ڈاکٹرمنظور آفاقی
اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا دنیا کا ایک واحد مکمل دین ہے۔یہ ایک ایسا دین ہے جس میں باضابطہ طور پر زندگی گزارنے کا پروٹوکال بیان فرمایا گیا ہے۔فی زمانہ اگرچہ دنیا میں وقتاً فوقتاً مختلف ادیان وجود میں آتے رہے ہیں اور ہر مذہب کی اپنے اپنے طور پر انفرادیت واہمیت ہے۔لیکن اس کے باوجود دین اسلام ایک ایسا دین ہے جس کے الہامی وابدی ہونے کی دلیل اللہ رب العزت نے خودقرآن کریم میں واضح فرمائی ہے اور اس دین ِ مبین کی وحدانیت ،مکمل ،ابدی اورفطری ہونے کی بے شمار مثالیں پیش کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی دین ِ مبین کی وحدانیت ،بالادستی اور لوگوں کی رشدوہدایت کے لیے پیغمبرمبعوث فرمائے ہیں۔ان انبیاء اور رسولوں سے اس بات کا عہد لیا گیا ہے کہ وہ دنیا میںعوام الناس کو اللہ تعالیٰ کی توحید اوردوزخ کی آگ سے ڈرائیں۔اللہ تعالیٰ کے ان برگزیدہ انبیاؤں نے من وعن اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایابلکہ لوگوں کو برائی سے دور اور نیک اعمال کے ساتھ محبت کرنے کی تاکید بھی فرمائی ہے۔خیر دنیا میں پیدا کیے گئے پہلے انسان اور اولوالعزم پیغمبر حضرت آدم ؑ کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ نے انسان کو بشریت کے تقاضوں سے بالاتر کرکے اس میں کچھ اوصاف حمیدہ بھی ودیعت کر دئیے گئے ہیں۔ دین ِ اسلام کو اپنانے سے انسان کو جسمانی اور ذہنی وقلبی سکون حاصل ہو جاتا ہے۔بعد ازاں زمانے کی تغیروتبدل کے چلتے چلتے جب بنی نوع انسان کے اندر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ساری تعلیمات ایک دم صفر ہونے لگی ہے۔گویا انسانی ظاہر وباطن میں نہ وہ خلوص اور نہ وہ محبت وعظمت کی پاسداری ر ہی۔ایسے میں انسان کو معاشرے کے اندرقدر ومنزلت کی وہ روایت نہ رہی،بلکہ اس کے معاوض اسے ذلت اور رسوائی کی جانب دھکیل دیا گیا ہے۔گویا ایک بنی نوع انسان کو اللہ اور اس کے رسولوں ؑکی متابعت میںہی دنیا و آخرت کاسکون حاصل ہونے کی ضمانت ہے۔
حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدؐ تک صحیح روایات کے مطابق جتنے بھی رسول اور پیغمبربھیجے گئے ہیں، ان سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص مشن اور حکمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔دنیا میں وقتاً فوقتاً مختلف باطل خداؤں کی عبادت کی جاتی تھی جو بالکل اللہ تعالیٰ کی شان میں ظلم اور زیادتی ہے۔لہٰذا بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔انسان کے لئے اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے کہ اپنے حقیقی معبود کے علاوہ کسی غیراللہ کی عبادت کی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام کے ذریعے ہی مختلف اقوام کو عزت اور قدر عطا ہوئی ہے۔اس کا راز صرف اسی بات میں پنہاں کہ اللہ تعالیٰ کو حقیقی معبود مان کر اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے مسلمان دیگر اقوام پر ہمیشہ بھاری پڑے ہیں۔
ہمارے پیارے بنیؐ کی بعثت سے پہلے عرب اور دیگر ممالک میں انسانی زندگی ایک الگ راہ پر گامزن تھی۔ہر طرف دھوکہ،جہالت،لوٹ مار،ڈکیتی اور دیگر بُرے عزائم عواج میں رائج تھیں۔حتیٰ کہ ایک باپ اپنی بیٹیوں کو صغر سنی میں ہی زندہ زمین کے اندر دفن کر دیتے تھے۔اس کی خالص وجہ صرف اور صرف اسلام سے دوری اور باطل آقاؤں کی پیروی اور اطاعت تھی۔ایک انسان جہالت کے اُس زمانے میں اتنا سخت دل بنا ہو اتھا کہ ایک عام آدمی مجبوری کی حالت میں بھی گھر سے باہر نکل نہیں پاتا۔لیکن اس عالم ِ اجرام میں رسول اللہؐ کی بعثت کے بعد برسوں سے چلی آرہی ناپاک عزازیلی منصوبے اور رسم ورواج کو ایک دم قلع وقمع کرکے ایک نئی زندگی گزارنے کا طریقہ لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے۔حضرت عیسیؑ کے بعد بہت مدت تک پیغمبرانِ عزام کو لوگوں کی طرف بھیجا نہیں گیا ہے۔