جی کیو کامران
وادی بھر میں لگاتار رونما ہونے والے ڈوبنے کے اچانک اور دلخراش واقعات نے کئی ہنستے کھیلتے خاندانوں میں صف ماتم بچھا دی ہے۔پہلگام میں ایک خاندانی پکنک اس وقت ہولناک تباہی میں تبدیل ہو گئی جب تصویر کھینچنے کی کوشش میں ایک نوجوان لڑکا تند و تیز لہروں میں جاگرا۔یہ دیکھ کر باپ کی شفقت ہے تاب ہو گئی اور انھوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر بیٹے کی جان بچانے کے لیے خطرناک لہروں میں چھلانگ لگا دی۔ اگرچہ وہاں پر موجود مقامی نوجوانوں نے بیٹے کو زندہ باہر نکال لیا۔ لیکن بدقسمت والد پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گیا۔جس کی لاش چھ روز بعد پولیس، ایس ڈی آر ایف کے اہلکاروں اور مقامی رضاکاروں کی مدد سے بر آمد کر لی گئی۔جس دن پہلگام کا یہ المیہ پیش آیا ٹھیک اسی روز ضلع بانڈی پورہ کے سریندر نالہ میں میں ایک اور باپ بیٹا پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئے، اگرچہ والد کی جان بچائی گئی۔لیکن اس کا لختِ جگر پانی کی تیز رفتار لہروں کے نذر ہوگیا۔اسی طرح ٹنگمرگ کی ندی میں گر کر تین سالہ معصوم بچہ دم توڑ گیا۔جبکہ سرینگر کے نگین جھیل میں ایک اور نوجوان لڑکا خاموش موت کی آغوش میں سو گیا۔
غرقابی اب کشمیر میں حادثاتی اموات کی خاموش مگر سب سے بڑی وجوہات میں ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (SDRF) کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ سال 2025 میں غرقابی کے نتیجے میں 65 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ محض 20 افراد کو زندہ بچایا جا سکا اور متعدد افراد لاپتہ ہوگئے۔
غرقابی ایک تیز رفتار اور خاموش قاتل ہے جو توجہ ہٹنے پر نہایت خاموشی سے وقوع پذیر ہوتی ہے۔اس کے وجوہات عمر اور حالات کے مطابق نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہیں۔
چھوٹے بچوں کے لیے پانی کی گہرائی اہمیت نہیں رکھتی۔بڑوں کی توجہ ہٹتے ہی معصوم بچہ محض چند انچ پانی میں پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں ڈوب سکتا ہے۔چھوٹے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے زیادہ تر حادثات حفاظتی رکاوٹوں کی عدم موجودگی کے باعث ہوتے ہیں۔غیر محفوظ سوئمنگ پول،کھلے رہائشی کنویں،تالاب اور مقامی ندیاں چھوٹے بچوں کو پانی تک ایسی آسان رسائی فراہم کرتی ہیں جو چند لمحوں میں انہیں موت کی آغوش میں دھکیل دیتی ہیں۔ دوسری جانب بالغ افراد کے ساتھ ڈوبنے کے یہ سانحات عام طور پر اس وقت پیش آتے ہیں جب وہ پانی کے تیز بہاؤ کو معمولی سمجھتے ہیں یا اپنی تیراکی کی صلاحیتوں پر حد سے زیادہ بھروسہ کر لیتے ہیں۔کمزور یا نا تجربہ کار تیراک سب زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں علاوہ ازیں مرگی( epilepsy) یا آٹزم (autism) جیسے طبی مسائل کے شکار اشخاص آسانی سے ایسے حادثات کے شکار ہو جاتے ہیں۔
عام طور پر غفلت پسندی کی روش ہی ان حادثات کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ممنوعہ علاقوں میں نہانا، تیز رفتار دریاوں کے کنارے کھیلنا، یا خطرناک مقامات پر تصاویر اور سیلفیز کھینچنے کا جنون تفریح کے لمحوں کو بربادی میں بدل دیتا ہے۔کشتی رانی اور گہرے پانی میں ہونے والی اموات کی ایک بڑی وجہ منظور شدہ لائف جیکٹ یا ذاتی فلوٹیشن ڈیوائس (flotation devices ) کا استعمال نہ کرنا ہے۔ علاوہ ازیں اچانک سیلابی ریلے(flash floods) ناگزیر ماحولیاتی خطرات پیدا کر دیتے ہیں جو حکام کے قبل از وقت انتباہات کو نظر انداز اور قدرت کی حدود کا احترام نہ کرنے کی وجہ سے مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔
