اشرف چراغ
کپوارہ//شمالی ضلع کپوارہ میں مسلسل خشک سالی کے نتیجے میں اہم ندی نالو ں کے پانی کی سطح میں نمایا ں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے فصلوں کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا جبکہ کئی علاقوں میں دھان کی فصل مکمل طور تباہ ہوئی ہے ۔بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے دھان کی کھیت سوکھ گئے اور کاشتکارو ں کی امیدیں ختم ہوگئی ہیں ۔ضلع کے مغل پورہ ،وار پوری ،ہتمولہ اور دیگر کنڈی علاقوں آبپاشی پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں دھان کے کھیت مکمل طور سکوھ گئے اور ان میں دراڑیں پڑ گئی ہیں ۔ان علاقوں کے کسانو ں کا کہنا ہے کہ ان کے کھیتو ں کو نگری واری کول سے پانی فراہم کیا جاتا ہے تاہم مسلسل خشک سالی کے بعد یہ کول مکمل طور خشک ہو گئی ہے ۔نگری واری کو نالہ پہرو اور نالہ کہمیل سے پانی آتا ہے جس کے بعد نگری واری سے ان علاقوں کے کھیتو ں کو سیراب کیا جاتا لیکن نالہ کہمیل اور نالہ پہرو ں کے پانی کی سطح میں بھی شدید کمی واقع ہوئی ہے ۔
خشک سالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی علاقوں میں دھان کی پنیری لگانے کے ساتھ ہی سوکھ گئی اور کسانو ں نے دوبارہ اپنے کھیتو ں میں مکی کی فصل بوئی ۔کئی علاقوں میں پانی کی قلت کا سامنا تھا جس کے بعد ان علاقوں کے کسانو ں نے اپنے دھان کے کھیتو ں میں مکی اور راجماکے بیج بوئے ۔خشک سالی سے اثر انداز علاقوں کے کسانو ں کا کہنا کہ اگر ان علاقوں میں آبپاشی کے لئے لفٹ اری گیشن سکیم کے تحت مو ٹر نصب کئے جاتے تو کسانو ں کی محنت ضائع نہیں ہوتی اور اس سلسلے میں کئی بار اعلیٰ حکام سے بھی بات کی لیکن تا حال کوئی حل نہیں نکالا گیا ۔ایک کسان کا کہنا ہے کہ طویل خشک سالی نے انہیں زبردست پریشان کر کے رکھ دیا ہے اور یہ خشک سالی قدرت کا قہر بن کر ان کے اوپرٹو ٹ پڑی ہے ۔متا ثرہ علاقوں کے کسانو ں کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ کافی پسماندہ ہیں اور یہا ں کے زیادہ تر لوگ کھیتی باڈی پر انحصار کرتے ہیں اور ساتھ میں مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں ۔ان کا مزید کہنا ہے کہ دھان کی فصل اور سبزیوں کی پید وار سے ان کے گھرو ں کے اخراجات کو پورا کرنے میں آسانی ہوتی ہے لیکن دھان کی پید وار تباہ ہونے سے فاقہ کشی کی نوبت بھی آسکتی ہے کیونکہ بعض غریب کسان سال بھر کی خوارک خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں ۔ایک کسان کا کہنا ہے کہ انہو ں نے عمر میں اس قسم کی خشک سالی نہیں دیکھی اور امسال اس حد تک خشک سالی ہوگئی کہ ن کے خون پسینے کی محنت بر باد ہونے کا خدشہ ہے ۔صورتحال کا انداز ہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انسان کیا جانور بھی پانی کے لئے ترس رہے ہیں اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے زمین میں ذرا بھر بھی نمی باقی نہیں رہی ہے اور گھاس بھی جل گئی ہے ۔