ڈکٹرریاض احمد
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ذہانت کو پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ مشینیں مضامین لکھ سکتی ہیں، تصویریں بنا سکتی ہیں، پیچیدہ مسائل حل کر سکتی ہیں، بیماریوں کے نمونوں کی نشاندہی کر سکتی ہیں، زبانوں کا ترجمہ کر سکتی ہیں، اور چند سیکنڈ میں سوالات کے جواب دے سکتی ہیں۔ انسان بھی اپنی ذہانت پر فخر کرتا ہے۔ ہم شہر آباد کرتے ہیں، ہوائی جہاز اڑاتے ہیں، خلا کی تسخیر کرتے ہیں، جینز کو سمجھتے ہیں اور ایسے ڈیجیٹل نظام بناتے ہیں جو پوری دنیا کو آپس میں جوڑ دیتے ہیں۔ لیکن ایک تلخ حقیقت پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ ذہانت ہمیشہ دانائی پیدا نہیں کرتی۔ بعض اوقات یہی ذہانت ہمارے سب سے بڑے فریب اور وہم پیدا کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
یہی وہ تنبیہ ہے جسے ہمارے زمانے کو سنجیدگی سے سننے کی ضرورت ہے۔ انسانی ذہانت غیر معمولی ہے، لیکن جب یہ سچائی، عاجزی، اخلاقیات اور ذمہ داری کے تابع نہ ہو تو خطرناک بھی بن سکتی ہے۔ ایک ذہین دماغ دوا بھی ایجاد کر سکتا ہے اور زہر بھی بنا سکتا ہے۔ ایک سمجھ دار معاشرہ یونیورسٹیاں بھی قائم کر سکتا ہے اور پروپیگنڈا بھی پھیلا سکتا ہے۔ ایک طاقتور ٹیکنالوجی لوگوں کو جوڑ بھی سکتی ہے اور انہیں نفرت کے گروہوں میں تقسیم بھی کر سکتی ہے۔ ذہانت ہمیں طاقت دیتی ہے، مگر دانائی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اس طاقت کو استعمال کیسے کرنا ہے۔
آج کی دنیا معلومات کے سیلاب میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ہر روز لاکھوں پوسٹس، ویڈیوز، مضامین، آراء، اشتہارات، سیاسی پیغامات، مذہبی دعوے اور مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ جوابات ہماری توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ زیادہ معلومات کا مطلب زیادہ علم ہے۔ لیکن یہ خیال غلط ہے۔ معلومات اور سچائی ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ سچائی معلومات کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ ہمارے اردگرد موجود بہت سی معلومات ادھوری، جانبدار، مبالغہ آمیز، گمراہ کن یا مکمل طور پر جھوٹی ہوتی ہیں۔
یہ فرق سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ افواہ بھی معلومات ہے، مگر وہ سچائی نہیں۔ سازشی نظریہ بھی معلومات ہے، مگر وہ سچائی نہیں۔ خوبصورتی سے تیار کی گئی جعلی ویڈیو بھی معلومات ہے، مگر وہ سچائی نہیں۔ مصنوعی ذہانت کا پُراعتماد جواب بھی معلومات ہے مگر وہ لازمی طور پر سچ نہیں ہوتا۔ ڈیجیٹل دور میں جھوٹ کمزور یا بدصورت شکل میں سامنے نہیں آتا۔ وہ اکثر خوبصورت، جذباتی، دلکش اور قائل کر دینے والی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اسی لیے وہ محتاط سچائی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔
انسان صرف ذہین مخلوق نہیں، بلکہ کہانیاں بنانے اور ان پر یقین کرنے والی مخلوق بھی ہے۔ ہم دنیا کو صرف دیکھتے نہیں، بلکہ اسے اپنی کہانیوں، عقائد، شناخت، خوف، امیدوں اور وفاداریوں کے ذریعے سمجھتے ہیں۔ یہ کہانیاں کبھی ہمت، تعاون اور اتحاد پیدا کرتی ہیں، لیکن کبھی خطرناک فریب بھی جنم دیتی ہیں۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں ذہین لوگوں نے خوفناک جھوٹ پر یقین کیا، صرف اس لیے کہ وہ جھوٹ ان کے غرور، سیاست، مذہب، نسل، قوم یا نظریے کو تقویت دیتا تھا۔ ذہانت نے انہیں غلطی سے نہیں بچایا۔ بعض حالات میں ذہانت نے ان غلطیوں کو زیادہ مضبوط دلائل کے ساتھ درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔اسی لیے مصنوعی ذہانت کا عروج صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک اخلاقی اور تہذیبی مسئلہ بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت ایسی رفتار اور پیمانے پر معلومات پیدا کر سکتی ہے جس کا انسان نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا۔ یہ قائل کر دینے والی تحریریں لکھ سکتی ہے، حقیقت جیسی تصویریں بنا سکتی ہے، آوازوں کی نقل کر سکتی ہے، کتابوں کا خلاصہ تیار کر سکتی ہے، جعلی خبریں بنا سکتی ہے اور عوامی رائے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ لیکن مصنوعی ذہانت خود بخود دانائی نہیں جانتی۔ اس کے پاس ضمیر نہیں ہوتا۔ وہ ذمہ داری محسوس نہیں کرتی۔ وہ ڈیٹا پر عمل کر سکتی ہے، مگر اخلاقی فیصلہ انسان ہی کو کرنا ہوتا ہے۔خطرہ صرف یہ نہیں کہ مشینیں بہت زیادہ ذہین ہو جائیں گی۔ اس سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ انسان ذہین مشینوں کی موجودگی میں ذہنی طور پر سست ہو جائے گا۔ جب لوگ سوال کرنا، تصدیق کرنا، غور کرنا اور آزادانہ سوچنا چھوڑ دیتے ہیں تو ٹیکنالوجی ضمیر کا متبادل بن جاتی ہے۔ ہم اسکرین پر نظر آنے والی ہر بات کو اس لیے قبول کرنے لگتے ہیں کہ وہ رواں، جدید اور پُراعتماد معلوم ہوتی ہے۔ یہی فکری غلامی کا آغاز ہے؛ ایسی غلامی جو طاقت سے نہیں بلکہ سہولت سے پیدا ہوتی ہے۔
تعلیم کے میدان میں یہ خطرہ پہلے ہی نظر آ رہا ہے۔ طلبہ اب موضوع کو سمجھے بغیر اسائنمنٹ تیار کر سکتے ہیں۔ اساتذہ گہری علمی محنت کے بغیر تدریسی مواد بنا سکتے ہیں۔ ادارے حقیقی سیکھنے کے بجائے خوبصورت اور چمک دار نتائج سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر تعلیم صرف معلومات پیدا کرنے کا نام بن جائے تو وہ اپنے اصل مقصد میں ناکام ہو جائے گی۔ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو ڈیٹا سے بھرنا نہیں، بلکہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت، کردار، تجسس، نظم و ضبط اور ذمہ داری پیدا کرنا ہے۔ وہ طالب علم زیادہ تعلیم یافتہ ہے جو اچھا سوال کرنا جانتا ہے، نہ کہ وہ جو صرف بہترین جواب نقل کر سکتا ہے۔
سیاست میں یہ مسئلہ اور زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ عوامی رائے نعروں، جذباتی ویڈیوز، ایڈٹ شدہ کلپس، جعلی اعداد و شمار اور الگورتھم کے ذریعے بدل سکتی ہے۔ لوگ ایسی معلومات کی بنیاد پر ووٹ دے سکتے ہیں، احتجاج کر سکتے ہیں، نفرت پھیلا سکتے ہیں یا پالیسیوں کی حمایت کر سکتے ہیں جن کی انہوں نے کبھی تصدیق ہی نہیں کی۔ جو معاشرہ سچ اور شور میں فرق نہیں کر سکتا، اسے کنٹرول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ جمہوریت کو باخبر شہریوں کی ضرورت ہے، صرف انٹرنیٹ سے جڑے صارفین کی نہیں۔ آزادیٔ اظہار اسی وقت بامعنی بنتی ہے جب شہریوں میں سوچنے کی ذمہ داری بھی موجود ہو۔
مذہب اور ثقافت کے میدان میں غلط معلومات مزید خطرناک ہو سکتی ہیں، کیونکہ یہ شناخت اور جذبات کو چھوتی ہیں۔ کوئی جھوٹا پیغام، غلط حوالہ، یا تبدیل شدہ ویڈیو چند منٹوں میں معاشروں کو بھڑکا سکتی ہے۔ لوگ ایمان، حب الوطنی یا انصاف کے نام پر نقصان دہ مواد آگے بھیج دیتے ہیں، بغیر یہ دیکھے کہ وہ درست بھی ہے یا نہیں۔ نیک نیتی جھوٹی معلومات کو بے ضرر نہیں بناتی۔ خلوص کے ساتھ پھیلایا گیا جھوٹ بھی جھوٹ ہی رہتا ہے، اور کبھی کبھی اس کے نتائج نہایت نقصان دہ ہوتے ہیں۔
کاروباری دنیا بھی اس بحران سے محفوظ نہیں۔ کمپنیاں مارکیٹ، صارفین، ملازمین اور سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں کے لیے ڈیٹا، تجزیات اور مصنوعی ذہانت پر انحصار کرتی ہیں۔ لیکن سیاق و سباق کے بغیر ڈیٹا گمراہ کر سکتا ہے۔ اخلاقیات کے بغیر اعداد و شمار استحصال کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انسانیت کے بغیر کارکردگی زندگیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جو کاروبار ذہانت کو صرف منافع بڑھانے کے لیے استعمال کرے اور انصاف، وقار اور پائیداری کو نظر انداز کرے، وہ وقتی طور پر کامیاب دکھائی دے سکتا ہے، مگر طویل مدت میں معاشرتی زوال کا سبب بنتا ہے۔