ایسے المناک سانحات کو روکنے کے لیے سخت نگرانی، تعلیم، اور ہنگامی تیاری پر مبنی ایک کثیر جہتی حکمت عملی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اولین اور اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ بڑے(والدین اور سرپرست) بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ بچوں سے اگر چند لمحوں کے لیے بھی توجہ ہٹ جائے، تو یہ لاپرواہی ہولناک تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو خطرناک پانی کے ذخائر کے نزدیک اکیلے نہ جانے دیں اور سیر و تفریح کے دوران انہیں ہمیشہ اپنی پہنچ میں رکھیں۔ گھروں کے اندر بھی باتھ روم کے دروازے بند رکھنا، ٹائِلٹ پر ڈھکن لگانا، سوئمنگ پولز کے گرد حفاظتی باڑ کھڑی کرنا اور رہائشی کنوؤں یا تالابوں کو ڈھانپنا شیر خوار بچوں کو اس خاموش موت سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
بچوں کو پانی سے تحفظ کی باقاعدہ تربیت فراہم کرنا اور تیراکی سکھانا خطرات کو کافی حد تک کم کر سکتا ہے۔ یہ مہارت نہ صرف ذاتی تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ کسی دوسرے ڈوبتے ہوئے شخص کو بچانے کے امکانات کو بھی بڑھاتی ہے۔ کشتی رانی یا گہرے پانی میں اترتے وقت کوسٹ گارڈ سے منظور شدہ لائف جیکٹ کا استعمال لازمی ہونا چاہیے، ہمیں ہوا سے بھرے ایسے کھلونوں یا ‘واٹر ونگز پر انحصار نہیں کرنا چاہیے جو تحفظ کا محض ایک جھوٹا احساس دیتے ہیں۔ مزید برآں، اچانک سیلابی ریلوں (Flash Floods) کے دوران عوامی لاپرواہی خودکشی کے مترادف ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ مقامی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ بروقت انتباہات اور انخلاء کے احکامات پر سختی سے عمل کریں۔
ڈوبنے کے حادثات میں کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن (CPR)کی بنیادی معلومات ایک زندگی بچانے والی کلید ہے۔ غرقابی کے شکار افراد کو عام چسٹ کمپریشن (سینہ دبانے) سے پہلے فوری طور پر منہ سے سانس دینی چاہیے، کیونکہ ڈوبنے والے شخص کے لیے آکسیجن کی فوری کمی ہی سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے۔ایسے حادثات کے دوران ہمیں ان ہونہار اور مخلص رضاکاروں کی دل کھول کر حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لوگوں کو بچانے یا ان کے اجسادِ خاکی برآمد کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ حال ہی میں ضلع ڈوڈہ سے تعلق رکھنے والے ابو حمزہ نامی ایک بہادر نوجوان نے اپنی زندگی کو داؤ پر لگا کر پہلگام حادثے کے شکار، سرینگر کے محمد اشرف میر کی جسدِ خاکی کو برآمد کرنے میں جو بے مثال کردار ادا کیا، وہ لائقِ تحسین ہے۔یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں ہے انسانیت کا یہ بے لوث خادم اب تک دریائے چناب کے تند و تیز بہاؤ سمیت وادی کے مختلف حصوں میں کئی قیمتی جانوں کو موت کے منہ سے نکال چکا ہے جبکہ سو سے زائد لاپتہ افراد کے اجساد خاکی کو بازیافت کرکے ان کی باوقار تدفین کے لیے ان کے لواحقین تک پہنچا چکا ہے۔حکومت کو ایسے بہادر نوجوانوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرنی چاہیے بلکہ دیگر نوجوانوں کو بھی یہ تربیت اور ضروری آلات فراہم کرنے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خطرناک دریاؤں اور مقامات پر ایس ڈی آر ایف (SDRF) کے اہلکاروں کی مستقل تعیناتی ہنگامی ریسکیو آپریشنز کے لیے لازمی ہے
غرقابی ایک تیز رفتار، خاموش اور خوفناک عمل ضرور ہے، لیکن یہ ناقابلِ تدارک نہیں ہے۔ چاہے ہم والدین ہوں، تیراک ہوں یا پانی کے کناروں پر وقت گزارنے والے لوگ ہوں ہوشیاری اور تیاری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ خوش قسمتی یا معجزوں پر انحصار کرنے کے بجائے تیاری، مستعدی اور احتیاطی تدابیر کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ قدرت کی حدود کا احترام، حفاظتی اصولوں کی پاسداری اور اجتماعی شعور ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں ایسے جان لیوا حادثات سے بچا سکتا ہے، کیونکہ انسانی جان کسی بھی عارضی غفلت اور لاپرواہی سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