سرینگر // ریکارڈ توڑ سردی کے ایک روز بعد شہر سرینگرسمیت وادی کے متعدد علاقوں میں پیر کی صبح برف کی ہلکی پرت بچھ گئی۔یاد رہے کہ پچھلے ایک ہفتے میں شبانہ درجہ حرات میں شدید گراوٹ آئی اور دن میں بھی یخ بستہ ہوائوں کے چلنے کے نتیجے میں شہر سمیت وادی بھر میں لوگوں کو شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔ 30اور31جنوری کی درمیانی رات منفی درجہ حرارت 8.8 نے30 برسوں کا ریکارڈ توڑا۔لیکن چلہ خورد کے آغاز پر31اور یکم فروری کی درمیانی رات شہر سمیت وادی کے متعدد علاقوں میں برف کی ہلکی پرت بچھ گئی جس سے کڑاکے کی ٹھنڈ میں کچھ راحت نصیب ہوئی اور درجہ حرارت میں خاطر خواہ بہتری آئی جو منفی 3.1درج کیا گیا۔صبح کے وقت ہلکی سی برف پڑی اور سرد ہوائیں بھی تھم گئیں۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق برف باری ہونے کے نتیجے میں کم سے کم درجہ حرارت میں بہتری آئی ہے ۔ترجمان کے مطابق شہر سرینگر میں اتواراور سوموار کی درمیانی رات منفی 3.1ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا جبکہ قاضی گنڈ میں منفی7.6 ، پہلگام میں منفی 6.1 ، کپوارہ میں منفی 2.9 ، کوکرناگ میں منفی 9.5، گلمرگ میں منفی 8.2، اونتی پورہ میں 7.2 ، اننت ناگ میں منفی 8.2 ، بانڈی پورہ میں منفی 2.6 ، شوپیاں میں منفی 6.3 ، پلوامہ میں منفی 5.0 اور کولگام میں منفی 7.8ڈگری سیلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔ادھر حالیہ شدید سردی کا اثر ابھی تک وادی میں پایا جا رہا ہے کیونکہ بیشترواٹر سپلائی اسکیمیںبدستور منجمندہیں۔ مختلف علاقوں تک جانے والی پانی کی ترسیلی لائینیں بدستورجمی ہوئی ہیں اورلوگوں کو پانی کی ایک ایک بوندھ کیلئے ترسنا پڑ رہا ہے۔ سردی کے قہر کے نتیجے میں پانی منجمند ہونے سے،رہائشی مکانوں،ہوٹلوں، مساجد اور سرکاری و نیم سرکاری دفاتر میں پانی کی سپلائی بند ہوچکی ہے۔سر ینگر اورشمال و جنوب کے بیشتر علاقوں، بستیوں اور قصبوں میں پانی کی لائنیں منجمند ہوگئی ہیں جس سے بیشتر آبادی پانی سے محروم ہے۔ شہر سرینگر کے بیشتر علاقوں میں یہی صورتحال ہے اور گھروں کے اندر بھی نل جم گئے ہیں جس سے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔اس دوران محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگلے 24گھنٹوں کے دوراں وادی کے بالائی اور کچھ ایک میدانی علاقوں میں ہلکی برف باری ہونے کا امکان ہے ۔محکمہ کا کہنا ہے کہ برف باری کے نتیجے میں شبانہ درجہ حرارت میں مزیدبہتری آئے گی ۔