واشنگٹن//امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ ایران جوہری معاہدے سے ہٹنے کو لے کر منگل کو اپنے فیصلہ کا اعلان کریں گے ۔ قابل ذکر ہے کہ مسٹر ٹرمپ اس معاہدے کے سخت ناقد رہے ہیں اور انہوں نے اس معاہدے سے ہٹنے کی دھمکی بھی دی ہوئی ہے ۔ اس معاہدے پر حتمی فیصلہ لینے کے لئے مسٹر ٹرمپ کے پاس 12 مئی تک کا وقت ہے ۔قابل غور ہے کہ سال 2015 میں ایران نے امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے ۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ ما ئیکرو بلاگنگ کی ویب سایٹ ٹویٹر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے سے متعلق اپنے فیصلے کا اعلان کل ( منگل) کو وائٹ ہاؤس سے کروں گا۔ امریکی صدر اس سے قبل جوہری معاہدے کو ناقص قرار دے کر معاہدے سے علیحدگی کا عندیہ دے چکے ہیں جس پر برطانیہ اور فرانس نے امریکا کو منانے کی بھی کوشش کیں۔دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدر ذاتی وجوہات کو جواز بنا کر آئندہ ماہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبردار ہوجائیں گے۔ امریکی صدر کی جانب سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے بیان پر ایران کے صدر کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے معاہدہ ختم کیا تو اسے پشیمانی کا سامنا کرنا ہوگا۔