سرینگر//مرکزی حکومت کی جانب سے مذاکراتی کے حوالے سے مثبت اشارے ملنے اور علاقائی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے منگل کو حیدر پورہ میں ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے،جبکہ مختلف مکاتب فکر سے وابستہ لوگوں کے ساتھ مشاورت کیلئے6 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی طرف سے حریت قیادت کے ساتھ مذاکراتی عمل کیلئے تیار ہونے سے متعلق بیان کے بعد سید علی شاہ گیلانی،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے منگل کو سید علی گیلانی کی رہائش گاہ واقع حیدر پورہ میں دن کے2بجے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں تینوں مزاحمتی لیڈران شرکت کر کے راج ناتھ سنگھ کی طرف سے بات چیت کے بیان پر تبادلہ خیال کریں گے،اور متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے،جس میں مشترکہ مزاحمتی قیادت مزاکراتی عمل کے حوالے سے ممکنہ طور پر فیصلہ لے گی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے’’میٹنگ کا اصل ایجنڈا مرکز کی طرف سے مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے اشارہ دینے کے بعد حکمت عملی طے کرنا ہے‘‘۔ سید علی گیلانی نے اگر چہ گزشتہ روز ہی اپنے پتے کھولتے ہوئے مزاکراتی عمل کی شروعات کو2010میں ایجی ٹیشن کے دوران پیش کی گئی تجاویز کو بنیاد بنانے سے مشروط کردیا،تاہم منگل کو منعقد ہونے والی میٹنگ کے دوران تینوں سنیئر مزاحمتی لیڈر سر جوڑ کر فیصلہ لیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے مختلف مکاتب فکر سے وابستہ لوگوںکے ساتھ مشاورت کیلئے6 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے،جن میںغلام نبی زکی،غلام نبی نجار، عمر عادل ڈار، حکیم عبدالرشید اور شیخ عبدالرشید و محمد یاسین بٹ شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے ’’تحریک آزادی میں مزید فعالیت اور تحریک پیدا کرنے کیلئے وسیع مشاور ت کی خاطر6 رکنی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، تاکہ مختلف طبقہ ہائے زندگی کے سرکردہ افراد سے ملاقات کر کے رواں تحریک آزادی کو آگے بڑھانے اور اس ضمن میں ایک متفقہ لائحہ عمل مرتب کرنے کی خاطر ان کی آراء حاصل کر سکیں‘‘۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر عید سے قبل جامع مشاورتی اجلاس بعد میں طلب کیا جائے گا،جس میں ان معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا،اور بعد میں عید کے روز عوام سے اس پر تائید بھی حاصل کی جائے گی۔