ووٹ (vote)انگریزی زبان کالفظ ہے ،اس کاعربی متبادل انتخاب اورتصویت ہے جب کہ اس کااردومتبادل ہے:نمائندہ چننا،حق رائے دہی کااستعمال کرنا۔چونکہ ہماراملک بھی دنیا کا ایک جمہوری ملک ہے اورجمہوری ممالک میں پارلیمینٹ ،اسمبلی ،کونسل،میونسپل( بلدیہ) یااس جیسے دوسرے اداروں کے لیے نمائندہ چننے کاعمل عوام کےووٹ پر منحصرہوتاہے اور عوام ہی کے ووٹ سے کوئی پارٹی اقتدارمیںآسکتی ہے ،گویاعوام کے اختیارمیں ہے کہ وہ جس کوچاہے اقتدارمیں لائے اورجس کوچاہے اقتدار سے ہٹادے۔اس لیےایسے وقت میں ہرایک کواپنے ووٹ کی اہمیت سمجھنی چاہیئے ۔
گزشتہ ماہ سے ہمارے ملک میں بھی لوک سبھا الیکشن کاسلسلہ شروع ہوچکاہے ،اورہم سب کوبھی ایک اچھے قائد اورحکمراں کاانتخاب کرناہے جوبلاتفریق سیاست و نظریہ ، مسلک و مشرب اور کسی بھید بھاؤ کے بغیر ملک چلاسکے ، خصوصاً وہ ایک ایسا شخص ہو جو حق وانصاف کا پابند ہو ، اکثریت اور اقلیت میں کوئی فرق نہ کر تاہو اور ملک کے دلتوں اور مسلمانوں کےجان ،مال، عزت وآبرو کاتحفظ کرسکے ۔ ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں ، ایسے وقت میں عام آدمی کے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوجاتاہےکہ اس سے جو اُمیدوار ووٹ مانگتے ہیں ،وہ عمل کے لحاظ سے کتنے پانی میں ہے اور کنڈیٹوں میں سب میں قابل ، باعاتماد اور معتبر و بہترامیدوارکاانتخاب کیسےکیاجائے؟کس پارٹی یا فرد کے حق میں اپنا قیمتی ووٹ کا استعمال کیاجائے ۔ان سوالات کے جواب سے قبل یہ بات جان لینی چاہئے کہ ملک میں جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں، وہ تقریباً سب مسلم ا قلیت کا بھلا کرنا تو دور،یہ اقلیتوں کی مخالف اور خصوصی طور انسان دشمن مفاد پرست پارٹیاںہیں۔ آج تک ان سب کی کوشش کچھ کم وبیش برابریہ رہی ہے کہ اسلام ماننے والوں کوپریشان کیاجائے ، ان کے جائز مطالبات کو نظر انداز کیا جائے ،ان کا استحصال کیا جائے جب کہ بھگوا پارٹیاں علی الاعلان پورےملک سے ان کاصفایاکر نے کا اعلان کر تی جاتی ہیں ۔ اس لیے ایسے نازک وقت میں شریعت کے اس اصول پرعمل کیا جاناچاہیے کہ جب ایک شخص کاآمنا سامنا دومصیبتوں سے بیک وقت ہوجائے تو اُسےبڑی مصیبت کودفع کرنے کے لیے ہلکی اورچھوٹی مصیبت کو اختیارکرلینا چاہیے۔ ترجمہ: جب دوخرابیوں میں تعارض ہوتواخف ضررکاارتکاب کرکےاعظم ضررکی رعایت کی جائے گی۔ (الاشباہ والنظائر لابن نجیم:؍۳۰۹)
