد کی اطلاعات ہیں اور عمران کے حامی آگزنی اور توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ وہیں، عمران خان کو پاکستانی اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی جھٹکا لگا ہے، کیونکہ اس نے عمران کی گرفتاری برقرار رکھی ہے۔عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دی ہے۔ تشدد کے پیش نظر پورے پاکستان میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ موبائل انٹرنیٹ کے بعد اب ٹویٹر سروس بند کر دی گئی ہے۔ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ وزارت داخلہ کی ہدایات پر ملک بھر میں موبائل براڈ بینڈ خدمات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ اور فیس بک سمیت تمام سوشل میڈیا سائٹس کو بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان منگل کو کچھ مقدمات کی سماعت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تھے۔ جیسے ہی ان کی گاڑی ہائی کورٹ کے اندر داخل ہوئی، فوری طور پر پیرا ملٹری فورس کے جوان ہائی کورٹ میں داخل ہوئے اور جب عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ کے اندر بائیو میٹرک جانچ کروا رہے تھے تو پاکستانی فوج کے رینجرز شیشے توڑتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے اور انہیں گرفتار کر لیا۔ عمران کی پارٹی پی ٹی آئی نے ابتدائی طور پر ان کی گرفتاری کو اغوا قرار دیا تھا۔عمران خان کو گرفتار کرنے کے بعد پاک رینجرز انہیں گھسیٹ کر گاڑی تک لے گئے۔ ان کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد شہر اور ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہونے لگے۔ سابق وزیراعظم کی گرفتاری کے بعد ماحول اتنا خراب ہوا کہ حکومت کو پورے ملک میں دفعہ 144 نافذ کرنا پڑی۔عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ان کی جماعت پی ٹی آئی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچی تھی اور عدالت سے سابق وزیراعظم کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ چیف جسٹس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور فوری طور پر تمام اہلکاروں کو منگل کی سہ پہر ہی کمرہ عدالت میں طلب کر لیا۔