مینڈھر //سب ڈویژن مینڈھر میں ماڈل سکول کی تعمیر کو قصبہ سے کئی کلو میٹر دور کالابن گائوں میں منتقل کرنے کے فیصلے کی بڑے پیمانے پر مخالف کا عمل شروع ہوگیا ہے جبکہ کئی ضلع ترقیاتی کونسل ممبر ان و بلاک ترقیاتی کونسل چیئر مینوں نے یکجا ہو کر انتظامیہ سے سکول کو مرکزی جگہ پر تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔غور طلب ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مینڈھر کے بھیرہ علاقہ میں ماڈل سکول کی تعمیر کو منظور ی دی گئی تھی لیکن گزشتہ دنوں میں سکول کو کالابن علاقہ میں منتقل کر نے کی خبر کے گردش کرنے کیساتھ ہی سیاسی لیڈران و پنچایتی اراکین نے یکجا ہوتے ہوئے انتظامیہ سے ماڈل سکول کو تین تحصیلوں کے مرکزی میں قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔سیاسی لیڈران نے کہاکہ ہے کہ کالابن علاقہ ایک پہاڑی پر آباد ہونے کیساتھ ساتھ مینڈھر سے کئی کلومیٹر کی دوری پر سرنکوٹ کی سرحد کے قریب آباد ہے جبکہ سرنکوٹ میں پہلے سے ہی ماڈل سکول کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جوکہ کالابن سے کچھ ہی کلو میٹر کی دوری پر واقعہ ہے ۔ضلع ترقیاتی کونسل رکن باجی فاروق چوہدری ،ضلع ترقیاتی کونسل ممبر منکوٹ عمران ظفر ،بلاک تر قیاتی کونسل چیئر مین امان اللہ چوہدری کے علاوہ سرپنچ سبھاش چندر ،حاجی محمد شارک ،ماسٹر محمدبشیر ،سید عابد حسین شاہ ،چوہدری میر محمد ،نظیر چوہدری ،فیضیا شبانہ ،تسلیم کوثر،شنیالہ دیوی اور محمد شفیق خان کیساتھ ساتھ دیگر کئی سرپنچوں نے کہاکہ انتظامیہ کی جانب سے مرکزی جگہ کو یکسر نظر انداز کر کے ایک پہاڑی پر سکول کو قائم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں جو کہ عوامی مفاد کے برعکس ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل سکول کو ایک مرکزی علاقہ میں قائم کیا جائے جبکہ کالابن میں سکول کے قیام کے سلسلہ میں بڑے پیمانے پر احتجاجی عمل شروع کر نے کا بھی انتباہ دیا گیا ہے ۔