اس قاعدے کی رُوسے ہمیں انتخابی عمل سے کنارہ کشی نہیںکر نی چاہیے بلکہ یہ دیکھناچاہیے کہ ہرعلاقہ میں کونسی پارٹیاں دوسرے پارٹی کی نسبت کچھ بہتر ہے،اورکس پارٹی کے جیتنے کی اُمیدہے، ایسی پارٹیوں کے حق میں اپنے ووٹ کااستعمال احتیاط سے کر ناگزیر ضرورت ہے ۔بالفاظ دیگرسیکولراورمہاگٹھ بندھن پارٹیوں کے حق میں ہمیں اپنےووٹ کااستعمال کرنا ہوگا ۔آزاد امیدواریاوہ شخص جوکسی پارٹی کےزیرسایہ صرف ووٹ کاٹنے کے لیے وجودمیں لائے گئے ہیں، ایسی پارٹی یا فرد کوہرگز ووٹ نہ دیاجائے کیونکہ وہ صرف آستین کے سانپ ہوتے ہیں ۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ صرف ایک ووٹ کے غلط استعمال سے قوم کی تقدیرکا دھارابھنورمیںپھنس سکتاہے ،کہ جس سے صرف ایک فرد کانہیں بلکہ پورے معاشرے ، صوبے بلکہ پورے ملک کانقصان بعیدا ز امکان نہیں ہوگا۔ ظاہرسی بات ہے کہ ہتھیارکاغلط اور ناروا استعمال کسی کو بھی نقصان پہنچاسکتاہے ۔ چونکہ ووٹ کا آئینی حق بھی ہرشہری کے پاس بطورایک ہتھیارہے ۔اگراس ہتھیار کاہم میں سے کوئی ایک فرد بھی غلط استعمال کرے تواس کے نتائج سے ہمارا بھی نقصان ہوگااورہماری نسلیں بھی پریشان ہوں گی اور دوسرے سماج بھی بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں ۔
ا س وقت ہماراملک تاریخ جس عجیب و غریب دوراہے پر کھڑاہے، اس میں ہر باضمیر شہری اور محب وطن دوست پر فرض عین عائد ہوتا ہے کہ وہ صاف شفاف انتخابات کے ذریعےملک وقوم کی ایک ایسی خیرخواہ قیادت کواقتدارمیں ضرور لائے جو ملک میں رہنے والے ہر طبقے اور ہر خطے کا جینا آرام دہ بنائے ، جو ملک کو بے روزگاری ، بیماری ، ناخواندگی ، عدم رواداری اور دیگر بےپناہ عوامی مسائل ومصائب سے ہم سب کو چھٹکارادلاسکے۔ مختصراً جوملک و قوم کو عملی طور کو ترقی وخوشحالی کی راہ پرگامزن کرسکے ۔ورنہ بالفرض محال اگرہم اپنے ووٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں اور موجودہ فرقہ پرست حکومت دوبارہ اقتدارمیں آتی ہے،توجس طرح آج تک ہم نے دُکھ ، ظلم ، سفاکیت ، بغض ، عناد ، نفرت ، تخریب اور کردار کشیاں دیکھی ہیں،انہی کو از سرنو دیکھنے کے لئے ہمیں تیار رہنا ہوگا ۔ ایسی صورت میں ہمیں یاد رکھناہوگا کہ حافظ جنید ،حافظ شمیم ، پہلو خان ،آصفہ ،نجیب ، فیروجل جیسے المیوں کا پھر سے اعادہ ہوسکتا ہے۔ کیا آج تک نجیب کی ماںاور اخلاق کی بیوہ کوانصاف مل سکا ؟ان لوگوں کے اقتدارمیں آنے کے بعداسی طرح کے حالات ہم پربھی آسکتے ہیں، اور اگر ہم انصاف طلبی کے لیے قیامت تک عدالتوں کاچکرلگاتے رہیں گے پھر بھی ہمیں انصاف نہیںدیاجائےگا۔