سرینگر// ریاست جموں وکشمیر میں تعینات مختلف فورسز ایجنسیاں ماہ صیام کے دوران متواتر محاصروں اور تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ روکنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور صرف مکمل اور پختہ معلومات کی صورت میں ہی جنگجوئوں کے خلاف مخصوص علاقے میں کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔سیکورٹی انتظامیہ کے اعلی افسران نے یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے اس موقف کے پس منظر میں لیا ہے جس کے تحت انہوں نے نئی دلی کو صیام کے دوران یک طرفہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی ۔ انسپکٹر جنرل سی آر پی ایف روی دیپ ساہی نے کے مطابق ’’ماہ صیام کے دوران انسداد ملی ٹنسی کارروائیاں مکمل اور پختہ انسانی و تیکنیکی خفیہ اطلاعات پر ہی عمل میں لائی جائیں گی ہم اس مہینے میں متواتر اور مسلسل محاصرو ں اور خانہ تلاشیوں کیلئے نہیں جائین گے‘‘۔انہوں نے کہاکہ پر امن ماہ صیام کیلئے لئے گئے اس فیصلے میں سبھی سیکورٹی ایجنسیاں ایک ہی موقف پر متفق ہیں ۔ایک اعلیٰ پولیس آفیسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم پختہ انفارمیشن کا انتظار کریں گے اور اسکے بعد ہی مخصوص علاقے میں کاروائی کی جاسکتی ہے اور عید الفطر کے بعد ہی ہم محاصروں اور تلاشیوں کے متواتر عمل کو شروع کریں گے ۔واضح رہے کہ اگست2017میں اس وقت کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے کہاتھا کہ گائوں میں متواتر اور پے در پے محاصروں اور تلاشی کارروائیوں سے جنگجوئوں کو بھاگنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے اور اسی دوڑ بھاگ مین وہ ہمارے جال میں پھنس جاتے ہیں ۔مذکورہ آفیسر کے مطابق اس سال رمضان مہینے کے دوران انسداد ملی ٹنسی کارروائیوں میں تبدیلی لائی جائے گی۔یاد رہے کہ آپریشن آل آوٹ 2016میں جنگجو کمانڈر برہان وانی کے جان بحق ہونے کے بعد شروع کیا گیا تھا اور سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2017میں آپریشن آل آوٹ میں 275جنگجو جاں بحق کئے گئے ۔رواں برس اب تک65جنگجووں کو جاںبحق کیا گیا ۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایس پی وید نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ماہ صیام کے دوران صرف پختہ خفیہ معلومات کی بنا پر ہی جنگجو مخالف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو مسجدوں اور درگاہوں میں بڑی تعداد میں بغیر خوف عبادت کرتا دیکھوں ۔