سرینگر// جموں وکشمیر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاکی جانب سے حیدر پورہ انکاونٹر کی تحقیقات کیلئے مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کرنے کے چند گھنٹوں بعد ضلع انتظامیہ سرینگر نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خورشید شاہ کو اس سلسلے میں تحقیقاتی آفیسر مقرر کیا ہے اور 15روز کے اندرا ندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ضلع انتظامیہ سرینگر کی جانب سے جمعرات کی شام ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس کے تحت حیدر پورہ میں ہوئے تصادم کی تحقیقات کیلئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خورشید شاہ کو تحقیقات کرنے کی ذمہ داری سونپ گئی۔حکم نامہ کے مطابق تحقیقاتی آفیسر کو 15روز کے اندراپنی رپورٹ مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ حیدر پورہ انکاونٹر کے بارے میں اگر کسی بھی شخص کو کوئی علمیت ہے تو وہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر واقع ٹینکی پورہ سرینگر میں دس روز کے اندرا ندر اپنے بیانات قلمبند کراسکتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ بیانات قلمبند کرانے کیلئے صبح گیارہ بجے سے سہ پہر تین بجے تک وقت مقرر کیا گیا ہے ۔اس سے قبل جمعرات کی صبحلیفٹیننٹ گورنر کے دفتر نے ایک ٹویٹ میں کہا’’حیدر پورہ انکاؤنٹر میں ADM رینک کے افسر کے ذریعہ معیاد بند مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا گیا ہے‘‘۔ لیفٹنٹ گورنرمنوج سنہانے اسبات کایقین دلایاہے کہ ’’جیسے ہی وقت مقررہ میں رپورٹ پیش کی جائے گی حکومت مناسب کارروائی کرے گی‘‘۔ایل جی آفس سے کئے گئے ٹویٹ میں مزیدکہاگیاہے کہ جموں وکشمیر انتظامیہ معصوم شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتی ہے اور یہ یقینی بنائے گی کہ کوئی ناانصافی نہ ہو۔واضح رہے کہ 15نومبر کی شام حیدر پورہ بائی پاس پر ایک تجارتی کمپلیکس میں مسلح جھڑپ کے دوران 4افرادمارے گئے جن کے بارے میں پولیس نے دعویٰ کیا تھاکہ ان میں سے پاکستانی جنگجو حیدر اور اسکاساتھی عرفان احمد ساکن گول رام بھی شامل ہے جبکہ فائرنگ کے دوران ڈاکٹر مدثر گل اور شاپنگ کمپلیکس کا مالک الطاف بٹ بھی جاں بھْ ہوئے۔ پولیس نے کہا کہ ڈاکٹر مدثرگلملیٹینتوں کا اعانتکارتھا جبکہ الطاف بٹ کراسفائرنگ میں مارا گیا۔ لیکن ڈاکٹر مدثر گل اور الطاف بٹ کے اہل خانہ کے علاوپ گول رامبن کے عرفان احمد ماگرے کے والد نے پولیس کا دعویٰ مسترد کیا اور تینوں شہریوںکوجان بوجھ کر ہلاک کرنییکا الزام لگایا۔ انہوںنے پریس کالونی میں احتجاجی دھرنابھی دیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ
حکومتی مینڈیٹ کیخلاف نہیں جا سکتے: سجاد لون
بلال فرقانی
سرینگر// پیپلز کانفرنس چیئر مین سجاد لون نے جمعرات کو کہا کہ حکومت کے رویئے کو دیکھ کر انہیں پختہ یقین ہے کہ حیدر پورہ انکائونٹر میں کچھ گڑبڑ ہے۔ کپوارہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے لون نے کہا کہ اگر حکومت کو کسی چیز کا خوف نہیں ہے تو انہیں حیدر پورہ انکائونٹر میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے کوئی غیر جانبدار ادارہ سامنے لانا چاہیے۔انہوں نے سوال کیا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رینک کا افسر اس واقعے کی انکوائری کیسے کر سکتا ہے؟ اور آپ کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ اے ڈی سی اپنی حکومت کے خلاف جائے گا؟۔ ایک اے ڈی سی اپنی حکومت کے مینڈیٹ کے خلاف کیسے جا سکتا ہے؟۔ اس پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک غیر جانبدار ایجنسی کو لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ لاشیں ان کے اہل خانہ کو واپس کریں کیونکہ یہ ان کا حق ہے کہ وہ انہیں کہاں دفنانا چاہتے ہیں۔ "انہیں مرنے والوں پر غم کرنے کا حق ہے اور حکومت کو اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شرمناک ہے کہ عام شہریوں کی لاشیں بھی ان کے لواحقین کو نہیں دی جارہی ہیں۔ "میں وزیر اعظم سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ان لوگوں کے بھی پی ایم ہیں جو مارے گئے اور ان لوگوں کے بھی جنہوں نے ان کو مارا اور ان چھوٹے بچوں کے بھی ہیں جو اپنے والد کی موت پر غمزدہ ہیں۔ میں پی ایم مودی سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اللہ کی خاطرغمزدہ خاندان کو ان کا حق فراہم کریں "۔ اس سے قبلپارٹی نے شہری ہلاکتوں کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پارٹی نے مطالبہ کیاکہ اس معاملے کی ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کو اس معاملے کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی اور الطاف بٹ اور مدثر گل کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ بطور سرپرست ہندوستان کے وزیر اعظم کو آگے آنا چاہئے اور ان خاندانوں کی فریادکو سننا چاہئے۔