تو حل کیا ہے؟ حل ٹیکنالوجی کو رد کرنا نہیں ہے۔ مصنوعی ذہانت بذات خود دشمن نہیں۔ ہر طاقتور آلے کی طرح اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔ اصل حل یہ ہے کہ ذہانت کے گرد دانائی کا حصار قائم کیا جائے۔ ہمیں اسکولوں میں تنقیدی سوچ، گھروں میں میڈیا لٹریسی، جامعات میں اخلاقی تربیت، صحافت میں ذمہ داری، ٹیکنالوجی میں شفافیت، اور عوامی زندگی میں عاجزی کی ضرورت ہے۔ہر شہری کو چند سادہ عادتیں سیکھنی چاہئیں۔ ہر بات پر فوراً یقین نہ کریں۔ ذریعہ چیک کریں۔ مختلف ذرائع سے معلومات کا موازنہ کریں۔ یہ پوچھیں کہ اس پیغام سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔ جذباتی مواد سے خاص طور پر محتاط رہیں، کیونکہ غصہ اور خوف اکثر فیصلے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ صرف اس لیے کوئی پیغام آگے نہ بھیجیں کہ وہ آپ کے عقائد سے میل کھاتا ہے۔ کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے خود سے پو چھیں، کیا یہ سچ ہے؟ کیا یہ ضروری ہے؟ کیا یہ ذمہ دارانہ عمل ہے؟
والدین کو بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ انٹرنیٹ خود بخود استاد نہیں ہوتا۔ یہ سچ، آدھا سچ، رائے، تفریح، فریب اور شور کا ایک بازار ہے۔ اساتذہ کو طلبہ کی مدد کرنی ہوگی کہ وہ مصنوعی ذہانت کو سیکھنے کے آلے کے طور پر استعمال کریں، سیکھنے سے بچنے کے راستے کے طور پر نہیں۔ صحافیوں کو رفتار کے مقابلے میں تصدیق کا دفاع کرنا ہوگا۔ مذہبی اور سماجی رہنماؤں کو جذباتی غلط معلومات کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔ حکومتوں اور اداروں کو جائز آزادی کو دبائے بغیر معاشرے کو ڈیجیٹل فریب سے محفوظ رکھنا ہوگا۔
سب سے بڑھ کر ہمیں فکری عاجزی کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ سب سے خطرناک شخص وہ نہیں جو نہیں جانتا، بلکہ وہ ہے جو نہیں جانتا مگر سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ حقیقی دانائی اس جرأت سے شروع ہوتی ہے کہ انسان کہہ سکے،’’ممکن ہے میں غلط ہوں۔‘‘ یہ دانائی اس وقت بڑھتی ہے جب ہم غور سے سنتے ہیں، شواہد کا جائزہ لیتے ہیں، پیچیدگی کا احترام کرتے ہیں، اور اپنی اصلاح کے لیے تیار رہتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا دور انسانیت کا امتحان صرف ٹیکنالوجی کے میدان میں نہیں لے گا، بلکہ اخلاقیات کے میدان میں بھی لے گا۔ ممکن ہے ہم پچھلی تمام نسلوں سے زیادہ معلومات پیدا کریں، مگر کم دانا ہو جائیں۔ ممکن ہے ہم زیادہ ذہین مشینیں بنا لیں، مگر خود سطحی انسان بن جائیں۔ ممکن ہے ہم رفتار کی دوڑ جیت جائیں، مگر سچائی کا نظم و ضبط ہار بیٹھیں۔
مستقبل صرف ان معاشروں کا نہیں ہوگا جو سب سے زیادہ ذہین ہوں گے۔ مستقبل ان معاشروں کا ہوگا جو سب سے زیادہ دانا ہوں گے؛ وہ معاشرے جو سچ کو شور سے، علم کو فریب سے، اور طاقت کو ذمہ داری سے الگ کرنا جانتے ہوں گے۔ ذہانت ہمیں بہت دور تک لے جا سکتی ہے، مگر صرف دانائی ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ ہمیں جانا کہاں چاہیے۔
آخر میں انسانیت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کیا مشینیں سوچ سکتی ہیں۔ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا انسان ایک ایسی دنیا میں، جہاں مشینیں اتنی آسانی سے بول سکتی ہیں، خود گہرائی، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ سوچتے رہیں گے؟
[email protected]