جس کی وجہ سے معاشرے میں نئے عزائم نمودار ہونے لگے ہیںاور اس وقت کی عوام ایک نئے باطل عقیدوں پر ہی اپنی زندگی کی کامیابی کا دارومدار رکھتے تھے۔لیکن اس کے برعکس پیارے نبیؐ کی بعثت اور بنوت کا تاج عطا ہونے کے بعد عرب کی پوری سماجی زندگی میں ایک انقلاب پیدا ہونے لگا ہےجو آہستہ آہستہ پوری دنیا میں پھیل کر اسلام اور اس سے حاصل ہونے والے مثبت نتیجوں کا پھل آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے عیاں ہے۔ اسلامی تعلیمات اور قرآن واحادیث کی پاداش میں زندگی گزارنے کا ایک نیا مزہ اور ولولہ پیدا ہونے لگا۔اس سے پہلے عام زندگی کے اندر جھوٹ،دھوکہ دہی،شراب ،ڈکیتی اور دیگر عزائم معاشرے میں عام پائے جاتے تھے۔لیکن بعثت نبی کریم ؐ کے بعد ان سارے عزائم کی جڑیں کمزور ہونے شروع ہوگئے۔ پیارے نبیؐ اور اُن کے حواریوں نے اسلام تعلیمات اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی صحیح معنوں میں اپنے آپ پر نافذ کرکے خود کو جنت کا حقدار بنایا ہے۔اسلامی امورات کو نافذ کرنے سے انسان کے اندر دیانت داری،محبت،اخوت،بھائی چارہ اور یگانگت جیسے مثبت خصائص پیدا ہونے لگے۔رسول اللہؐ اور دیگر اصحاب کباروں نے اسلام پر عمل پیرا ہوکر چین وسکون کی زندگی گزارنی شروع کر دی۔رسول پاکؐ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد خلفائے راشدین نے بھی اسلامی تعلیمات کے تئیں ہی عظمت واحترام کی زندگی گزار لی ہے۔اب تک کی تحقیق کے مطابق دنیا میں جس بھی قوم نے عظمت حاصل کی ہے اس کی خالی وجہ اسلام اور اس کے تعلیمات کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگنا۔یہی واحد طریقہ دنیا اور اُخروی کامیابی کی ضامن ہوسکتی ہے۔ انسان اپنے آپ بیسوں کوششوں کے باوجود بھی اسلام کے بغیر عظمت وقدر حاصل نہیں کرسکتا ہے۔آج کل کی زندگی پر جب نظر دوڑائی جاتی ہے تو مسلمان ہر ملک ،شہر اور قریہ قریہ ذلت ورسوائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دنیا میں اپنے آپ کو امن امانی کے محافظ کہلانے والے ممالک بھی انسان کے ساتھ ظلم وبربریت کا بازار گرم کرنے میںسرگرداں نظر آرہے ہیں۔آج ہم جس ملک یا شہر میں مسلمانوں کی معاشی حالت پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہر آن ہمیں مسلمانوں کی اذیت ناک حالت دیکھ کر خود پر غم وغصہ کا اظہار کرتے ہیں۔مسلمان ہر کہیں پر دوسرے اقوام اور ملتوں کے ہاتھوں پیٹے جارہے ہیں۔جب فلسطینی اقوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان یا کسی اور فرعونی اقدار میں رہنے والے سلطنت کی بات کی جائے ۔آج کل انسان اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ آیا صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی ایسا رویہ اختیار کیوں کیا جارہا ہے۔میرے خیال میں اس کے پیچھے یہی راز پوشیدہ ہےکہ آج کل کا مسلمان مادی پرست دنیا سے لو لگا کر آخرت اور دیگر اسلامی تعلیمات سے اپنا رشتہ منقطع کرنے سے ہی ایسے حالات سے سابقہ پڑتا ہے۔بلکہ حد تو یہ ہے کہ انسان زندگی کی اصل کامیابی کا انحصار اسی دنیامیں دیکھنا چاہتا ہے۔ آج کل کے انسان کواگر معاشی اور اقتصادی طور پر اپنے آپ کو مضبوط بنانا ہے تو اُسے ہر حال میں اسلام اور دیگر منافع بخش علوم کے ساتھ اپنے آپ کو منسلک کرنا ہوگا تب جاکے ایک انسان کی عزت افزائی ہوسکتی ہے۔اسلام کے علاوہ دیگرراستوں کو اپنا کر ایک انسان کسی بھی حال میں نہ اپنے آپ کو خوشی اور اطمینان دے سکتا ہےاور نہ انسانی اقدار کی کوئی قدروقیمت اسے زندگی میں حاصل ہوسکتی ہے۔لہٰذا ہم سب کو اپنی عزت ووقار کے تئیں سنجیدہ ہوناچاہیے اور اسلام پر ہمیشہ عمل پیرا ہوکر دنیاوی اور اُخروی زندگی میں کامیابی کے ساتھ رہنا چاہیے۔یہی حالت اگر ہمیشہ قائم ودائم رہے گی تو انسان کو زندگی کے نئے راستوں کو عبور کرنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
رابطہ۔6005903959