فکرو فہم
شفیع نقیب
وادی کشمیر میں جولائی اور اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی شادی بیاہ کی تیاریاں بھی زور پکڑنے لگتی ہیں۔ خاص طور پر ستمبر اور اس کے بعد کے مہینوں میں شادیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ روایت نئی نہیں بلکہ صدیوں پرانی ہے۔ اس کے پیچھے صرف موسم کی مناسبت نہیں بلکہ کشمیر کی زرعی معیشت بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ آج بھی جموں و کشمیر کی ایک بڑی آبادی کا انحصار زراعت، باغبانی اور میوہ جات کی پیداوار پر ہے۔ فصلوں کی کٹائی اور سیب، ناشپاتی، اخروٹ، بادام اور دیگر پھلوں کی فروخت کے بعد لوگوں کے ہاتھ میں سرمایہ آتا ہے، تب وہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔اس روایت میں کوئی برائی نہیں۔ بلکہ یہ ایک فطری معاشی ترتیب ہے۔ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ضرورت، سادگی اور اعتدال کی جگہ نمود و نمائش، مقابلہ بازی اور فضول خرچی لے لیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری خوبصورت روایات آہستہ آہستہ اپنے اصل مقصد سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
کشمیر کا وازوان ہماری تہذیب، مہمان نوازی اور ثقافت کی ایک منفرد علامت ہے۔ دنیا بھر میں کشمیر کی شناخت اگر اس کے حسنِ فطرت، دستکاری اور مہمان نوازی سے ہے تو وازوان بھی اس شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کا مقصد مہمان کی عزت افزائی اور خوشی کی تقریب میں شریک لوگوں کی تواضع تھا، نہ کہ دولت کی نمائش یا دوسروں پر اپنی برتری ثابت کرنا۔مجھے اپنا بچپن اچھی طرح یاد ہے۔ اس وقت وازوان سات یا زیادہ سے زیادہ آٹھ پکوانوں تک محدود ہوتا تھا۔ تقریب بھی خوشگوار ہوتی تھی، مہمان بھی مطمئن رہتے تھے اور میزبان بھی مقروض نہیں ہوتے تھے۔ نہ کسی کو یہ فکر ہوتی تھی کہ فلاں کے ہاں بیس ڈشیں تھیں اور ہمارے ہاں تیس کیوں نہیں۔ نہ کسی آشپاز کو ہر سال ایک نئی ڈش ایجاد کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔لیکن وقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، دولت کی فراوانی اور دکھاوے کی دوڑ نے ہماری سوچ کو بھی بدل دیا۔ آج وازوان سات آٹھ پکوانوں سے نکل کر چالیس بلکہ اس سے بھی زیادہ اقسام تک جا پہنچا ہے۔ بعض آشپازمعمولی سی تبدیلی کرکے ایک نئی ڈش متعارف کرا دیتے ہیں، اور پھر وہی ڈش اگلے سال ایک نئی روایت بن جاتی ہے۔ یوں مقابلہ صرف ذائقے کا نہیں بلکہ تعداد کا ہو گیا ہے۔حد تو یہ ہے کہ اب گوشت کے بعض پکوانوں میں سونے کے سکے یامروجہ سکے اور دیگر قیمتی اشیا رکھ کر ایک اور بدعت کو فروغ دیاجارہاہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی ترقی ہے؟ کیا ثقافت کا مطلب صرف اخراجات میں اضافہ ہے؟ کیا مہمان کی عزت صرف اسی صورت میں ہوگی جب اس کے سامنے چالیس ڈشیں رکھی جائیں؟حقیقت یہ ہے کہ یہ رجحان ہماری اخلاقی کمزوری کی علامت ہے۔ دولت مند اگر اپنی حیثیت کے مطابق خرچ بھی کر لے تو اس کا اثر معاشرے کے متوسط اور غریب طبقے پر بھی پڑتا ہے۔ وہ بھی اسی معیار تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، خواہ اس کے لئے اسے قرض لینا پڑے، زمین بیچنی پڑے یا برسوں تک قرض کا بوجھ اٹھانا پڑے۔یہی وہ سماجی دباؤ ہے جس نے شادی کو آسان بنانے کے بجائے مشکل بنا دیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار والدین موجود ہیں جن کی زندگی کی ساری جمع پونجی صرف ایک بیٹی کی شادی پر خرچ ہو جاتی ہے۔ کئی لوگ بینکوں سے قرض لیتے ہیں، کئی سودی لین دین میں پھنس جاتے ہیں، اور کئی برسوں تک قرض کی قسطیں ادا کرتے رہتے ہیں۔ ایک دن کی تقریب ختم ہو جاتی ہے لیکن اس کا معاشی بوجھ کئی برس تک ان کے کندھوں پر رہتا ہے۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض لڑکیاں اپنے والدین کی مالی حالت دیکھ کر شادی سے ہی انکار کر دیتی ہیں تاکہ ان کے والدین قرض کے بوجھ تلے نہ دب جائیں۔ بعض شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ بعض گھرانوں میں شادیوں میں غیر ضروری تاخیر صرف اس لئے ہوتی ہے کہ وازوان، جہیز اور دیگر رسم و رواج کے اخراجات پورے نہیں ہو پاتے۔یہ کیسی روایت ہے جو خوشیوں کے بجائے پریشانیاں پیدا کرے؟اس سے بھی بڑا سوال ـ’’رزق کی بے حرمتی‘‘ کا ہے۔
