ان دنوں ملک کی پارلیمنٹ کا اجلاس جا ری ہے لیکن یہ بات انتہائی قابلِ افسوس ہے کہ ہر دن شور شرابہ کی نذر ہو رہا ہے۔کسی دن بھی کسی موضوع پر سنجیدہ گفتگو نہیں ہو رہی ہے۔ 19؍ جولائی سے شروع ہوئے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں ہنگامہ آرائی کے سِوا کچھ ہوتا دکھائی نہیںدے رہاہے۔ پارلیمنٹ عوام کے جذبات اور احساسات کی عکاسی کر تی ہے۔ عوام کے مسائل پر بھرپور مباحث پارلیمنٹ میں ہی ہو تے آ ئے ہیںاوراب حکومت اپوزیشن پارٹیوں کو عوامی ایوان میں بولنے کا موقعہ نہیں دے رہی ہے۔
پارلیمنٹ کے اجلاس کو شروع ہوئے قریباًتین ہفتے ہوئے ہیں لیکن کسی بھی دن پارلیمنٹ کی کاروائی پر سکون انداز میں نہیں چل سکی بلکہ اندرون ایک گھنٹہ پارلیمنٹ کے اجلا س کو ملتوی کر دیا جا رہا ہے۔ اب تک بمشکل صرف 24گھنٹے کاروائی چل سکی ۔ جب کہ پارلیمنٹ کے اجلاسوں کے لئے عوام کا پیسہ کروڑوںروپیوں کی شکل میں خرچ ہوتا ہے ۔ حکومت کا دعوی ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں ایوان کی کاروائی میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے حکومت اصل مسائل کو پارلیمنٹ میں پیش کر نے اور اس پر مباحث کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ منگل کے روز ( 3 ؍ اگست )وزیر اعظم نریندرموودی نے بی جے پی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ سے خطاب کر تے ہوئے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ پارلیمنٹ کی کاروائی میں خلل ڈالتے ہوئے دستور اور مقننّہ کی توہین کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان وزراء کے ہاتھوں سے کاغذات لے کر پھاڑ دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں اپنے اس عمل پر کوئی شرمندگی نہیں ہوتی ہے۔اس سے اپوزیشن قائدین کی سرکشی کااندازہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن قائدین نے حکومت پر الزامات کی بو چھاڑ کر تے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت پارلیمنٹ میں اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ جمہوری روایات کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کو سوالات کر نے سے روکا جا رہا ہے۔اس طرح حکومت اور اپوزیشن پارٹیاں ایک دوسرے کو پارلیمنٹ کی کاروائی میں خلل اندازی کے لئے قصور وار ٹھہرا رہے ہیں ۔ لیکن نقصان تو عوام کا ہورہا ہے۔ آج تک پارلیمنٹ میں عوام کے حقیقی مسائل پر کوئی ٹھوس مباحث نہیں ہو سکے۔ البتہ بی جے پی حکومت بغیر کسی بحث و مباحثہ کے صرف سات منٹ میں کسی بِل کو منظور کر نے کا ریکارڈ قائم کرگئی۔ اپنی عددی طاقت کے بَل بو تے پر ایسے متنازعہ ایکٹ بھی منظور کئے جا رہے ہیں جس سے ملک اور قوم کو فائدہ کے بجائے آ نے والوں دنوں میں نقصان کا ہی اندیشہ ہے ۔ حکومت کے اس رویّہ کو دیکھتے ہوئے (منگل کو ہی )کانگریس قائد راہل گاندھی نے اپوزیشن پارٹیوں کو نا شتہ پر مدعو کیا۔ اس اجلاس میں ملک کی سرکردہ 14 پارٹیوں کے قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس میں راہل گاندھی نے بتایا کہ اس میٹنگ کا واحد مقصد یہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں آپس میں متحد ہو جائیں تاکہ بی جے پی حکومت ہماری آواز کو دبا نہ سکے ۔ناشتہ کی اس دعوت کے بعد راہل گاندھی کی قیادت میں کئی اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف احتجاج کر تے ہوئے سائیکل پر کانسٹی ٹیوشن کلب سے پارلیمنٹ ہاوس پہنچے تا کہ حکومت کو گھیر سکیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کا یہ اتحاد اور حکمتِ عملی مستقبل میں آپسی اتحاد کا ذریعہ بنتی ہے تو یہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے ایک خوش آ ئند علامت قرار دی جارہی ہے ۔جس کے ذریعہ حکومت کو من مانی کر نے سے روکا جا سکتا ہے اور جمہوریت پنپ سکتی ہے۔
