رائٹرس فورم کا جموں میں کثیر زبانی مشاعرہ کا اہتمام
نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
جموں //رائٹرس فورم جموں کی جانب سے یہاں کے ایل سہگل ہال کلچرل اکیڈمی کمپلیکس میں کثیر زبانی مشاہرہ کا اہتمام کیا گیا ۔اس موقعہ پرجموں کے ایک نامور مصنف گیانیشور مہمان خصوصی تھے جبکہ میوزک ڈائریکٹر پرتھوی راج شرما مہمان ذی وقار تھے۔پروگرام میں دانشوروں ، مصنفوں اور کلا کاروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔فورم کے سرپرست پرتھپال سنگھ بے تاب او ر صدر سدھیر مہاجن بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔ نامور اردو غزل مصنف پرتھپال سنگھ بے تاب نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور پروفگرام کے متعلق مفصل جانکاری دی۔اپنے صدارتی خطبہ میں پروفیسر للت مگوترہ نے رائٹرس فورم کو شاندار پروگرام پیش کرنے پر مبارک باد دی۔انہوں نے مشاعرہ میں شرکت کرنے والے شعرا ء کی جانب سے کثیر زبانی مشاعرہ منعقد کرنے پر سراہنا کی۔سینئر و جوان سال شعرا نیڈوگری، پنجابی، اردو اور ہندی زبانوں میں اپنے اپنے نظم پیش کئے،جن میں سوامی انتر نیرو، جنگ ایس ورمن ، بھوپیندر سنگھ بھارگو، سوشیل بیگانہ، اوشا کرن ، راجپال سنگھ مستانہ،سیوجی بھسین ،شام ساجن ،سولین مہاجن ، راج منواڑی ،سمن پال، تارا چند قلندری، امر سنگھ کوکا، عرفان عارف ،ہرجیت سنگھ اپل، امر جیت کور، پرتھپال سنگھ بے تاب و دیگران بھی شامل تھے۔فورم کے صدرسدھیر مہاجن نے نظامت کے فرائض انجام دئے اور شکریہ کا ووٹ پیش کیا۔
جموں میں شدید گرمی کے بیچ پینے کے پانی کی سخت قلت پیدا
نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
جموں// ریاست کی سرمائی راجدھانی جموں میں گرمی کی شدت کے بیچ پینے کے پانی کی شدید قلت نے لوگوں کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق جموں سٹی روزانہ بنیادوں پرپانی کے 50 ملین گیلن کے بحران کی شکار ہوتی تھی لیکن بعد ازاں مختلف پانی سپلائی کرنے کی اسکمیوں کو متعارف کیا گیا جس سے کافی حد تک پانی کی قلت دور تو ہوئی لیکن ابھی بھی سٹی کو پانی کے 11 ملین گیلن کی کمی پڑتی ہے۔ادھر جموں جہاں بدھ کے روز درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، میں گرمی کی شدت میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے چیف انجینئر اشوک گنڈوترا نے یو این آئی کو بتایا کہ جموں کے اربن سیکٹر میں اس وقت 65 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے جبکہ اس کے برعکس صرف 54 ملین گیلن پانی سپلائی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ روزانہ بنیادوں پرپانی کے 11 ملین گیلن کا بحران ہے۔اشوک گنڈوترا نے کہا کہ امسال ماہ مارچ میں کئی واٹر سپلائی اسکیمیں متعارف کی گئی اور کئی کنویں کھودے گئے جس سے 4 ملین گیلن پانی کا اضافہ ہوا لیکن اس کے باوجود بھی ابھی 11 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ شیتلی اور گلوار واٹر پلانٹوں سے 20 ملین گیلن پانی سپلائی کئے جاتے ہیں لیکن بحران برابر جاری ہے اور اس پر قابو پانے کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں۔
رام نگرمیں بیداری کیمپ کا اہتمام
