سرینگر//میجر گگوئے کو ایک ہفتہ قبل سرینگر کے ایک ہوٹل میں دوشیزہ کے ساتھ مشکوک حالت میں حراست میں لینے اور ما بعد بشری حقوق کارکن کی طرف سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے متعلق پولیس نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں رپورٹ پیش کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میجر گگوئی نے خود کو ایک مسلم نوجوان کے بطور دوشیزہ سے متعارف کرایااور اس سلسلے میں ایک مقامی فوجی اہلکار سمیر ملہ سے بھی مدد حاصل کی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ میجر نے سماجی رابطہ گاہ پر ایک نقلی مسلم نوجوان عبید الرحمان کے طور پر خود کو پیش کیا،اور لڑکی سے رابطے بڑھائے۔رپورٹ کے مطابق میجر گگوئی اور سمیر ملہ نے مذکورہ دوشیزہ کے ساتھ فون نمبرات کا اشتراک بھی کیا،جس کے بعد اس سے بات کی اور نجی گاڑی میں انکے ہمراہ ہوٹل تک سفر کرنے سے قبل ماگام میں انکا انتظار بھی کیا۔ پولیس نے اس رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ دوشیزہ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ میجر گگوئی اپنی اصل شناخت ظاہر نہیں کر رہا تھا،بلکہ صرف ایک ماہ قبل انہیں معلوم پڑا کہ وہ فوجی میجر ہے۔ رپورٹ میں لڑکی کے حوالے سے کہا گیا’’ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت میں 10بجے ماگام پہنچی،وہ میجر کی دوست ہے،اور سرینگر جانے کیلئے اس پر کوئی دبائو نہیں تھا بلکہ وہ خود اسکے ساتھ چلی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق اس کے سرینگر جانے کا پلان طے شدہ تھا، اوراس نے ہی میجر اور سمیر ملہ سے کہا تھا کہ وہ اسکا ماگام میں انتظار کریں۔لڑکی کا کہنا ہے ’’میںفیس بک پر گگوئی کو جانتی تھی اور اسکی دوست بن گئی تھی،اس کا نام پہلے فیس بک پر عبید رحمان تھا،اور بعد میں،اس نے مجھے کہا کہ اس کا نام گگوئی ہے،اور وہ بیروہ میں تعینات ہے،پہلے مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ فوجی ہے،اور بعد میں ایک ماہ قبل مجھے یہ معلوم پڑا،کہ وہ فوجی افسر ہے‘‘۔پولیس کا کہنا ہے کہ آدھار کارڑ اور اسکول ریکارڑ کے مطابق لڑکی کی عمر 18 سال سے زیادہ ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہوٹل عملے کی طرف سے انہیں کمرہ دینے سے انکار کرنے پر،کیونکہ وہ کشمیری دوشیزہ تھی،ان کی عملے کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی،جس کے بعد پولیس کو طلب کیا گیا۔پولیس رپورٹ کے مطابق میجر گگوئی اور سمیر ملہ کو پولیس تھانہ پہنچایا گیا،جس کے بعد دوشیزہ کا بیان قلمبند کیا گیا۔پولیس نے مزید کہا ہے کہ میجر گگوئی نے پہلے ہی ہوٹل میں آن لائن طریقہ کار سے کمرہ بک کیا تھا،تاہم ہوٹل انتظامیہ نے ان کے ہمراہ کشمیری دوشیزہ کو دیکھ کر انہیں ہوٹل میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تینوں ہوٹل پارکنگ میں گئے،جہاں سے سمیر ملہ غصے میں آکر ہوٹل میں داخل ہوا،اور عملے کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی،جس کے ساتھ ہی وہاں مقامی لوگ بھی جمع ہوئے،اور ہوٹل انتظامیہ نے پولیس کو طلب کیا۔رپورٹ کے مطابق گگوئی نے کہا کہ وہ فوج کی53آر آر کے ساتھ کام کرتا ہے۔ میجر اس وقت وادی کے منظر نامہ پر چھا گیا جب گزشتہ برس سرینگر کی پارلیمانی نشست کیلئے ضمنی انتخابات کے دوران انہوں نے خانصاحب علاقے میں ایک کشمیری نوجوان فاروق احمد ڈار کو گاڑی کے آگے باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔اس واقعے کے بعدکشمیر پولیس چیف ایس پی پانی نے معاملے کی نسبت تحقیقات کے احکامات صادر کرتے ہوئے ایک ٹیم ایس پی نارتھ زون سرینگر کی سربراہی میں تشکیل دی ۔