بلا شبہ اگر ہم موجودہ صدی کو سائنسی ترقی، صنعتی انقلاب اور تکنیکی عروج کی صدی کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا، لیکن اسی کے ساتھ یہ صدی ماحولیاتی بحران، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل کی تیز رفتار تباہی، آبی آلودگی، فضائی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، حیاتیاتی تنوع کے خاتمے اور عالمی حدت جیسے سنگین مسائل کی بھی علامت بن چکی ہے۔ آج انسان نے ترقی کی دوڑ میں قدرتی ماحول کے ساتھ ایسا غیر متوازن رویہ اختیار کیا ہے کہ خود اس کی بقاء خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اقوامِ عالم ماحولیاتی تحفظ کے لئے اگرچہ کافی کچھ کہتےاوربہت کچھ کرتے بھی رہتے ہیں، مگر مسئلہ جُوں کاتُوں برقرار ہے، کیونکہ جب تک انسان کے اندر اخلاقی احساسِ ذمّہ داری پیدا نہ ہو، تب تک محض قوانین اور منصوبے دیرپا نتائج نہیں دے سکتے ہیں۔
بغور دیکھا جائےتوجدید ماحولیاتی بحران کی سب سے بڑی وجہ انسان کا حد سے زیادہ استحصالی رویہ ہے۔ صنعتی فضلہ ،ندی نالوں،دریاؤں اور سمندروں میں شامل ہو رہا ہے، کارخانوں اور گاڑیوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں فضا کو آلودہ کر رہی ہیں، پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال زمینی اورآبی حیات کے لئے مستقل خطرہ بن چکا ہے، جب کہ جنگلات کی بے رحمانہ کٹائی نے موسمی توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔اپنی اس وادیٔ کشمیر میں بھی اب درجہ حرارت اور گرمی کے دورانیے میں اضافے کے ساتھ ساتھ آلودگی ہمارے لئے نقصان دہ بن رہی ہےاور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خوفناک نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں،جس میں بادل پھٹنے،شدید بارشیں ہونے،پہاڑی ڈھلوانیں گرآنے،زمین کھسکنےاور سیلابی ریلے آنے شامل ہیں۔بحیثیت مسلمان ہم اس بات سے واقف ہیں کہ ہمارا دین ہمیںاِن تمام خرابیوں کی جڑ یعنی اسراف، لالچ اور بے اعتدالی کو ختم کرنے کی تعلیم دیتا ہےاور زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال، وسائل کے محتاط استعمال اور فضول خرچی سے اجتناب کا اصول پیش کرتا ہے۔اگرچہ ہمارا دین دولت، وسائل اور پیداوار کا مخالف نہیں ،لیکن بے اعتدالی اور غیر ضروری استعمال کا مخالف ہے۔
موسمیاتی تبدیلی آج پوری دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ بے موسم بارشیں، شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب، گلیشیئرز کا پگھلنا اور سمندری سطح میں اضافہ اس بحران کی واضح علامات ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ محض سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی بحران بھی ہے، کیونکہ جب انسان قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کا ناجائز استعمال کرتا ہے تولازماً فطرت کا توازن بگڑ جاتا ہے۔جس سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ انسانی اعمال براہِ راست ماحول پر اثر انداز ہوتے ہیں، لہٰذا اصلاحِ ماحول کا آغاز اصلاحِ انسان سے ہی ہوسکتا ہے۔ آج تمام سائنسی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ کاربن کے بے تحاشا اخراج، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال نے موسمیاتی تبدیلی کو شدید تر کر دیا ہے۔
بے شک ہر وہ عمل، جو انسان، حیوان، نباتات یا ماحول کے لیے نقصان دہ ہو، اسلامی اخلاقیات کے خلاف ہے۔لہٰذا ماحولیاتی تحفظ صرف حکومتوں یا بین الاقوامی اداروں کی ذمّہ داری نہیں بلکہ ہر فرد، ہر خاندان، ہر تعلیمی ادارے، ہر مسجد اور ہر سماجی تنظیم کی مشترکہ ذمّہ داری ہے۔ یاد رکھیں! ماحولیات کی حفاظت بھی عبادت ہے،اس لئے مساجد میں ماحولیاتی شعور اُجاگر کرنے، مدارس اور اسکولوں میں ماحولیات کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ پڑھا نے، شجرکاری کی اجتماعی مہمات چلانے، پانی اور بجلی کے ضیاع کو روکنے، صفائی کو اجتماعی ثقافت بنانے اور وسائل کے استعمال میں اعتدال کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ورنہ اپنے اس جموں وکشمیر کے اطراف و اکناف میں جس طرح کی آفاتی وارداتیں رونما ہورہی ہیں،اُن میں دن بہ دن اضافہ ہوتا رہے گا۔ مختصراً یہ کہ ماحولیاتی بحران کا مستقل اور دیرپا حل صرف سائنسی ترقی میں نہیں بلکہ اخلاقی و روحانی اصلاح میں مضمر ہے۔ اسلام انسان کے دل میں جواب دہی، امانت داری، اعتدال، رحم، صفائی اور ذمّہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے اور یہی وہ اقدار ہیں جو زمین کو دوبارہ سرسبز، متوازن اور محفوظ بنا سکتی ہیں۔ اگر مسلمان اپنی دینی تعلیمات کو عملی زندگی کا حصّہ بنا لیں تو وہ نہ صرف اپنے معاشرے بلکہ پوری انسانیت کے لئے ماحولیاتی تحفظ کا ایک مثالی نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔
���������������
���