سائنس دانوں کے مطابق چند دہائیوں میں زمین کے اوسط درجۂ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث موسموں کا توازن بگڑ چکا ہے۔ کہیں شدید گرمی کی لہریں انسانوں کی جان لے رہی ہیں تو کہیں سمندری طوفان اور سیلاب بستیاں اُجاڑ رہے ہیں۔شدید گرمی نے عام انسان کی زندگی کو دشوار بنا دیا ہے۔ سورج کی تپش پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے، شہروں میں درختوں کی کمی اور کنکریٹ کے جنگلات نے گرمی کی شدّت کو دوگنا کردیا ہے۔ غریب طبقہ، مزدور، کسان اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جبکہ بجلی کی نایابی، پانی کی قلت اور بیماریوں میں اضافہ انسانی زندگی کے لئے ایک مستقل خطرہ بنتا جارہا ہے۔
اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک، سانس کی بیماریوں اور جلدی امراض کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہےاورماحولیاتی تبدیلی نہ صرف انسانی صحت بلکہ معیشت، زراعت اور معاشرتی نظام کو بھی متاثر کررہی ہے، جس کے باعث خوراک کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں پانی اور خوراک کی کمی عالمی تنازعات کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ یہ حقیقت بھی نہایت افسوسناک ہے کہ ترقی یافتہ ممالک صنعتی ترقی اور معاشی طاقت کے حصول کے لئے ماحول کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بڑے بڑے کارخانے، ایٹمی تجربات، جنگی ہتھیاروں کی تیاری اور بے قابو صنعتی سرگرمیاں زمین کے ماحول کو تباہ کررہی ہیں۔ دولت اور ترقی کی دوڑ میں انسان یہ بھول چکا ہے کہ اگر زمین ہی محفوظ نہ رہی تو ترقی، طاقت اور سرمایہ سب بے معنی ہوجائیں گے۔
اسلام نےانسان کو ماحول کی حفاظت، اعتدال اور صفائی کا درس دیاہےاور اس حقیقت کا بھی اشارہ دیا ہے کہ انسان اگر قدرتی نظام میں غیر ضروری مداخلت کرے گا تو تباہی اُس کا مقدر بن جائے گی۔ درخت لگانا، پانی کو ضائع نہ کرنا، جانوروں اور قدرتی وسائل کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرنا بھی اسلامی تعلیمات کا حصّہ ہے۔ ہمارے پیارے نبی ؐ نے بھی ہمیںدرخت لگانے کی ترغیب دی اورقدرتی وسائل کی حفاظت کرنے کی تاکید کی ہے۔جس سے یہ بات کا واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام تعمیر، سرسبزی اور ماحول کی حفاظت کا دین ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سنجیدگی سے سمجھے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ صنعتی آلودگی پر سخت قوانین نافذ کریں، شجرکاری کو فروغ دیں، متبادل توانائی کے ذرائع اپنائیں اور عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار کریں۔ اسی طرح ہر فرد کی بھی ذمّہ داری ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھے، پانی اور بجلی کا ضیاع روکے، درخت لگائے اور فطرت کے ساتھ محبت کا رویہ اختیار کرے۔ آج کی نوجوان نسل ماحولیاتی تحفّظ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں ماحول دوست سرگرمیوں کو فروغ دینا، سوشل میڈیا کے ذریعے شعور بیدار کرنا، پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانا اور شجرکاری مہمات میں حصّہ لینا نوجوانوں کی قومی و انسانی ذمّہ داری ہے۔ اگر نئی نسل ماحول کے تحفّظ کو اپنی ترجیح بنالے تو آنے والے وقت میں زمین کو تباہی سے بچایا جاسکتا ہے۔
اگر انسان نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی تو آنے والے دن مزید خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت موسم کی تبدیلی کاہی نہیں بلکہ انسان کی بقاء کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ وقت فطرت کے ساتھ جنگ کرنے کا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر جینے کا ہے۔ انسان کو سمجھنا ہوگا کہ حقیقی ترقی وہی ہے جو انسانیت، ماحول اور آنے والی نسلوں کے تحفّظ کے ساتھ وابستہ ہو۔ ورنہ دولت اور ترقی کی یہ اندھی دوڑ ایک دن پوری انسانیت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دے گی۔ زمین صرف انسان کی ملکیت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے۔ اگر آج انسان نے اپنی خواہشات، لالچ اور بے احتیاطی پر قابو نہ پایا تو کل کی دنیا دُھواں، پیاس، بھوک اور تباہی کی تصویر بن سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان فطرت کے ساتھ دشمنی ختم کرے اور زمین کو امن، سرسبزی اور زندگی کا گہوارہ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