یو این آئی
نئی دہلی//نئے فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے ہم وطنوں کو یقین دلایا ہے کہ ہندوستانی فوج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیشہ پوری طرح تیار رہے گی جنرل سیٹھ نے بدھ کو یہاں گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 31 ویں آرمی چیف کی ذمہ داری سنبھالنا ان کے لیے انتہائی فخر اور عاجزی کا لمحہ ہے انہوں نے کہا، “میں اس ذمہ داری کو فرض، احترام اور ‘ملک سب سے پہلے’ کے اصولوں کے تئیں غیر متزلزل عزم کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔” ہم وطنوں کو یقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہا، “میں ملک کے ہر شہری کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہندوستانی فوج ریاست کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیشہ پوری طرح تیار رہی ہے اور رہے گی۔”آرمی چیف نے کہا کہ ہندوستانی فوج جنگ کے لیے تیار اور جنگی تجربہ کار فوج ہے، جو ہر آپریشنل چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار اور اہل ہے۔ مسلسل بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے مطابق موثر ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں نئی توانائی اور پختہ عزم کے ساتھ فوج کی جدید کاری کو آگے بڑھانا ہوگا۔ ہمارا مقصد ایک ایسی ٹیکنالوجی سے لیس، مستقبل کے لیے تیار فوج بنانا ہے جو مکمل طور پر بااختیار ہو اور کثیر جہتی آپریشنل شعبوں میں مؤثر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ انھی مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے اور حکومت کی طرف سے تبدیلی کے دہائی کے تحت دی گئی رہنمائی سے تحریک حاصل کرتے ہوئے انہوں نے اپنی اہم ترجیحات کا تعین کیا ہے۔ انہوں نے کہا، “انھیں میں نے ‘وجے’ کے مخفف میں شامل کیا ہے۔ ‘وجے’ کا ہر حرف میری ترجیحات کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس میں ‘و’ کا مطلب ہے ہوشیاری ۔ ہم اپنی سرحدوں اور ابھرتے ہوئے خطرات کے تئیں مسلسل چوکس رہیں گے۔ ساتھ ہی، قومی سلامتی کے سامنے پیدا ہونے والے کسی بھی چیلنج کا مؤثر طریقے سے سامنا کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاری برقرار رکھیں گے۔جنرل سیٹھ نے کہا، “ان کا پختہ یقین ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے مسلح افواج کو دیا گیا ‘جے’ منتر، ان کی ‘وجے’ ترجیحات کی بنیاد ہے اور یہی ہمیں کامیابی کی طرف رہنمائی کرے گا۔ لہذا، میرا رہنما نعرہ ہوگا— جے سے وجے”۔ آرمی چیف نے ملک کی خدمت میں عظیم ترین قربانی دینے والے بہادر فوجیوں کو بھی عقیدت کے پھول پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ ان فوجیوں کی شجاعت، فرض شناسی اور بے لوث لگن آنے