سرینگر //غیر کورونا مریضوں کے علاج و معالجہ کیلئے شہر سرینگر کے سبھی بڑے اسپتالوں اور ضلعی سطح پر او پی ڈی بند ہونے کے بعدخواطر خواہ انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ غیر کورونا مریضوں کا کہنا ہے کہ قلیل طبی سہولیات اور لاک ڈائون کے دوران چلنے پھرنے پر پابندی ہونے کی وجہ سے وہ نزدیکی پرائیویٹ نرسنگ ہوموں و اسپتالوں پر جانے کیلئے مجبور ہورہے ہیںجہاں غریب مریضوں کو بڑی بیدردی کیساتھ لوٹا جارہا ہے۔پرائیویٹ طبی ادارے اوپی ڈی میں علاج معالجہ کرانے کیلئے ہر ایک مریض کا پہلے کورونا ٹیسٹ کرتے ہیں جس کے لئے ان سے من چاہے ڈھنگ سے پیسے لئے جاتے ہیں۔کورونا کی قہر انگیز لہر وادی اور جموں کے پرائیویٹ طبی اداروں کیلئے سونے کی کان ثابت ہورہی ہے اور وہ کورونا ٹیسٹ کے نام پر ہر روز طبی تشخیص کیلئے آنے والے مریضوں کو من چاہے ڈھنگ سے لوٹ رہے ہیں۔عام بیماریوں کی شکایت کی تشخیص کیلئے شہر سرینگر میں صرف ایک سب ضلع اسپتال میں محدود پیمانے پر او پی ڈی خدمات میسر رکھی گئیں ہیں۔جبکہ ضلعی سطح پر صرف ایک اسپتال میں یہ سہولیات دستیاب ہیں۔سرینگر اور جموں شہروں کے علاوہ سبھی ضلع صدر مقامات پر ہر روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ او پی ڈی میں اپنا علاج معالجہ کراتے ہیں اور سرکاری اسپتالوں میں یہ سہولیات نہایت ہی کم پیسوں پر دستیاب رہتی ہیں۔لیکن کورونا کے پھیلنے کیساتھ ہی سرکاری اسپتالوں کے او پی ڈیز بند کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں لوگ پرائیویٹ طبی مراکز یا اسپتالوں میں جانے کیلئے مجبور ہیں۔ہر ایک پرائیویٹ صحت مراکز یا ادارے نے اس بات کو لازمی قرار دیا ہے کہ ہر آنے والے او پی ڈی مریض کیلئے کورونا ریپڈ ٹیسٹ کرائے۔وادی اور جموں کے پرائیویٹ اسپتالوں کا قیام اس مقصد کیلئے نہیں کیا گیا ہے کہ مفت علاج کچھ فیصدغریب مریضوں کیلئے کیا جائیگا۔ نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ جموں کشمیر کے جو بھی پرائیویٹ اسپتال قائم کئے گئے ہیں وہ پیسہ کمانے کا ایک اچھا خاصا دھندہ ہے کیونکہ پرائیویٹ اسپتالوں یا نرسنگ ہوموں میں داخلہ ٹکٹ سے لیکر چھوٹی یا بڑی جراحی اور مختلف ٹیسٹوںکیلئے از خود ریٹ مقرر کی گئی ہے۔جو ایک طبی ادارے کی دوسرے ادارے سے مختلف ہے۔ڈاکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر مشتاق احمد راتھر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ محکمہ صحت نے ہر ضلع میں کورونا مریضوں کے علاوہ غیر کورونا مریضوں کے علاج و معالجہ کیلئے ایک اسپتال میں او پی ڈی کی سہولیات دستیاب رکھی ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مریض ان اسپتالوں میں جاکر علاج و معالجہ کراسکتا ہے‘‘۔ڈاکٹر راتھر نے کہا کہ سخت علیل مریضوں اور ایمرجنسی کیسوں مثلاً زچگی، ٹریفک حادثات میں زخمی ہونے والے اوردیگر ایمرجنسی کیسوں میں اسپتالوں کو ایمرجنسی جراحی کی اجازت دی گئی ہے اور اس حوالے سے سرکیولر بھی جاری کیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کویڈ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم ہر جگہ ڈاکٹر دستیاب رکھیں لیکن ہر ضلع میں ایک اسپتال یا پرائمری ہیلتھ سینٹر میں عام لوگوں کیلئے علاج و معالجہ سہولیات رکھی گئی ہیں۔