اس ترقی یا فتہ دور میں دنیا بھر کے ماہرین ایجادات کی دنیا کو حیران کرنے میں سر گرداں ہیں ۔اس ضمن میں چینی سائنس دانوں نے ایک ایسا خلائی ہتھیار ایجاد کیا ہے جو مصنوعی سیارچوں کو اندر سے تباہ کردیتا ہے اور باہر کچھ بھی پتا نہیں چلتا۔ اس خاموش ’’اینٹی سٹیلائٹ‘‘ خاصا غیر روایتی ہتھیار ہے۔خلا میں پہنچنے کے بعد یہ اپنے مطلوبہ سٹیلائٹ تک پہنچ کر اس کے اخراجی (تھرسٹر) نوزل کو جکڑ لیتا ہے اور اپنا دھماکہ خیز مواد اس کے اندر داخل کردیتا ہے۔سٹیلائٹ کے اندر داخل ہو کر یہ دھماکہ خیز مواد اس طرح سے پھٹتا ہے کہ مصنوعی سیارچے کے اندرونی حصے تباہ ہوجاتے ہیں اور وہ کام کرنا بند کردیتا ہے۔اپنی کارروائی مکمل کرنے کے بعد یہ ہتھیار اس سیارچے کو چھوڑ کر اس سے دور ہوجاتا ہے۔اس طرح یہ ہتھیار کسی بھی مصنوعی سیارچے کو اس انداز سے تباہ کرسکتا ہے کہ زمینی کنٹرول اسٹیشن پر اس کی تباہی کسی تیکنیکی خرابی کا نتیجہ محسوس ہوگی۔
ماہرین کے مطابق اس کے ذریعے سٹیلائٹ میں داخل کیے گئے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے کا وقت اور دورانیہ بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ یعنی سٹیلائٹ کے تھرسٹر نوزل سے چپکنے کے بعد یہ ہتھیار کئی دنوں تک خاموشی سے وہیں رہ سکتا ہے اور صرف اسی وقت سرگرم ہوگا کہ جب اسے کارروائی کی ہدایت موصول ہوگی۔اِدھریورپی سائنس دانوں نے اندازہ لگا یا ہے کہ اوزون لیئر میں قطب جنوبی سے بڑا سوراخ پیدا ہو گیا ہے ۔ماحولیا تی سائنس دانوں کے مطابق رواں سال اوزون میں پیدا ہونے والاسوراخ زیادہ بڑا ہو چکا ہے ۔زمین کے بالائے ماحول پر نگاہ رکھنے والے یو رپی ادارےکوپرنیکس مانیٹرنگ سروس کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سوراخ کا حجم براعظم انٹارکٹک سے بھی بڑا ہو گیا ہے۔ ادارے نے اس صورت حال پر گہری تشویس ظاہر کی ہے۔ یہ سوراخ جنوبی نصف کرۂ کے اوپر ہر سال بہار کے موسم میں دکھائی دیتا ہے۔یہ حقیقت میں زمین کے باسیوں کے لیے فطرت کا ایک بہت بڑا عطیہ ہے لیکن انسانی ٹیکنالوجیکل ترقی کی وجہ سے اس اوزون لیئر کو شدید اور کسی حد تک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔یہ اہم امر ہے کہ اوزون لیئر کے تحفظ کے مانٹیریال پروٹوکول کے بعد اس لیئر کو پہنچنے والے نقصان کی شرح میں معمولی کمی ہوئی اور اس میں انتہائی سست رفتار سے بحالی بھی دیکھی گئی ہے۔
اس بین الاقوامی معاہدے مانٹریال پروٹوکول کے تحت اوزون کو نقصان پہنچانے والے ہالوکاربن گروپ کے کیمیکل کے استعمال پر عالمی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ہالوکاربن کیمیاوی مادوں ہی نے حقیقت میں اوزوں کی تہہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان کیمیکلز پر پابندی کے نتیجے میں اوزون لیئر کی بحالی 2060 ءتک ممکن ہو سکتی ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس لیئر کو بچانے کے معاہدے کی وجہ سے گزشتہ تین دہائیوں میں اوزون لیئر کی ریکوری دیکھی گئی ہے، گو یہ رفتار خاصی سست ہے۔نیو جرسی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے گزشتہ کئی برسوں کے ڈیٹا سے اندازہ لگایا ہے کہ ہمارے سمندر گرم ہورہے ہیں اور ان سے بننے والے بادل اب مزید روشن اور چمکدار نہیں رہے۔ یہ بادل زمین پر پہنچنے والی سورج کی روشنی کو منعکس کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سیارہ مزید گرم ہوتا چلا جائے گا۔ اس کے لیے انہوں نے چاند کو منور کرنے والی زمینی روشنی کا بغور مطالعہ کیا۔ معلوم ہوا کہ 1998 کے مقابلے میں نصف واٹ فی مربع میٹر روشنی کم ہوئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین تک جتنی بھی روشی پہنچتی ہے ہمارا سیارہ اس کی 30 فی صد مقدار خلا میں لوٹا دیتا ہے۔
