بغداد//عراقی دارالحکومت بغداد میں عراقی سیکورٹی فورسز اور ایک طاقتور شیعہ عالم کے حامیوں کے درمیان لڑائی میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔ موجودہ بدامنی اور ‘انتہائی کشیدگی’ کی صورتحال کے پیش نظر منگل کو پورے ملک میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔شیعہ عالم مقتدا الصدر کی جانب سے سیاست سے مستقل ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔ الصدر نے ‘تشدد اور ہتھیاروں کا استعمال’ ختم ہونے تک بھوک ہڑتال شروع کی ہے ۔الجزیرہ نے اپنے ایک صحافی کے حوالے سے بتایا کہ ہم نے پوری رات گولیوں کی آوازیں سن رہے ہیں، درمیانے اور ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے ، ہم نے گرین زون کے اندر کئی دھماکوں کی آوازیں بھی سنی ہیں۔ مختلف ممالک کے سفارت خانے اور سرکاری دفاتر گرین زون میں واقع ہیں۔عراقی خبر رساں ایجنسی نے سکیورٹی فورسز کے حوالے سے بتایا کہ گرین زون کی جانب چار میزائل داغے گئے ۔ میزائلیں ایک رہائشی کمپلیکس میں گریں جس سے کافی نقصان ہوا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ”میزائلوں کو دارالحکومت بغداد کے مشرق میں الحبیبیہ اور البلادیات کے علاقوں سے داغا گیا”۔ وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازوں سے بغداد کے مکین جاگ اٹھے ۔میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ عراقی سیکورٹی فورسز نے شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کو ریپبلکن پیلس سے جہاں وزیر اعظم کا دفتر واقع ہے۔ اور ارد گرد کے علاقوں سے نکال دیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گٹیریس کے ترجمان نے کہا کہ وہ عراق میں ہونے والے واقعات سے فکر مند ہیں اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ صدر کے معاون، نگران وزیراعظم نے کابینہ کی میٹنگیں معطل کر دی ہیں اور بااثر مولوی مداخلت کرنے اور تشدد کو روکنے کی اپیل کی ہے ۔