پارلیمنٹ کو قانون کا مندر کہا جاتا ہے۔ اگر حکومت خود اس کے وقار کو باقی رکھنے میں اپنی دلچسپی نہ دکھائے تو یہاں منظور کئے جانے والے قوانین کس حد تک عوام کے لئے سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ اپنی پہلی معیاد کے دوران بھی یہی انداز اختیار کر تے ہوئے موجودہ حکومت نے پارلیمنٹ کی ساکھ کو برقرار رکھنے کا خیال نہیں رکھا اور اب بھی اسی طریقہ پر چلتے ہوئے عوامی ایوان کی قدر و قیمت کو گھٹایا جارہاہے۔ عوام گزشتہ ڈیڑھ سال سے جن نا قابلِ بیان مشکلات اورمصائب سے گزر رہی ہے اس پر پارلیمنٹ میں کھل کر مباحث ہونے کی امید تھی۔ کوویڈ- 19 کے قہر نے پوری قوم کو خوف اور دہشت میں ڈال دیا ہے۔ اب بھی کوویڈ کے سائے عوام کے سروں پر منڈ لارہے ہیں۔ ایک سال کے دوران لاکھوں انسان اس موذی مرض کی لپیٹ میں آ کر اپنی جان دے چکے ہیں۔ ہزاروں لوگ فاقہ کشی میں مبتلا ہوکر موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔ آکسیجن کی قلت اور وینٹی لیٹر کی عدم دستیابی مریضوں کے لئے موت کا سبب بن گئی۔ حکومت کے لاکھ دعوؤں کے باوجود متاثرین کو وقت پر دوائیں نہ مل سکیں۔ میڈیکل انفرا اسٹکچر نام کی کوئی قابل قدر چیز دیکھنے کو نہیں ملی۔ قوم پر یہ ساری مصیبتیں اس لئے آ ئیں کہ حکومت کوویڈ۔19پر ابتدائی مر حلہ میں ہی قابو پانے میں ناکام ہو گئی۔ گز شتہ سال جنوری میں جب یہ معلوم ہو گیا تھا کہ چین میں یہ وباء اپنا اثر دکھارہی ہے اسی وقت ہندوستان حفظِ ماتقدم کے طور پر احتیاطی اقدامات کر تا تو اتنی قیمتی جانیں نہ جا تیں۔ اس سال کوویڈ کے دوسرے مرحلے سے پہلے حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس وبائی مرض سے نمٹنے کے لئے ساری تیاری کرلی گئی ہے۔ لیکن یہ مر حلہ پہلے مرحلہ سے زیادہ خطرناک ثا بت ہوا۔ ہر طرف موت ہی موت نظر آ رہی تھی۔ملک میں لاک ڈاؤن ہوگیا۔ سارے کاروبار ٹھپ ہوگئے۔ روزگار ختم ہوگیا، اسکول اور کالجوں کو کھولنے کی نوبت ہی نہیں آ ئی۔ یہ وہ مسائل ہیں جس سے اس وقت ہندوستان کی پوری قوم گزررہی ہے۔ کورونا کی مہاماری نے ہر شخص کو بدحال کر کے رکھ دیا ہے۔ امید کی جا رہی تھی کہ ملک کے عوامی ایوان میں اس پر کھل کرمباحث ہوں گے۔ لیکن حکومت اس سے فرار کا راستہ اختیار کر تی دکھائی دے رہی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کو شہریوں کی زندگیوں کے تحفظپر سنجیدہ نہیںہے۔
کوویڈ۔19کے علاوہ ملک میں اور بھی کئی ایسے سلگتے ہوئے مسائل ہیں جس کے لئے حکومت عوام کے سامنے جواب دہ ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ہر روز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر دیاہے۔عوام اپنی بنیادی ضرورتوں کو بھی پورا کرنے کے مو قف میں نہیں ہے۔ غریبوں کا پیٹ پیٹھ سے لگ گیا ہے۔ غربت نہ انہیں جینے دے رہی ہے اور نہ مرنے دے رہی ہے۔ لیکن حکومت سرمایہ داروں کے معاشی مفادات کو پورا کرنے میں ہی نظر آرہی ہے۔عام لوگوں کی روٹی روزی کے بارے میں حکومت کو بے فکردکھائی دے رہی ہے۔ 2014میں پہلی مرتبہ حکومت بنانے سے پہلے غربت کو دور کرنے اور بے روزگاری کو ختم کر نے کے بلند بانگ دعوے تو کئے گئے لیکن عمل ندارد ۔2019کے الیکشن میں عوام کو راحت دینے کے قصیدے بڑے زور و شور سے پڑ ھے گئے لیکن دو سال پورے ہو گئے کوئی وعدہ وفاء نہیں ہوا۔ قومی معیشت تو ٹھکانے لگ گئی لیکن عوام کی معاشی مشکلات بھی دن بہ دن بڑھتی ہی چلی گئیں۔پٹرول کے دام بڑھنے سے اشیاء ضروریہ کی قیمتیں آ سمان کو چھونے لگی ہیں۔ دو کروڑ نوجوانوں کو ملازمت دینے کا وعدہ فضاء میں بکھر کر رہ گیا۔ ایسی صور ت حال میں وزیراعظم کو پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے تابڑ توڑ حملوں کا اندیشہ تھا ،اس لئے جاریہ اجلاس میں سرکاری بنچوں کی جانب سے اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی ہنگا مہ کھڑا کر دیا جا رہا ہے تا کہ حقیقی مسائل ایوان میں اٹھائے نہ جا سکیں۔