یہ عمل ایلبیڈو کہلاتا ہے۔ اس طرح زمین سے منعکس ہونے والی روشنی میں نصف فی صدکمی واقع ہوئی ہے۔زمین کے دمکنے کا انحصار اس پر پڑنے والی اور دوبارہ منعکس ہونے والی روشنی پر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے غور کیا تو معلوم ہوا کہ مشرقی بحرالکاہل کے اوپر کم بلندی کے حامل بادلوں سے ٹکرا کر لوٹنے والی روشنی میں کمی واقع ہورہی ہے۔ماہرین کے مطابق اس کی وجہ کلائمٹ چینج ہے، جس کی بدولت اجلے بادل کم ہورہے ہیں اور سمندروں کی سطح کا درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے۔
شاید اس کی وجہ’ ’پیسفِک ڈیکیڈل آسیلیشن‘‘ ہے جو بحرالکاہل کے آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔کیلفورنیا میں واقع بگ بیئر رصدگاہ سے بھی 1500 راتوں کا ڈیٹا لیا گیا ہے اور اس کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ نہ صرف بادل بلکہ زمینی پانی، جنگلات، برف اور ریگستان وغیرہ بھی سورج کی روشنی منعکس کرکے زمین کو منور کرتے ہیں۔تاہم یہ تحقیق جاری رہے اور اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جارہی ہے ۔دریں اثنا سوئٹزرلینڈ کے سائنس دانوں نے کائنات کا سب سے بڑا تھری ڈی نقشہ تیار کیا ہے، جس کے ذریعے آپ بھی گھر بیٹھے عالمی خلائی اسٹیشن، چاند اور نظامِ شمسی کے سیاروں سے لے کر دور دراز کہکشاؤں کی سیر اس طرح کرسکیں گے کہ جیسے آپ خود وہاں موجود ہوں۔’’ورچوئل رئیلیٹی یونیورس پروجیکٹ‘‘ (VIRUP) نامی اس منصوبے کے تحت ایک اوپن سورس سافٹ ویئر بنایا گیا ہے جو بڑی بڑی زمینی اور خلائی دوربینوں کے ان گنت مشاہدات اور اعداد و شمار کو یکجا کرکےانہیں تھری ڈی منظر کی صورت دیتا ہے۔
اس منظر کو ورچوئل رئیلیٹی ہیڈسیٹ، تھری ڈی چشموں والے پینورامک سنیما پلانٹیریم اسکرین اور کمپیوٹر اسکرین پر بھی آسانی سے دیکھا جاسکے گا۔یہ سافٹ ویئر لوزین، سوئٹزرلینڈ کے مشہور تحقیقی ادارے ’’ای پی ایف ایل‘‘ کے ماہرین نے تیار کیا ہے جو مفت ہونے کے علاوہ اوپن سورس بھی ہے۔مطلب یہ کہ اگر آپ پروگرامر ہیں تو اس سافٹ ویئر کا سورس کوڈ ڈاؤن لوڈ کرکے اسے اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔
اس سافٹ وئیر سے سائنس داں اور ماہر فلکیات بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور اپنی تحقیق میں مدد لے سکتے ہیں ۔اس سافٹ ویئر کی تیاری میں دنیا کے 8 بڑے فلکیاتی ڈیٹا بیسز سے استفادہ کیا گیا ہے جن میں ہزاروں ایگزوپلینٹس، کروڑوں کہکشاؤں اور خلائی اجسام کے علاوہ ہماری ملکی وے کہکشاں میں روشنی کے ڈیڑھ ارب سے زائد منبعوں سے متعلق معلومات جمع ہیں۔
آنے والے برسوں میں یہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ بھی کیا جاتا رہے گا اور اس میں ہمارے نظامِ شمسی میں گردش کرتے ہوئے لاکھوں شہابیوں کے علاوہ دیوقامت سحابیوں (نیبولا) اور دور دراز موجودنیوٹرون ستاروں سے متعلق ڈیٹا بیس بھی شامل کیے جائیں گے۔فی الحال اس سافٹ ویئر کا بی-ٹا ورژن جاری کیا گیا ہے جو ونڈوز اور لینکس آپریٹنگ سسٹمز کےلیے ہے۔ میک آپریٹنگ سسٹمز کےلیے یہ سافٹ ویئر کچھ عرصے بعد جاری کیا جائے گا۔