جموں//مقامی لوگوں میں ماحولیات کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے لئے رام نگر کے موضع دلہیڑ کے گورنمنٹ مڈل سکول میں ایک بیداری کیمپ کا اہتمام کیا گیا۔کیمپ میں 70۔افراد سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی جن میں طلاب ، سرپنچ، پنچ بھی شامل تھے۔کیمپ منعقد کرنے کا مقصد ماحول کو آنے والی پیڑھی کے لئے محفوظ رکھنا تھا ۔کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈویژنل فارسٹ افسر مس جیوتسنا ،آئی ایف ایس نے سرکا سے جنگلات کو جنگلاتی آتشزنی سے بچانے کیلئے احتیاطی تدابیر کرنے کی تلقین کی۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگلات پانی کی سطح،زمین کی زرخیزیت اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔انہوں نے یہ پیغام عام لوگوں میںسکول جانے والے طلاب کے ذریعہ سے پھیلانے پر زور دیا ۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے بتایا کہ پودوں کی اہمیر کے مد نظر رکھتے ہوئے یہ لازم بن جاتا ہے کہ ہم اس نیک کام کے لئے اپناکردار نبھائیں اور جنگلات کو آتشزنی سے بچائیں،تاکہ ماحول کا توزن برقرار رہے۔س موقعہ پر رینج افسر کاشف جاوید نے مقامی زبان میں طلاب سے تبادلہ خیال کیا اور انکے ساتھ جنگلات کی آتشزنی کے مُضر اثرات پر بات کی۔تبادلہ خیال کے بعد حاضرین کو جنگلاتی آتشزنی پر ایک فلم اور ماحولیاتی مدعوں جیسے کہ گلوبل وارمنگ پر چھوٹی چھوٹی کلپ بھی دکھائی گئی ،تاکہ طلاب جنگلات کی اہمیت سے باخبر ہو جائیں۔
۔ پارلیمانی انتخابات ۔2019 | RO اودہمپور نے ووٹ شماری کے انتظامات کا جائزہ لیا
کٹھوعہ //ریٹرننگ افسر اودہمپور پارلیمانی حلقہ وکاس کنڈل یہاں جمعرات کے روز اسسٹنٹ ریٹرننگ افسروں ، نوڈل افسروں او متعلقہ محکمہ کے سینئر افسروں کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا ،جس میں حال ہی میں منعقد ہوئے پارلیمانی انتخاب کے ووٹ شماری کیلئے کئے گئے انتظامات کا جائزہ لیا گیا ۔ریٹرننگ افسر نے متعلقہ افسروں سے ووٹ شماری کا عمل بہت ہی پیشہ وارانہ طریقہ اور احسن طریقہ سے منقد کرنے کے لئے مناسب میکنزم یقینی بنانے کے لئے کہا۔انہوں نے سیکورٹی انتظامات، ٹریفک پلان ، ہجوم کو کنٹرول کرنے، عملہ کی تعیناتی، ووٹ شماری اورووٹ شماری کے روز نتائج کا اعلان کرنے کے میکنزم کیلئے تفصیلی پلان پر زور دیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کسی بھی شخض کو ووٹ شماری کے احاطہ میں بغیر جائز شنا ختی کارڈ کے داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔اسی طرح سے ای وی ائمز کو سٹرانگ روم سے ووٹ شماری مراکز تک خصوصی روٹ سے لایا جائے گا ،جس کے ساتھ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے رہنما خطوط کے تحت مقرر کردہ افسر ہونگے۔اجلاس میں اے ڈی ڈی سی ڈاکٹر شوبھرا شرما ، اے ڈی سی گھنیشام سنگھ ،اے سی آر سیویندر پال، اے سی ڈی سکھ پال سنگھ ،اسسٹنٹ ریٹرننگ افسر وں ،نوڈل افسروں و دیگر محکموں کے متعدد افسروں نے بھی شرکت کی۔
مانسر میں گرین مارچ کا اہتمام
جموں//ڈائریکٹوریٹ آف ایکالوجی، اینوائرنمینٹ اینڈ ریموٹ سینسنگ کی جانب سے یہاں مانسر جھیل میں ورلڈ مائیگریٹری بارڈس ڈے منانے کے لئے جمعرات کے روز ایک گرین مارچ کا اہتمام کیا گیا ۔ اس سال کا عنوان ’’ پرندوں کا تحفُظ: پلاسٹک آلودگی کا حل ‘‘ہے۔ مارچ میں گورنمنٹ ہائی سکول کارائی ،مجالٹہ کے 100 سے زائد طلاب نے فیکلٹی ممبران کے ساتھ شرکت کی۔مارچ مانسر جھیل کے ارد و گرد تھا۔عنوان کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوئے شرکا نے اپنی زندگی میں پلاسٹک کا استعمال نہ کرنے کی حلف لی۔اس دوران پلاسٹک کے متبادل پر مباحثہ کیا گیا اورسکول کے طلاب اور فیکلٹی ممبران میںماحول ،دوستانہ مواد تقسیم کیا گیا ۔ماحولیات کے ماہر کلدیپ کمار نے پلاسٹک کی آلودگی اور مائیگریٹری جانورں پر اسکے مضر اثرات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔سکول انتظامیہ نیڈائریکٹوریٹ آف ایکالوجی، اینوائرنمینٹ اینڈ ریموٹ سینسنگ کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام سے عوام میں ماحول کے تئیں بیداری پھیلانے میں مدد ملے گی۔