وزیراعظم کہہ رہے کہ اپوزیشن پارٹیاں پارلیمنٹ کا اجلاس چلنے نہیں دے رہی ہیںجب کہ حکومت خود حزبِ اختلاف کو سوال کر نے کا موقعہ نہ دے کر ایوان کی دیرینہ روایات کو توڑ رہی ہے۔ اپوزیشن قائدین بھی عوامی نمائندے ہوتے ہیں ،انہیں اگر عوامی ایوان میں حکومت سے وضاحت طلب کر نے کا موقع نہ دیا جائے تو ملک میں وہ کون سا مقام ہے جہاں وہ عوامی مسائل پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ جمہوریت میں پارلیمنٹ ہی ایک دستوری ادارہ ہے اور یہیں سے قانون منظور ہوتا ہے۔ اس لئے کسی قانون کی منظوری میں عوامی رائے کو ملحوظ نہ رکھنا جمہوریت کی توہین ہے۔ اپوزیشن کی آواز عوام کی ترجمان ہو تی ہے۔ اس آواز کو دبا دینا جمہوریت کا گلا گھونٹ دینے کے مترادف ہے۔ لیکن حکومت نے جو رویہ اختیار کیا ہے، اس کے سامنے اپوزیشن پارٹیاں بھی بے بس نظر آ رہی ہیں۔ بقول اپوزیشن قائدین حکومت نے تمام آ ئینی اور قانونی اداروں کو پہلے ہی اپنی گرفت میں لے لیا ہےاور الیکشن کمیشن سے لے کر سی بی آ ئی حکومت کے اشاروں پر کام کر نے کے لئے مجبور ہو گئے ہیں۔ اب اگر پار لیمنٹ بھی حکومت کی مرضی سے چلنے لگے تو پھر ہندوستان کو جمہور ی ملک تصور کرنا ہندوستانی قوم کی خام خیالی ہوگی۔ ملک میں ڈھیروں مسائل ہوں اور حکومت اس پر بحث کر نے کا عوامی نمائندوں کو موقع نہ دے تو پھر اس عوامی ایوان کی افادیت اور معنویت پر سوال کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس وقت ملک اور قوم جن سنگین مسائل سے دو چار ہیں اس سے سب ہی با خبر حلقے اچھی طر ح واقف ہیں۔ کوویڈ۔19کا بحران، بڑھتی ہو ئی مہنگائی،بے روزگاری کے علاوہ گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری ملک کے کسانوں کا احتجاج یہ وہ مسائل ہیں جس کا فوری حل نکالنا حکومت کی اولین ذ مہ داری ہے۔کسا نوں کے خلاف تین متنازعہ قوانین منظور کر کے حکومت نے کسانوں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ ان متنازعہ قوانین کو منسوخ کر نے کا مطا لبہ کر تے ہوئے کسان اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر دہلی کی سرحد پر سڑکوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ حکومت کھلے ذہن کے ساتھ کسانوں سے بات چیت کر کے مسئلہ کو حل کر سکتی تھی لیکن اس نے غیر لچکدار رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ اب جب کہ پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے حکومت ان قوانین پر بحث و مباحثہ کے لئے تیار کیوں نہیں ہے؟پھر اس پر طرفہ تماشا یہ کہ بی جے پی حکومت مبینہ طور پر اپنے ہی ملک کے سر کردہ سیاسی قائدین، عوامی جہد کاروں، پروفیسرس اور صحافیوں کے ساتھ ججوں کی جا سوسی کر رہی ہے۔ اس کے لئے اسرائیلی جاسوسی آلہ پیگاسس اسپائیر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس مسئلہ نے پورے ملک کو ہِلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ ایسا سنگین معاملہ ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاس میں اپوزیشن پارٹیوں نے مطالبہ کیا کہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہو نی ضروری ہے۔ سب ہی سیاسی پارٹیوں نے متحد ہو کر حکومت پر دباؤ ڈالا کہ پیگاسس معاملے کی سپریم کورٹ کے زیر نگرانی جانچ ہو۔ لیکن وزیراعظم پارلیمنٹ کے اندر یا باہر اس پر کوئی واضح بیان دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حکومت نے کسی بیرونی ملک کی کسی ایجنسی کو ہندوستان کے شہریوں کی جاسوسی کر نے کی اجازت نہیں دی ہے۔ حکومت کا دامن اس معا ملہ میں صاف اور شفاف ہے تو پیگاسس جاسوی اسیکنڈل پر پارلیمنٹ میں مباحث کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کی اس حساس مسئلہ میں ٹال مٹول کی پالیسی یہ ظاہر کر تی ہے کہ پیگاسس سے بی جے پی حکومت کا کچھ نہ کچھ تعلق ہے۔ اسی لئے حکومت اس پر کھلے مباحث کے لئے تیار نہیں ہے۔ بحر حال پارلیمنٹ کا مانسون سیشن جس کا آ غاز 19؍ جولائی 2021 کو ہوا تھاہنگاموں کے بیچ 13؍ اگست کو ختم ہو جائے گا۔ اور وزیراعظم 15؍ اگست کو لال قلعہ سے خطاب کر تے ہوئے قوم کے سارے غم بھلادیں گے۔
فون نمبر۔ 9885210770