ایجنسیز
کاراکاس+لا گوائیرا+مورون// وینزویلا میں بدھ کے روز آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد امدادی کارکن جمعہ کی رات بھر ملبے تلے دبے سینکڑوں افراد کو نکالنے اور ہزاروں لاپتہ شہریوں کی تلاش میں مصروف رہے۔ یہ زلزلے لاطینی امریکہ کی جدید تاریخ کے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، جنہوں نے دارالحکومت کاراکاس اور اس کے گرد و نواح میں شدید تباہی مچائی۔حکومت کے مطابق اب تک 235 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم مجموعی جانی نقصان کے بارے میں کوئی حتمی تخمینہ جاری نہیں کیا گیا۔ بدھ کو آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلوں کا مرکز کاراکاس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں تھا۔لاپتہ افراد کی معلومات جمع کرنے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے قائم کی گئی ایک ویب سائٹ کے مطابق 49 ہزار 600 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔اسپین کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ اس کے تین شہری ہلاک، چار ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ 99 افراد لاپتہ ہیں۔بجلی کی بندش کے باعث کئی علاقوں میں امدادی کارروائیاں ٹارچوں کی روشنی میں جاری رہیں۔ فائر فائٹرز، فوجی اہلکار اور مقامی شہری بعض مقامات پر بھاری مشینری نہ ہونے کے باعث اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر زندہ افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ساحلی شہر لا گوائیرا کی رہائشی یامیلیت خیمنیز نے اپنے 19 سالہ بیٹے کے بارے میں روتے ہوئے کہا،’’میرا بیٹا ملبے کے نیچے دبا ہوا ہے اور اسے نکالنے کے لیے کوئی مشینری موجود نہیں۔‘‘زلزلے نے پہلے ہی معاشی اور سیاسی بحران کا شکار وینزویلا کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ لاکھوں افراد غربت، بنیادی سہولیات کی کمی اور ناقص انفراسٹرکچر کا سامنا کر رہے تھے، جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔50 سالہ سہائل سرکیز نے کہا،’’میری عمارت رہنے کے قابل نہیں رہی۔ اب میرے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔ صرف میں اور میرا بیٹا ہیں، اور ملک میں میرا کوئی رشتہ دار بھی نہیں۔‘‘60 سالہ بیاتریز روڈریگیز نے بتایا کہ ان کے ایک بھتیجے کی ٹانگیں ملبے تلے دبنے کے باعث کاٹنا پڑیں جبکہ دوسرا بھتیجا جاں بحق ہو گیا۔حکومت نے بتایا کہ 250 عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ کم از کم آٹھ اسپتال، وینزویلا ریڈ کراس کا دفتر اور فرانسیسی سفارت خانہ بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق تقریباً سترلاکھ افراد اس آفت سے متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ متاثرین کو ہنگامی پناہ گاہیں اور امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔دارالحکومت سے متصل ساحلی ریاست لا گوائیرا، جہاں ملک کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ واقع ہے، سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ رضاکار پانی، خوراک اور ادویات لے کر مسلسل متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔64 سالہ فرنیچر سازپیڈرو پیریز نے کہا،’’ہم سب کچھ کھو بیٹھے ہیں۔ ہمارا گھر بھی تباہ ہو گیا اور کاروبار بھی ختم ہو گیا۔ اب ہم سڑک پر سونے پر مجبور ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ امداد جلد پہنچے گی۔‘‘زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ساحلی قصبے مورون میں مکانات منہدم ہو گئے جبکہ بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہے۔ متاثرہ خاندان ملبے سے گدے، ٹیلی ویڑن اور دیگر گھریلو سامان نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے نمائندوں نے دیکھا کہ حکومت نواز موٹر سائیکل گروپ کولیکتیوو کے ارکان بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے۔دنیا کے مختلف ممالک نے وینزویلا کی مدد کی پیشکش کی، حتیٰ کہ وہ ممالک بھی آگے آئے جن کے وینزویلا کے ساتھ برسوں سے کشیدہ تعلقات رہے ہیں۔عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدرولادیمیر پوتن کا امدادی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔امریکہ نے زلزلہ متاثرین کی امداد کی خاطر وینزویلا پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کر دی تاکہ انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔صدر ٹرمپ نے کہا،’’امریکہ ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘‘امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ امریکہ ریسکیو ٹیمیں روانہ کرے گا جبکہ پینٹاگون لاجسٹک معاونت اور کاراکاس کے متاثرہ ہوائی اڈے کی بحالی میں مدد فراہم کرے گا۔عبوری صدر روڈریگیز نے ویڈیو جاری کی جس میںمیکسیکو کے فوجی اہلکار اور تربیت یافتہ سرچ ڈاگز لا گوائیرا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچتے دکھائی دیے۔ دیگر امدادی سامان ماراکائے اور والنسیا کے ہوائی اڈوں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ عالمی ادارہ مختلف ممالک کی ریسکیو ٹیموں کے درمیان رابطہ کاری کر رہا ہے اور وینزویلا میں بڑے پیمانے پر بین الاقوامی امدادی کوششوں کی ضرورت ہوگی، کیونکہ زلزلے سے قبل بھی تقریباً اسی لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج تھے۔پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن اورعالمی ادارہ صحت نے ہنگامی امور کے ڈائریکٹر سیرو اوگارٹے نے کہا،’’ابتدائی چند گھنٹے جانیں بچانے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔‘‘انہوں نے بتایا کہ اسپتالوں میں بڑی تعداد میں ایسے زخمی لائے جا رہے ہیں جن کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں یا وہ جھلس گئے ہیں۔اسٹارلنک نے اعلان کیا کہ متاثرہ علاقوں میں نئے اور موجودہ صارفین کو 25 جولائی تک مفت سروس فراہم کی جائے گی اور رابطہ بحال کرنے کے لیے اضافی ٹرمینلز بھی نصب کیے جائیں گے۔ادھر تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں نے بتایا کہ وینزویلا کے اہم تیل کے انفراسٹرکچر کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا اور ان کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔کاراکاس اسٹاک ایکسچینج کو عارضی طور پر بند کر کے اسے امدادی سامان جمع کرنے کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل وینزویلا کی جدید تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ 1967 میں آیا تھا، جس میں 240 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