شرح31.4سے بڑھ کر 45.9فیصد تک پہنچ گئی
پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں زیابیطس( شوگر) کی بیماری سے جوج رہے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ گذشتہ 5سال کے دوران شوگر بیماریوں کی مجموعی شرح میں 50فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سال 2021میں جموں و کشمیر میں شوگر سے متاثرین کی مجموعی شرح 31.4فیصد تھی جو اب بڑھ کر 46فیصد ہوگئی ہے۔ اس طرح شوگر مریضوں کی مجموعی تعداد میں تقریباً 50فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین طرز زندگی میں تبدیلی اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کو بنیادہ وجہ قرار دے رہے ہیں۔ مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے جاری کی گئی نیشنل فیملی ہیلتھ سروسز رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر شوگر سے متاثرین کی شرح تقریباً 45.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ شوگر بیماری میں مبتلا خواتین کی شرح 24.6فیصد جبکہ مردوں کی شرح 21.3فیصد ہے۔رپورٹ میں مردوں اور خواتین کے علیحدہ اعداد و شمارکو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے زمرے میں ان مردوں اور خواتین کو رکھا گیا ہے جن کے خون میں شوگر کی مقدار 140سے 160کے درمیان رہتی ہے۔ دوسرے زمرے میں ان افراد کو رکھا گیا ہے جن کے خون میں شوگر کی مقدار 160سے 180کے درمیان رہتی ہے جبکہ تیسرے اور آخری زمرے میں ان مرد و خواتین کو رکھا گیا ہے جن کے خون میں شوگر کی مقدار 180سے زیادہ رہتی ہے۔ رپورٹ میں خواتین مریضوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گذشتہ 5سال کے دوران خواتین شوگر متاثرین کی شرح میں 8.6فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جن خواتین کا بلڈ شوگر 141-160کے درمیان رہتا ہے ان کی تعداد 4.2فیصد سے بڑھ کر 5.5فیصد ہوگئی ہے جن میں شہری خواتین کی شرح 6.6فیصد جبکہ دیہی خواتین کی شرح 5.5فیصد ہے۔ اسی طرح جن خواتین کے خون میں شوگر کی مقدار 160سے 180 ہے ان میں 3فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جن میں شہری علاقوں سے 9.1فیصد جبکہ 5.3فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن خواتین میں بلڈ شوگر کی مقدار 180سے زیادہ ہے ان میں 4.3فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل ان خواتین کی شرح 8.7فیصد تھی جو اب بڑھ کر 13فیصد ہوگئی ہے۔ اس طرح جموں و کشمیر میں شوگر بیماری سے جوج رہی خواتین میں مجموعی طور پر 8.6فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 6سے قبل مردوں میں شوگر متاثرین کی شرح 15.4فیصد تھی جو بڑھ کر 21.3فیصد ہوگئی ہے اور مردوں میں مجموعی طور ہر 5.9فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پہلے زمرے میں آنے والے مریضوں کی شرح 5سال قبل 4.7فیصد تھی جو اب بڑھ کر 5.0ہوگئی ہے اور اس طرح مرد شوگر مریضوں میں مجموعی طور پر0.3فیصد کا ااضافہ ہوا ہے۔ دوسرے زمرے میں آنے والے مریضوں کی شرح پہلے 2.7فیصد تھی جو 2.3فیصد اضافہ کے ساتھ 5فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مردوں میںزیادہ اضافہ ان مریضوں میں درج کیا گیا ہے جن کے خون میں شوگر کی مقدار 180سے زیادہ ہے۔ ان کی شرح نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 5کے دوران صرف 8فیصد تھی جو بڑھ کر اب 11.3فیصد ہوگئی ہے۔ماہر امراض زیابیطس ڈاکٹر مبشر احمد بٹ کہتے ہیں کہ سماجی ترقی کی وجہ سے طرز زندگی میں آنے والی تبدلی، ماحولیات، جسمای سرگرمیوں اور پوشن میں کمی اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر مبشر کہتے ہیں کہ محدود مقدار میں کھانے اور جسمانی طور پر سرگرم رہنے سے ہم اس بیباری پر مکمل طور پر قابو پا سکتے ہیں۔