لیفٹنٹ گورنر نے کیا ایس کے آئی سی سی سے 5کلومیٹرطویل ’ریڈنگ میراتھن‘ کوہری جھنڈی دکھا کر روانہ
سرینگر// جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سنیچر کے روز سرینگر میں شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر سے5 کلومیٹر طویل ’ریڈنگ میراتھن‘کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس موقعے پر انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ منشیات سے دور رہیں، تاحیات مطالعہ کی عادت اپنائیں اور ماحولیات کے تحفظ میں فعال کردار ادا کریں۔ 9روزہ چنار بک فیسٹیول کے حصے کے طور پر منعقد ہونے والی اس’ریڈنگ میراتھن‘ میں جموں و کشمیر بھر سے سینکڑوں طلبہ، ٹیچروں، ماہرین تعلیم اور دیگر شرکاء نے حصہ لیا۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے اس میراتھن کو ایک منفرد اقدام قرار دیا جس میں علم، جسمانی تندرستی اور ماحولیاتی ذمہ داری کا امتزاج موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میراتھن علم حاصل کرنے کی ثقافت اور فطرت کے تئیں ہماری ذمہ داری کا ایک حسین سنگم ہے۔منوج سنہا نے مزید کہا کہ نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت خطے کے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور فہم و فراست کی عکاس ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کلاس رومز اور نصابی کتابوں سے آگے بڑھ کر سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کو طلبہ کو عملی اقدامات اور کمیونٹی کی شمولیت کے ذریعے ذمہ دار شہری بننے کے لیے تیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن صرف کتابوں یا چہار دیواری تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اسے کھیلوں، کمیونٹی کی شرکت، صحت مند زندگی اور ذمہ دارانہ شہریت میں نظر آنا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ریڈنگ میراتھن کو ایک ایسی مثال قرار دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح قومی تعلیمی پالیسی کے مقاصد کو بامنی عوامی شرکت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔چنار بک فیسٹیول کے تھیم ‘رن فار اے گرین فیوچر (سبز مستقبل کیلئے دوڑ) اور اس کے نعرے’منشیات کو نہ کہیں، کتابوں کو ہاں کہیں‘کا حوالہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ اس پروگرام نے 5کلومیٹر کی دوڑ کے ذریعے جسمانی تندرستی، مطالعہ کے ذریعے ذہنی و فکری ترقی اور پائیدار طریقوں کے ذریعے ماحولیاتی بیداری کو فروغ دے کر زندگی کے تین اہم پہلوؤں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مطالعہ علم کو وسعت دینے اور تنقیدی سوچ پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے، جب کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی نظم و ضبط پیدا کرتی ہے اور صحت کو بہتر بناتی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے فطرت کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ منوج سنہا نے مزید کہا کہ کتابوں میں ماحولیاتی تبدیلی یا صحت سے متعلق پڑھنا آسان ہے، لیکن سچی تعلیم کی ترجمانی تب ہوتی ہے جب ہم عملی قدم اٹھاتے ہیں، خواہ وہ تندرستی کے لیے دوڑنا ہو، ماحول کا تحفظ کرنا ہو یا خود کو منشیات سے دور رکھنا ہو۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مطالعہ کو روزمرہ کی عادت بنا کر، ماحولیاتی طور پر ذمہ دارانہ طریقے اپنا کر اور اس تقریب کے بعد بھی معاشرے کی خدمت جاری رکھ کر مثبت سماجی تبدیلی کے سفیر بنیں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے مطابق، یہ اقدار ایسے ذمہ دار شہری بنانے میں مدد گار ثابت ہوں گی جو قوم کی تعمیر میں بامعنی تعاون کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