روپ نگر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا عملی ڈیمانسٹریشن
نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
جموں//سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کے سلسلہ میں عملی ڈیمانسٹریشن اور بیداری کے لئے جے ایم سی کی سالڈ ویسٹ منیجمنٹ ٹیم کے ممبران نے یہاں شاریکا وہار ،سیکٹر۔2 ،لوئر روپ نگر میں ایک پروگرام کا اہتمام کیا۔نوڈل افسر سالڈ ویسٹ منیجمنٹ ڈاکٹر ظفر اقبال اور ماسٹر زور آور سنگھ نے لوگوں کو غیر حیاتیاتی مواد کو ضائع کرنے میں کمی لانے اور آرگنک ضائع سے کمپوزٹ تیار کرنے کی جانکاری دیتے ہوئے انہیںاپنے گھروں میں اسے بنانے کی ترغیب دی۔لوگوں نے بڑی دلچسپی سے اسے سنا اور اسے اپنے گھروں میں بھی شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ ارد گرد کو صاف و شفاف رکھا جا سکے۔انہوں نے حیاتیاتی اور غیر حیاتیاتی مواد کو اپنے گھروں میں الگ الگ طریقہ سے جمع کرنے کو کہا ۔جے ایم سی کی جانب سے ایسی پہل لوگوں کے برتائو میں تبدیلی لانے کیلئے کی جا رہی ہے۔پروگرام میںاشونی کمار، وید پال شرما و تیم کے دیگر ممبروں نے شرکت کی ۔پروگرام میں جے ایم سی ٹیم بشمول اشونی کمار، اور وید پال شرما نے شرکت کی اور بینر و پوسٹر نصب کئے۔جے ایم سی نے مقامی لوگوں کو گھروں میںکمپوزٹ بنانے کے تلقین کی اور اس سلسلہ میں کسی بھی مدد کے لئے فون نمبر 9419122484. پر رابطہ بنانے کی اپیل کی۔
ایس ایم وی ڈی شرائن بورڈ نے ٹرا کوٹ مارگ پر لنگر شروع کیا
کٹرہ //یاتریوں کی سہولیت کے لئے شری ماتاویشنو دیوی شرائن بورڈ نے جمععرات سے ٹرا کوٹ مارگ پر کٹرہ اور ادھکنواری کے درمیان یاتریوں کیلئے مفت لنگرکا آغازکیا ہے۔یہ سہولیت یاتریوں کو چوبیس گھنٹے فراہم ہوگی۔لنگر کی سہولیت کا رسمی طور سے ممبئی سے آئے ہوئے یاتریوں کے ایک گروپ نے چیف ایگزیکٹو افسر شری ماتا ویشندو دیوی شرائن بورڈ سمرن دیپ سنگھ اور ایڈیشنل سی ای او وویک ورما و دیگر افروں کی موجودگی میں وید منتروں کے بیچ کیا گیا ۔لنگر کا آغاز کرنے سے قبل پوجا کا بھی اہتمام کیا گیا ۔یاتریوں نے شرائن بورڈ کی جانب سے یہ سہولیت مہیا کرنے پر بورڈ کی ستائش کی۔لنگر میں ایک وقت تقریباً200یاتری کھانا کھا سکیں گے ۔لنگ رمیں جدید قسم کے برتن رکھے گئے ہیں جسکی بدولت یاتریوں کو صاف و شفاف کھانا فراہم کیا جائے گا۔لنگر میں روزانہ 8500 یاریوں کو کھانا کھانے کی سہولیت فراہم ہوگی ۔کھانا اسٹیل کے برتنوں میں کاونٹروں پر پیش کیا جائے گا۔ اس موقعہ پر شرائن بورڈ کے چیف انجینئر ایم ایم گپتا،چیف اکاونٹس افسر ہیم کانت پرشار، ڈاکٹر اروند کاروانی،دیپک دھوبے، ڈپٹی سی ای او ڈاکٹر جگدیش مہرہ ، اے سی ایف ونے کھجوریہ اور اسسٹنٹ سی ای او مانو ہنسا نے بھی شرکت کی۔
نئی دہلی لوک سبھا سیٹ کیلئے پینتھرس پارٹی کا انتخابی منشور…کنیا کماری سے کشمیر تک ایک آئین، ایک پرچم لازمی
نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر ایگزیکٹو ممبر اور جموں و کشمیر اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر بھیم سنگھ نے آج پنتھرس پارٹی کے نئی دہلی سے امیدوار کے شری کرشنا کے لئے لوک سبھا انتخابات -2019 کے لئے منشور جاری کیا۔ جموں و کشمیر میں پینتھرس پارٹی 1982 میں اس واضح پیغام کے ساتھ قائم کی گئی تھی کہ پارٹی جمہوری طورپر آئین میں دیئے گئے تمام بنیادی حقوق جموں و کشمیر کے شہریوں کے لئے یقینی بنانے کے لئے تحریک چلائے گی۔ 1950 سے جموں و کشمیر میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں کو چھوڑ کر ملک کے تمام شہریوں کو ہندستان کے آئین میں بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہندوستانی پرچم جموں و کشمیر میں نافذ نہیں ہے جبکہ جموں و کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر، 1947 کو دیگر 575 حکمرانوں کی طرح الحاق نامہ پر دستخط کئے تھے۔ یہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے ایک بڑی بدقسمتی تھی کہ ہندوستان کے صدر کی طرف سے 14 مئی، 1954 کو ایک آرڈیننس لایا گیا تھا، جو نام نہاد حکومت کو بااختیار بناتا تھا۔ جموں و کشمیر میں کسی بھی بنیادی حق کی توسیع پر کنٹرول لگانا منظور نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹیکل 35-اے کو چھ ماہ سے آگے نہیں بڑھایا جا سکتا تھا، جبکہ یہ آج بھی آئین میں شامل ہے۔ جموں و کشمیر میں رہنے والے ہندستان کے شہریوں کو دیے گئے کسی بھی بنیادی حق کو روکنے یا کنٹرول کرنے کا حق جموں و کشمیر حکومت کو نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں، خود، جموں و کشمیر اسمبلی میں کانگریس کے رکن اسمبلی ہوتے ہوئے بھی 1981 میں ساڑھے تین سال جیل میں بند رہا اور سپریم کورٹ کی مداخلت سے رہا ہوا۔ یہ ایک المناک صورتحال ہے کہ پورے ہندستان کی پارلیمنٹ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں کی قسمت پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔نیشنل پنتھرس پارٹی 1982 میں مضبوط قوم پرست سوچ اور لوگوں کے سیکولر گروپ نے قائم کی تھی۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے کانگریس ممبر اسمبلی کے طور پر استعفی دے دیا اور جموں و کشمیر میں ایک نئی قوم پرست اورسیکولر تحریک کا آغاز کیا۔ حیدرآباد، تلنگانہ کے نوجوان وکیل کے شری کرشن پارٹی کے امیدوار کے طورپر نئی دہلی سے پینتھرس پارٹی کے انتخابی نشان 'سائیکل' کے ساتھ لوک سبھا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ . پنتھرس پارٹی اپنے قوم پرست-سیکولر مشن کی حمایت میں جموں و کشمیر کا پورے ملک کے ساتھ مکممل انضمام کرنے کے لئے پرعزم ہے جس طرح 26 جنوری 1950 کو 575 ریاستوں (دو ریاستوں حیدرآباد اور جونا گڑھ نے الحاق نامہ پر دستخط نہیں کئے تھے) 1952 میں نام نہاد غیر قانونی / غیر آئینی جموں و کشمیر آئین ساز اسمبلی کو جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے برخاست کر دیا تھا۔2. یہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے بدقسمتی اورتوہین آمیز ہے کہ حکومت ہند / پارلیمنٹ نے 1950 میں الحاق نامہ کو منظوری نہیں دی، جیسا دیگر ریاستوں کے ساتھ کیا گیا۔. پینتھرس پارٹی پورے ہندستان کو کنیا کماری سے کشمیر تک اور منی پور سے گجرات تک ایک آئین اور ایک پرچم کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہے، تاکہ جموں و کشمیر میں رہنے والے ہندستانی شہری بھی ہندستانی آئین میں دیئے گئے تمام بنیادی حقوق کے فوائد کا اشتراک کریں۔ یہ پیغام بہت واضح ہے جس کے لئے پینتھرس پارٹی37 سال قائم پہلے کی گئی تھی۔4. پینتھرس پارٹی بار کونسل آف انڈیا ایکٹ نافذ کرنا چاہتی، جو جموں و کشمیر ریاست کو چھوڑ کر ملک کے تمام وکلا پر نافذ ہے۔ یہ ایک آئینی المیہ ہے کہ پینتھرس پارٹی کی عرضی پر ہندستان کی عدالت عظمی کے جموں و کشمیر حکومت / جموں و کشمیر ہائی کورٹ کو اسٹیٹ بار کونسل ایکٹ کو شامل کرنے کی ہدایت دینے کے آرڈر / ہدایات کو ریاست میں نافذ نہیں کیا گیا۔یہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے بنیادی حقوق کے ساتھ ایک المیہ ہے، جب جموں و کشمیر کے ہائی کورٹ کے رجسٹرڈ ایڈووکیٹ جموں و کشمیر بار کونسل کے الیکشن نہیں کر پائے ہیں۔ 5. جموں و کشمیر ہندستان کی واحد ریاست ہے، جہاں کم از کم اجرت ایکٹ نافذ نہیں کیا گیا ہے جبکہ یہ ملک کے باقی حصوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے سلسلے میں نافذ ہے۔6. پینتھرس پارٹی پورے ملک کے سامنے اعلان کرتی ہے کہ اگر اسے ہندستان کی پارلیمنٹ میں داخل ہونے کا موقع ملتا ہے، تو وہ ملک کی باقی ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر ریاست کا مکمل انضمام یقینی بنائے گی، تاکہ کم از کم تین موضوعات دفاع ، خارجی امور اور مواصلات پر پارلیمنٹ کو قانون بنانے کا حق ملے۔ دفعہ 370 میں یہ التزام ہے کہ پارلیمنٹ بھی جموں و کشمیر میں ان امورپر لوک سبھا میں قانون نہیں بنا سکتی، جو مہاراجہ کے الحاق نامہ کی روح کے بالکل خلاف ہے، کیونکہ یہ تین موضوعات جموں و کشمیر کے مہاراجہ نے باقی ملک کے 575 بادشاہوں کی طرح ہندستان کی پارلیمنٹ کو سونپ دیے تھے۔ اس امتیازی سلوک اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ جاری سیاسی سانحہ کے لئے کون ذمہ دار ہے؟ کیا یہ غیر ملکی طاقتیں ہیں، کیا یہ دہشت گرد ہیں؟ کیا یہ ذمہ داری ہندستانی پارلیمنٹ کے معزز ارکان پر ہے، جنہوں نے جموں وکشمیر کوہندوستانی آئین میں موجود بنیادی حقوق اور فلاح و بہبود کے لئے دیگر قوانین اور جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سے دور رکھا ہے۔پینتھرس پارٹی نے عزم کیا کہ اگر ووٹر اپنے امیدوار ایڈووکیٹ مسٹر کے. شری کرشن کو پارلیمنٹ میں داخل کرنے کا موقع دیں گے۔ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے احترام اور فخر کے ساتھ باقی ریاستوں کی طرح جموں وکشمیر کے پورے بنیادی حقوق کے ساتھ مکمل انضمام کے لئے آواز اٹھائے گی۔ جب پارلیمنٹ کی طرف سے بنائے گئے قوانین جموں و کشمیر میں نافذ نہیں ہوتے تو جموں و کشمیر میں لوک سبھا کے انتخابات کیوں کرائے جاتے ہیں اور پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کے ممبران پارلیمنٹ کا کردار کیا ہے؟ ہندستانی پارلیمنٹ جموں و کشمیر کے الحاق نامہ کو قبول کیوں نہیں کرتی تاکہ کم از کم دفاع، خارجی امور اور مواصلات موضوعات پر پارلیمنٹ کو جموں و کشمیر کے تعلق سے قانون بنانے کا وہی حق حاصل ہو جو ہندستان کی دوسری ریاستوں میں پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ یہ آفت ملک یا بیرونی دشمنوں اور عسکریت پسندوں کی پیداور نہیں ہے، جموں و کشمیر کے آئینی مسائل کی ذمہ داری ملک کی پارلیمنٹ پر ہے۔ اس کا جواب صرف جموں و کشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی دے گی لوک سبھا کے پلیٹ فارم سے۔