کوئی بھی فن سیکھنے کے لئے ا س میں متعلقہ فرد کے لئے تربیت یافتہ ہونا بنیادی ضرورت ہوتی ہے ۔ صحافت ایک ذمہ دار شعبہ ہے جس کی اپنی فنی بنیادیں ہیں اور ہر صحافی کا ان فنی بنیادوں سے لیس ہوناپیشہ ٔ صحافت کا ابتدائی تقاضا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے یہاں بیش تر صحافی خاص کر اُردو صحافی بغیر کسی فنی تربیت کے اس شعبے میں کود جاتے ہیں۔اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ بھی فن کے اسرار ورموز سیکھ ہی جاتے ہیں لیکن اس دوران کئی بار وہ اپنے پیشے کے اصول وضوابط سے انصاف نہیں کر پاتے ۔ اسی ضرورت کا احساس دلانے کے لئے گزشتہ دنوںسنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر میں کارکن اردو صحافیوں کے لیے دو روزہ تربیتی کورس کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کااہتمام سنٹرل یونیورسٹی کے شعبہ کنورجنٹ جر نلزم اور جموں کشمیر اردو کونسل نے مشترکہ طور کیا تھا ۔ اس پروگرام میں انجمن ِاردو صحافت کا اشتراک بھی شامل تھا۔ ورکشاپ سنٹرل یونیورسٹی کے گرین کیمپس گاندربل میں ہوا۔ اس میں یو نیورسٹی کے شعبہ جرنلزم کے طلباء کے علاوہ چالیس کارکن اردو صحافی شامل ہوئے۔افتتاحی تقریب کی صدارت سنٹرل یو نیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین میر نے انجام دی،جب کہ نظامت کے فرائض معروف صحافی راشد مقبول نے انجام دئے۔کنورجنٹ جرنلزم کے کوارڈینٹر ڈاکٹر جان بابو نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ شعبہ دینیات کے ڈین پروفیسر حمید نسیم رفیع آبادی نے پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کر نے کے علاوہ شعبہ کنورجنٹ جرنلزم اور اردو کونسل کا مختصر تعارف بھی پیش کیا۔سنٹرل یو نیورسٹی کے راجسٹرار پروفیسر فیاض احمد نکہ نے اُردو صحافت کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ شعبہ صحافت کشمیر یونیورسٹی کے سرکردہ اُستاد ناصر مرزا نے اس موقع پر کلیدی خطبہ دیا۔انہوں نے کہا کہ اردو صحافت کو احتجاج کی صحافت کہا جاتا ہے ، اس تاثر کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔اس کے لئے ارود صحافیوں کو مثبت چیزوں اُجاگر کرتے ہوئے حقائق پر مبنی خبر یں سامنے لانی چاہیے۔اپنے صدارتی خطبے میں یو نیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین نے اس طرح کے پروگرام مستقبل میں بھی جاری رکھنے کا عزم دہرایا ۔انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے ا س ضمن میں ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔انہوں نے اردو صحافت کے معیار کو نکھارے کی ضرورت پر زوردیا۔ موصوف نے اس موقع پر سنٹرل یونیورسٹی میں اُردوصحافت کے لئے ڈپلومہ کورس منعقد کرانے کا اعلان بھی کردیا۔افتتاحی تقریب کے اخیر پر جموں کشمیر اردو کونسل کے صدر معروف کالم نویس ڈاکٹر جاوید اقبال نے شکریہ کی تحریک پیش کی اور اردو کونسل کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔
