مانپور گاﺅں میں پانی دستیاب نہیں
لوگ متاثر،انتظامیہ سے توجہ دینے کی مانگ
رمیش کیسر
نوشہرہ //نوشہرہ سب ڈویژن کے مانپور گاﺅں میں پینے کے صاف پانی کی سپلائی بند ہونے کی وجہ سے گاﺅں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ گاﺅں میں گزشتہ کئی ماہ سے سپلائی بند ہو گئی ہے لیکن محکمہ کے ملازمین و آفیسران سپلائی کو بحال کرنے کی جانب توجہ ہی نہیں دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ملازمین و آفیسران سے کئی مرتبہ رجوع کیا گیا لیکن آفیسران کی جھوٹی یقین دہانیاں مسلسل جاری ہیں جبکہ زمینی سطح پر کوئی عملی کام ہی نہیں کیا گیا ۔لوگوں نے انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ دیہات میں رہائش پذیر لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم ہی نہیں کی جارہی ہیں جبکہ جموں وکشمیر اور مرکزی حکومت کی جانب سے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کےلئے کئی سکیمیں شروع کی گئی ہیں اور اسی طرح پانی کی فراہمی کےلئے مرکزی حکومت کی جانب سے ایک خصوصی پروگرام شروع کیا گیا لیکن زمینی سطح پر لوگوں کو پانی سپلائی ہی نہیں کیا جارہا ہے ۔لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ مانپور گاﺅں میں پانی کی قلت کو دور کیا جائے ۔
خاتون کی لٹکی ہوئی لاش بر آمد
راجوری //راجوری ضلع میں ایک خاتون کی لٹکی ہوئی لاش بر آمد ہونے کے بعد پولیس نے معاملہ درج کر کے تحقیقات کا عمل شروع کر دیا ہے ۔جموں وکشمیر پولیس نے بتایا کہ راجوری ضلع کی سندر بنی تحصیل میں ایک خاتون کی اپنی ہی گھر میں لٹکی ہوئی لاش باز یاب ہوئی ۔انہوں نے بتایا کہ گھائی گاﺅں میں پیش آئے واقعہ کے سلسلہ میں پولیس کی ایک ٹیم موقعہ پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کر دیا ۔خاتون کی شناخت شامو دیوی زوجہ رام لعل سکنہ گھائی سندر بنی کے طورپر ہوئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد اس سلسلہ میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔
مینڈھر میں ڈرون جیسی مشتبہ چیز دیکھی گئی
فورسز نے الرٹ جاری کرکے تلاشی شروع کر دی
جاوید اقبال +سمت بھارگو
راجوری //مینڈھر سب ڈویژن کے سرحدی دیہا ت میں مکینوں نے ڈرون سے مشابہ ایک مشتبہ چیز کوعلاقہ میں پرواز کرتے ہوئے دیکھا جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے تلاشی مہم شروع کر دی ہے تاہم سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس مشتبہ چیز کے باری میں صورتحال ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ شام 6:30بجے بالا کوٹ تحصیل کے حد متارکہ کے قریبی سیکٹر دھار گلون ،لنجوٹ ،سوئیاں وغرہ دیہات میں مکینوں نے ڈرون سے مشابہہ ایک مشتبہ چیز دیکھی جو کہ علاقہ پر پرواز کررہی تھی ۔حکام نے بتایا کہ مختلف رنگوں کی روشنیوں والے ڈرون کو اس علاقوں میں گھومتے ہوئے دیکھا گیا اور اسے دھار گلون پہاڑی سلسلے کے پیچھے غائب ہونے سے پہلے کئی منٹ تک دیکھا گیا۔انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے الرٹ جاری کر کے مزید تلاشی مہم شروع کر دی ہے ۔
راجوری پونچھ ہائی وے پروجیکٹ پر گڈکری کا اعلان
چار گلیارہ شاہراہ کا وعدہ مکمل نہ ہو سکا ،حکومت نے بیو قوف بنایا :عوام
سمت بھارگو
راجوری//روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے مرکزی وزیر نتن گڈکری کی جانب سے جموں پونچھ شاہراہ کے سلسلہ میں دئیے گئے بیان کے بعد دونوں سرحدی اضلاع میں لوگوں نے کہا کہ شاہراہ کو چار گلیارہ بنانے کا وعدہ کچھ برس قبل کیا گیا تھا لیکن حکومت ابھی تک لوگوں کو بیوقوف بنارہی ہے ۔مرکزی وزیر کی جانب سے گزشتہ دنوں ایک ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ شاہراہ کی باز آبادکاری و اپ گریڈیشن کا کام سمپررک پروجیکٹ کے تحت 441کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں تاہم لوگوں نے مذکورہ ٹویٹ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ شاہراہ کو چار گلیارہ بنانے کا وعدہ کچھ برس قبل لیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس سلسلہ میں پورے انتظامات ہی نہیں ہوئے ہیں ۔عوام نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی لیڈران صرف لوگوں کو بیوقوف بنارہے ہیں جبکہ ہائی وے کی حالت کو معیاری بنانے میں پوری طرح سے ناکام ہو ئے ہیں اور اب پہلے والی شاہراہ کی حالت بدتر ہو گئی ہے۔راکیش کمار نامی ایک مقامی شخص نے بتایا کہ سالوں پہلے ڈبل لین کےلئے فنڈز منظورکئے گئے تھے اور اب اپ گریڈیشن کےلئے فنڈز کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کا سیدھا مطلب ہے کہ جڑواں اضلاع کے لوگوں کو فور لین ہائی وے نہیں ملے گی جو ایک خواب ہی بنی ہوئی ہے۔راہول نامی ایک اور مقامی شخص نے کہاکہ اس ہائی وے پر گاڑیوں کی آمدورفت کے بڑھتے ہوئے حجم کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول کے ساتھ رابطے کی وجہ سے سیکورٹی کے محاذ پر اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت ہند کو چار لین ہائی وے کےلئے عملی اقدامات اٹھانے چاہئے ۔شفاعت خان نامی ایک مقامی شخص نے کہا کہ نتن گڈکری کے شکر گزار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جموں اور راجوری پونچھ کے درمیان ریلوے لنک کےلئے بھی ایسا ہی اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔
تھنہ منڈی کے سرکاری سکول میں اساتذہ کی کمی
بچوں کی بڑھائی متاثر ،انتظامیہ سے سٹاف کی تعیناتی کا مطالبہ
عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی // گورنمنٹ ماڈل بوائز ہائر سیکنڈری سکول تھنہ منڈی اساتذہ کی کمی ہونے کے باعث طلباءکی پڑھائی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کرونا وائرس نے پہلے سے ہمارے بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں اور رہی سہی کسر محکمہ تعلیم نکال رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نویں، دسویں اور گیارہویں جماعت میں ابھی تک کم و بیش 117 طلباءکا اندراج ہوا ہے لیکن مذکورہ کلاسوں کو ریاضی کے استاد کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ گزشتہ چار سال سے ادارے میں ریاضی کا کوئی استاد نہیں ہے۔ اس سلسلے میں متعدد مرتبہ چیف ایجوکیشن آفیسر، راجوری سے رابطہ کیا جا چکا ہے اور سکول میں درپیش مسائل سے متعلق انھیں مطلع کیا گیا ہے لیکن اس وقت تک اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے بچوں کا تعلیمی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔ ایسے میں انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ان بچوں کے مستقبل کی فکر کرے۔ انھوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری راجیش کمار شاون سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں متعلقہ محکمہ کو ضروری ہدایات جاری کریں کہ وہ اس ادارے میں جلد از جلد ریاضی کے استاد کی تعیناتی عمل میں لائے تاکہ ہمارے بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی مانگ
عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی // سب ڈویژن تھنہ منڈی کی تعمیر و ترقی باہمی سیاسی رسا کشی کا شکار ہو چکی ہے جس کی وجہ سے لوگوں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔نوجوان سیاسی اور سماجی کارکن انجینئر ارشد اعجاز خان نے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے نونہال اب سکولوں کے بجائے گلی کوچوں میں اپنی تعلیم اور کھویا ہوا بچپن تلاش کر رہے ہیں لیکن سیاسی اور سماجی قائدین کو ٹس سے مس نہیں ہے۔ انہوں نے ٹھنڈی کے تمام سیاسی اور سماجی رہنماو¿ں سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر علاقے کی ترقی اور اپنے بچوں کی تعلیم اور روشن و تابناک مستقبل کی فکر کےلئے سوچیں کیونکہ یہاں تعلیم کا معیار بالکل ختم ہو چکا ہے اور ہماری آنے والی نسلیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ آن لائن تعلیم کے نام پر بچے بے راہ روی کا شکار ہو کر اپنی زندگی کے مقصد سے ناآشنا کسی اور دنیا میں گم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جان بوجھ کر ہماری نسل کشی کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب یہاں کے لوگ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی بس اسٹینڈ، فائر سروس، اسپتال، آئی ٹی آئی کالج، بجلی اور پانی جیسی اہم اور بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں جو انتہائی افسوس ناک بات ہے۔
درہ شمشان گھاٹ کا خراب راستہ
پولیس نے مرمت کروائی،مکینوں نے شکریہ اداکیا
حسین محتشم
پونچھ//پونچھ کے گاﺅں درہ میں واقع شمشان گھاٹ کو جانے والے راستے کی خستہ حالت تھی حالیہ دنوں میں جھلاس کے پولیس اہلکار جن کی ایک سڑک حادثہ میں موت واقع ہو گئی کی آخری رسومات انجام دینے کے موقع پر ایس ایس پی پونچھ ڈاکٹر ونود کمار کی ہدایت پر ایس ایچ او پونچھ نے اس راستے کی مرمت کرواکے اس کو اس قابل بنایا کہ وہاں سے لوگ آرام سے گزر سکیں۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سماجی کارکن اور ہندوں تنظیم سناتن دھرم سبھا کے اہم کارکن منیش کمار نے پولیس کے اقدامات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کہا کہ گاﺅں درہ کے شمشان گھاٹ کو جانے والے راستہ کی اس قدر خستہ حالت تھی کے وہاں سے گزرنا مشکل ہو جاتا تھا۔انھوں نے کہا کہ ایک پولیس اہلکار کی آخری رسومات وہاں انجام دینے پڑی تو پولیس نے جنگی سطح پر اس راستے کی مرمت کر کے وہاں کے لوگوں کو بڑی راحت پہنچائی۔انھوں نے کہا کہ وہ ایس ایس پی پونچھ ،ایس ایچ او پونچھ اور دیگر پولیس اہکاران جن کی کاوشوں سے اس راستے کی مرمت ہوئی کا شکریہ اداکرتے ہیں۔