چند روز قبل اخبارکامطالعہ کررہاتھا، اس میں ایک نہایت دردناک حقیقت بیان کی گئی تھی کہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں لاکھوں روپے کا کھانا صرف اس لئے ضائع کر دیا جاتا ہے کہ ضرورت سے کہیں زیادہ تیار کیا جاتا ہے۔ تقریب ختم ہونے کے بعد یہی عمدہ اور قیمتی غذا کوڑے دانوں میں پھینک دی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے ہزاروں خاندان موجود ہیں جن کے چولہے کئی کئی دن ٹھنڈے رہتے ہیں۔ہم روزانہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ شادی ہالوں کے باہر بچا ہوا وازوان بڑی مقدار میں کچرے کے ڈھیروں پر پھینکا جاتا ہے۔ گوشت، چاول، سبزیاں اور روٹیاں سب کچھ ضائع ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات آوارہ جانور اس پر پل رہے ہوتے ہیں، جبکہ انہی شہروں میں ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہے ہوتے ہیں۔اسلام نے تو رزق کے ایک ایک دانے کی قدر سکھائی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’کھاؤ، پیو، لیکن اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘یہ آیت صرف کھانے کی اجازت نہیں دیتی بلکہ اعتدال کا سبق بھی دیتی ہے۔ اسراف صرف پیسے کا نہیں بلکہ اللہ کی نعمتوں کا بھی ہوتا ہے۔ جب اچھی بھلی غذا کوڑے میں پھینک دی جائے تو یہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ اللہ کی نعمت کی ناقدری بھی ہے۔ہم یہ بھی سوچیں کہ گوشت کی بڑھتی ہوئی کھپت کا ماحول اور معیشت پر بھی اثر پڑتا ہے۔ غیر ضروری طور پر درجنوں گوشت کے پکوان تیار کرنا نہ صرف مہنگا ہے بلکہ وسائل کے بے جا استعمال کا باعث بھی بنتا ہے۔ اگر گوشت کا استعمال محدود ہو، سادہ اور متوازن وازوان تیار کیا جائے تو اس سے نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ خوراک کے ضائع ہونے کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی روایات کو ختم نہ کریں بلکہ ان کی اصلاح کریں۔ وازوان اپنی اصل شکل میں برقرار رہے، لیکن اسے دوبارہ سات، آٹھ یا زیادہ سے زیادہ دس بارہ روایتی پکوانوں تک محدود کیا جائے، جیسا کہ پچیس تیس برس پہلے ہوا کرتا تھا۔ مہمان بھی اسی سے خوش ہوتے تھے، میزبان بھی مطمئن رہتے تھے اور معاشرے پر غیر ضروری بوجھ بھی نہیں پڑتا تھا۔اس کے ساتھ چند عملی اقدامات بھی کئے جا سکتے ہیں۔اول، مہمانوں کی تعداد کے مطابق ہی کھانا تیار کیا جائے۔دوم، بچ جانے والے کھانے کو محفوظ انداز میں مستحق خاندانوں، یتیم خانوں اور رفاہی اداروں تک پہنچانے کا باقاعدہ انتظام کیا جائے۔سوم، مذہبی رہنما، سماجی تنظیمیں، دانشور اور میڈیا اسراف کے خلاف اجتماعی شعور بیدار کریں۔چہارم، شادیوں میں سادگی اختیار کرنے والے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ معاشرے میں ایک مثبت مثال قائم ہو۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وازوان کی عظمت اس کی تعداد میں نہیں بلکہ اس کے ذائقے، روایت اور مہمان نوازی میں ہے۔ اگر سات عمدہ پکوان محبت سے پیش کئے جائیں تو وہ چالیس ڈشوں سے کہیں زیادہ یادگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ہمیں وازوان پر اس طرح کے اسراف اور خرچہ کو مدنظر رکھتے ہوئے خود سے یہ سوال پوچھنا چاہئے کہ کیا اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینکنا ہماری تہذیب، ہماری انسانیت اور ہمارے دین کی تعلیمات کے مطابق ہے؟اگر جواب’’نہیں‘‘ ہے تو پھر تبدیلی کا آغاز بھی ہمیں ہی کرنا ہوگا۔آئے عہد کریں کہ ہم اپنی ثقافت کو ضرور زندہ رکھیں گے، لیکن اسے اسراف، دکھاوے اور مقابلہ بازی کا ذریعہ نہیں بنائیں گے۔ وازوان کو دوبارہ اس کی اصل سادگی، وقار اور اعتدال کی طرف لوٹائیں گے، گوشت کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں گے، رزق کی قدر کریں گے اور اپنے معاشرے کو یہ پیغام دیں گے کہ ’’اصل عزت پکوانوں کی کثرت میں نہیں بلکہ انسانیت، شکرِ نعمت اور اعتدال میں ہے۔‘‘
(رابطہ۔9622555263)
[email protected]