جاوید اقبال
مینڈھر// ضلع راجوری کی تحصیل منجاکوٹ کے سرحدی علاقے اُپر دبروٹ میں آج بھی کئی غریب خاندان بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔علاقے میں بیشتر رہائشی مکانات کچے اور خستہ حال ہیں جبکہ غریب خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ کئی خاندان ایسے ہیں جو ایک ہی کمرے پر مشتمل گھروں میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ بارش کے دنوں میں ان مکانات کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے اور ہر وقت حادثات کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔علاقے میں بجلی کے مناسب انتظامات موجود نہیں ہیں۔ بجلی کے کھمبے نصب نہ ہونے کے باعث بجلی کی تاریں درختوں کے ساتھ باندھی گئی ہیں، جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔ مقامی باشندوں نے بتایا کہ تیز ہواؤں اور بارش کے دوران یہ تاریں مزید خطرناک ہو جاتی ہیں، مگر متعلقہ محکمہ کی جانب سے آج تک کوئی مستقل حل فراہم نہیں کیا گیا۔پانی کی قلت بھی علاقے کا ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق سرکاری پانی سپلائی ہفتے میں صرف ایک بار آتی ہے جس کی وجہ سے خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کئی مرتبہ لوگوں کو دور دراز علاقوں سے پانی لانا پڑتا ہے۔علاقہ کے رہائشی محمد بشیر ولد جما، محمد مصر ولد محمد بشیر اور محمد عبداللہ ولد جما اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک ہی کمرے پر مشتمل کچے مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ بکر وال برادری سے تعلق رکھنے والے یہ خاندان انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ گھر کی خستہ حالی اور محدود وسائل دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر مشکلات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔اسی طرح مقبول حسین ولد فیروز خان سکنہ دبروٹ کی حالت بھی نہایت دردناک ہے۔ ان کی اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ ان کے دو بیٹے ذہنی بیماری میں مبتلا بتائے جاتے ہیں۔ یہ خاندان بھی ایک شکستہ اور کچے مکان میں رہنے پر مجبور ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس خاندان کو فوری سرکاری امداد اور خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ انہیں آج تک پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم آواس یوجنا) کے تحت رہائشی مکانات فراہم نہیں کیے گئے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر مالی امداد دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل شدید بارشوں کے باعث علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے تھے جس سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا۔ متاثرین کے معاوضے کے لیے فائلیں بھی تیار کی گئیں لیکن آج تک کسی متاثرہ خاندان کو کوئی مالی امداد نہیں ملی۔سابق فوجی محمد سلیم اور مقامی باشندوں نے تحصیل انتظامیہ منجاکوٹ، ضلع انتظامیہ راجوری اور حکومت جموں و کشمیر سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر ایک خصوصی ٹیم علاقے کا دورہ کرے، غریب خاندانوں کی حالت کا جائزہ لے اور انہیں ان کا جائز حق فراہم کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو رہائشی مکانات، صاف پانی، محفوظ بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات فوری طور پر فراہم کی جائیں تاکہ وہ بھی عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں آباد یہ غریب خاندان برسوں سے محرومیوں کا شکار ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ان کی مشکلات کا مستقل حل نکالے تاکہ آنے والی نسلیں بہتر اور محفوظ مستقبل حاصل کر سکیں۔