افتتاحی تقریب کے بعد ٹیکنیکل سیشن میں معروف صحافی اورروز نامہ’’ کشمیر عظمیٰ ‘‘کے مدیر جاوید آذر نے تیکنیکی ایڈیٹنگ کے موضوع پر جانکاری دی۔ انہوں نے خبر سازی کے خدو خال اور اصول و ضوابط پر سیر حاصل بحث کی اور صحافیوں کے استفسارات کے جواب دئے۔ اس سیشن کی ماڈریشن ڈاکٹرآصف خان نے انجام دی۔ وقفے کے بعد تیسرا سیشن شروع ہوا جس میں معروف صحافی اور بی بی سی اُردو سروس کے نمائندہ برائے کشمیر ریاض مسرور نے خبروں کی ترسیل اور بناوٹ پر پُر مغز گفتگو کی۔انہوںنے کہا کہ اردو صحافیوں کو احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور ہر حال میں پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صحافی کا بنیادی کا م حقائق سامنے لانا ہوتا ہے اور سوشل میڈیا کا سہارا لے کرزمینی سطح پر حقائق کو پرکھنا انتہائی ضروری قرار دیا۔انہوں نے شرکائے مجلس کے سوالات کے جوابات بھی دئے۔اس سیشن کی ماڈریشن شہناز بشیر نے انجام دی۔پہلے دن کے آخری سیشن میں معروف لے آوٹ ڈیزاینرمدثر کبروی نے صحافیوں کو اس فن کے گر بتائے جنہیں شرکاء نے بہت سراہا۔
ورکشاپ کے دوسرے دن کے پہلے سیشن میں سینئر صحافی یوسف جمیل نے’’ جدید خطوط پر مبنی رپورٹنگ ــ‘‘کے موضو ع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق حقائق پر مبنی رپورٹنگ صحافت کا بنیادی جز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم ریڈیو اور دیگر ذرائع کو غو ر سے سننے کے بعد خبریں شائع کرتے تھے لیکن عصر حاضر میں جدید ٹیکنالوجی نے ایک انقلاب لایا ہے ،اب انٹرنیٹ کے ذریعے خبریں برق رفتاری سے وائرل ہوتی ہے، ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نامہ نگا رخبر بنا سکتا ہے لیکن اس میں صحیح اور غلط ہونے کاخیال رکھنا نا گزیر ہے۔ صحافی کو واقعہ اور واردات کی تہ تک پہنچنے کی جی توڑ کوشش کرنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیلی ویژن کو زیادہ تر پروپگنڈے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن ایک صحافی کو حقیقت سے بعید خبروں کی ترسیل کرنے سے احتراز کرناچاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اردو صحافت کوماضی کی حد بندیوں سے دور رکھنے کی ضرورت ہے ۔ مواد بہتر ہو توقاری آپ کے اخبار کا متلاشی ہوگا ۔ڈاکٹر آصف خان نے اس سیشن کی ماڈریٹریشن کی۔ اس کے بعد کے سیشن میں ’’اردو صحافت میں کارٹون ‘‘کے حوالے سے ریاست کے معروف کارٹونسٹ بشیر احمد بشیرؔ نے اپنے فکر انگیز تاثرات پیش کئے اور کہا کہ اخبارات کا مطالعہ کرکے ہی انہوں نے کارٹون بنانے میں مہارت حاصل کی ۔ ان کے نزدیک کارٹون بنانے کے لئے ایک بہترین خیال لازمی ہے ،اس کے بعد ڈرائنگ پر بھی اچھی خاصی مہارت ہونی چاہیے تاکہ جو خیال پیش کیا جائے لوگ اس سے سمجھ سکیں۔انہوں نے کارٹون کاری کے حوالے سے اپنی زندگی کے بہت سارے تجربات بیان کئے جنہیں شرکاء نے بہت سراہا۔بشیر صاحب نے اردو زبان کو اپنا کھویا ہوا وقار دلانے کے لئے انقلابی اقدامات پر زور دیا۔اس سے پہلے مارڈریٹر حبادین نے بی اے بی کا سرسری تعارف پیش کیا ۔ ورکشاپ کے ایک اور اہم سیشن میں سابق ڈائریکٹر ریڈیو کشمیر سید ہمایوں قیصر نے’’ نشریات و کھیل کود سے متعلق صحافت ‘‘پر اپنے مفصل لیکچر میںعالمی سطح کے کھیلوں کی رپورٹنگ کرنے کے اجزائے ترکیبی پر روشنی ڈالی ۔ اس سیشن کے مارڈریٹرشاہناز بشیر تھے۔ ساتویںسیشن میں اردو زبان و ادب کے معروف محقق ڈاکٹر نذیر احمد ملک نے ’’صحت ِزبان ‘‘ پر عالمانہ اور ادیبانہ انداز میں زبان کے استعمال او ر استدلال کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ زبان انسان کے ذہن میں موجود ہے اورزبان پوشیدہ ذہنی عمل ہے۔زبان دو ذہنو ں کے درمیان رشتہ ہے ۔زبان کے اعتبار سے گفتگو اور تحریر کا الگ الگ وجود ہے ۔ تحریر رابطے کا وسیلہ ہے اورتحریر میں تفاوت نہیں بلکہ یہ منضبط ہوتی ہے اورتحریر میں معیاری اور با معنی الفاظ کا استعمال لازمی شئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زبان ایک جمہور ی ادارہ ہے، ضرورت کے وقت دوسرے زبانوں کے الفاظ استعمال ہوسکتے ہیں ۔ ہر زبان مخلوط ہے اور زبان کا مخلوط ہونا کوئی عیب نہیں ۔ اس سیشن کے مارڈریٹر شہباز ہاکباری تھے ۔
ورکشاپ کے اختتامی تقریب کی صدارت سنٹرل یونیورسٹی کی کنٹرولر آف ایگزامنیشن پروفیسر پروین پنڈ ت نے کی،جب کہ دور درشن کیندر سرینگر کے نیوز ڈائر یکٹر قاضی سلمان مہمان خصوصی اور معروف صحافی اور’’ کشمیر لائف‘‘ کے مدیر اعلیٰ مسعود حسین مہمان ذی وقار کے حیثیت سے سیشن میں موجود تھے ۔ ایوان صدارت میں ڈی سی جی کے ڈین اور معروف سکالر ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی اور شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر جان کے بابو موجود تھے ۔صحافیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ’’تعمیل ارشاد‘‘ کے ناظم نذیر نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے دو روز ہ ورکشاپ کو انتہائی کامیاب قرار دیا ۔ معروف صحافی مسعود حسین نے فصیح و بلیغ انداز میں صحافت اور صحافتی اقدار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صحافت ایک پیشہ ہے لیکن اس کے اندر بہت سارے ذیلی شعبے چھپے ہوئے ہیں ۔ انہوںنے شعبہ صحافت سے وابستہ طلبہ کی توجہ مبذول کرتے ہوئے کہا کہ و ہ کتابوں کی ورق گردانی کے ساتھ ساتھ پرتاب پارک کے نزدیک اخبار چھپنے والی کالونی کا بھی دورہ کرتے رہیں اور صحافت کو حقیقی پس منظرمیں تلاشنے کی کوشش کریں ۔ راقم السطور نے اُردو کونسل کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو کی ترویج اور تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نیوز ہیڈ دوردرشن کیندر سرینگرقاضی سلمان نے اس موقع پر صحافیوں اور اردو صحافت کے معیار بلند کرنے کے لئے چند زریں مشورے دئے ۔ پروفیسر رفیع آبادی نے ورکشاپ کا احاطہ کیا اور کہا کہ آئندہ بھی اس طرح کے ورکشاپ منعقد کئے جائیں گے تاکہ ہمارے صحافی حضرات اور طلبہ ماہرین کے تجربات اور علمی بصیر ت سے مستفید ہوجائیں ۔ آخر پر پروفیسر پروین پنڈت نے شریک ورکشاپ صحافیوںسے کہا کہ وہ سلیس اور آسان زبان کے ساتھ ساتھ معیار کو بنائے رکھنے میں اپنا رول اداکریں۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میںتوصیفی اسناد تقسیم کی گئیں ۔کارکن صحافیوں کے لئے ریاست میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا ورکشاپ تھا جو انتہائی کامیاب رہااور مستقبل میں اس طرح کے مزید پروگرام منعقد کرنے کی از حد ضرورت ہے۔
فون9796994000