بہت سارے ساہ لوح لوگ موجودہ حکومت کے ڈھیر سارے وعدہ نما سبز باغوں پر اعتماد کئے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیںکہ یہ دوبارہ اقتدارمیں آئیں گے توسارے وعدوں کو پوراکر کر رکھیں گے ۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ محض آزمودہ سیاسی دھوکے ہیں اوریہ سارے وعدے وعید انہیں دوبارہ اقتدارمیں آنے کےبہانے ہیں ،وہ کبھی ایک بھی وعدے کوپورانہیں کریں گے، سوائے چند وعدوں کے جن کاان کے کچھ منتری برسرعام جگہ جگہ انتخابی مہم میں اعلان کر تےرہے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ اگر موجودہ حکومت واپس اقتدارمیںآتی ہے تووہ سب سے ملک کے سیکولر ازم کا جنازہ اٹھاکر بھارت دیش کو ہندو راشٹر بنائیں گے ، بابری مسجد کی جگہ رام مندرکی تعمیر کریں گے ، سہ طلاق کو مکمل قانونی شکل دیں گےا ور کامن سول کوڈ نافذ کریں گے ۔گویایہ لوگ پھر سے مسجد مندر کا مسئلہ اٹھاکر اپنی سیاست کی روٹیاں سینکیں گے ۔ اقتدارمیں آتےہی یہ لوگ یکساں سول کوڈ کانفاذ کرنے کا دم بھرتے ہیں ۔ بالفاظ دیگراس طرح کے اقدام سے نہ توہمارا شرعی نظام نکاح باقی رہے گا،نہ طلاق کا خدائی اصول باقی رہےگا، نہ مسجدیں اورمدرسے باقی رہیں گے اور نہ ہماری خانقاہیںقائم ودائم ہوں گی ۔پھرہم لاکھ ہائے ہائے کرتے رہیں مگرہماری آواز ان کے پردہ ٔسماعت سے ٹکڑاکر یوں ہی نے نیل ومرام واپس آجائے گی ۔ہمارا کوئی پر سان ِ حال نہ ہوگا ۔ان کڑوے حقائق ل کو بقیہ ووٹنگ فیزز میں ملحوظ نظر رکھ کرملک کے تمام باشعوراور بالغ نظر شہریوں خاص کر مسلم اقلیت کو چا ہیے کہ وہ نہ صرف پولنگ کا جزولاینفک بنے بلکہ اپنےووٹ کے آئینی حق کوکسی بھی طرح کی جذباتیت،کسی ذاتی مفاد،کسی برادری اِزم،کسی علاقائی ولسانی تعصب کی بنیادپرہرگزہرگزضائع نہ دیں بلکہ پوری طرح سے سوچ سمجھ کرپورے فہم و شعور اور وداندیشی کے ساتھ ،اچھے اور برے کاموازنہ کرتے ہوئے ،باریک بینی سے حالات کا جائزہ لے کر صرف اچھےکردار ،قابل انسان اور وسیع الخیال امیدواروں کو جوق درجوق ووٹ دیں تاکہ ملک کی بھلائی ہو ، سب کی بہتری کاسامان ہو، اجتماعی خیر کی خوشبو ئیں پھلیں نہ کہ نئی حکومت تنگ نظر وں اورفرقہ پرستوں کی نمائندہ ہو ۔ ا سلئے اہل درد دانش وروں ،خصوصاًعلمائےکرام اورائمہ حضرات سے خصوصی التماس ہےکہ وہ پولنگ کے بارے میں لوگوں کو سیدھی راہ دکھانے کے لئے ان کی مکمل رہنمائی کریں اور سب کو صاف اور واضح لفظوں میں بتائیں کہ وہ اپنے ووٹ کااستعمال کس پارٹی اور کس امیدوار کے حق میں بلا شرکت غیرےکریں۔ اگرہم سب نے یعنی اپنے ہم وطن اعتدال پسند ہندوؤں ، سکھوں ، عیسائیوں، دلتوں اور دوسرے مذاہب اور جاتیوں سے تعلق رکھنےو الوں نے ووٹ کا سنجیدہ اور نتیجہ خیز استعمال کیا تو اس سے نہ صرف پورے ہندوستان کا بھلا ہوگا، ملک کا سر فخر سے اونچا رہے گا اور سب کا وکاس ہوگا بلکہ انشااللہ ملک وقوم پھر سے ایک اچھے قائد کے زیرسایہ آرام اور عزت کی زندگی بسر کرسکیں گے۔