سرینگر+بارہمولہ//مسئلہ کشمیر کوبندوق کی گولی سے نہیں ،محبت کی گولی سے حل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر خارجہ یشونت سنہا نے کہا غیر مشروط بات چیت سے ہی کشمیر کا تصفیہ برآمد ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے نہ کہ اقتصادی مسئلہ۔ بی جے پی کے سنیئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر خارجہ یشونت سنہا کی قیادت میں آئے ٹیم نے وادی کا دورہ جاری رکھا جس کے دوران انہوں نے منگل کو بھی مختلف الخیال لوگوں سے بات کی۔سرینگر کے راج باغ علاقے میں ایک تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے یشونت سنہا نے کہا’’کشمیر کا مسئلہ پیار کی گولی سے حل ہوگا،بندوق کی گولی سے نہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ دورے کے دوران انہوں نے اقتصادی مفادات رکھنے والے لوگوں کے علاوہ صنعت کاروں اور تاجروں سے بھی بات کی، تاہم انہوں نے بھی مسئلہ کشمیر کو ایک سیاسی مسئلہ قرار دیا۔ یشونت سنہا نے کہا کہ تاجروں اور کاروباریوں نے کہا ’’یشونت جی نفع نقصان کو چھوڑیئے، مذاکراتی عمل سے مسئلہ کشمیر کو حل کیجئے‘‘۔نامہ نگاروں کی طرف سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اٹل بہاری واجپائی کے دور اقتدار میں خارجہ وزیر رہے یشونت سنہا نے کہا کہ کشمیر اور نئی دہلی میں بات چیت ہونی چاہے اور بعد میں پاکستان کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ یشونت سنہا نے مذاکراتی عمل کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت پر مبنی بات چیت ہونی چاہے جس میں دونوں فریقین صولوں اور دلائل کی بنیاد پر اپنے کیس کی پیروی کریں۔یشونت سنہا کا کہنا تھا کہ بارہمولہ میں انہوں نے دیواروں پر بھارت سے متعلق قابل اعتراض تحریر بھی دیکھی تاہم انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور پیش قدمی کی،کیونکہ اگر آپ پہل نہیں کرینگے تو جمود نہیں ٹوٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نا امیدی کا دامن نہیں بلکہ امید کا دامن تھاما ہے اور پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ملاقات کی ہی طرح اس بار بھی ہم لوگوں سے ملے اور انکے درد کا احساس کر کے اس کو تقسیم کرنے کوشش کر رہے ہیں۔ یشونت سنہا نے پھر دہرایا کہ وہ اگرچہ منڈیٹ کے ساتھ نہیں آئے ہیں اور نہ ہی انکے پاس اختیارات ہیں مگر بھارت کے متحرک اور فکر مند شہری ہونے کے ناطے ہم آپ کے درد کو بانٹ تو سکتے ہیں۔ سابق وزیرخارجہ نے کہا کہ ہر ایک میٹنگ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں گزشتہ60برسوں سے مسئلہ کشمیر کو حل نہ کرنے کی وجہ سے وہ درد محسوس کر رہے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ از خود ہر ایک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے لوگوں کو بتایا کہ بندوق سے نہیں بلکہ بات چیت سے مسئلہ حل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ کچھ لوگ بہت ناراض تھے تاہم ہم نے انکی بات سنی۔سنہا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت اچھے ماحول میں ہوئی جبکہ اخلاقی طاقت سرکاری منڈیت سے زیادہ طاقتور ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے ہی نظر بندوں کی رہائی کی وکالت کی ہے۔ادھرسابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے کل ڈاک بنگلہ بارہمولہ میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 11وفود سے ملاقات کی۔ بارہمولہ میں سول سو سائٹی ممبران نے یشونت سنہا سے ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر زور دیا۔ یشونت سنہا کی قیادت میں آئے وفد کو کشمیر عوامی پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جموں و کشمیر کے عوام 1947سے ناسازگار حالات کے شکار ہوئے ہیں۔ سول سو سائٹی ممبران نے مسئلہ کشمیر پر سنجیدہ بات چیت شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ سول سو سائٹی ممبر اے آر شیلا نے کہا کہ اگر حکومت ہند مسئلہ کشمیر کا پر امن حل چاہتی ہے تو وقت کی ضرورت ہے کہ حکومت مسئلہ کشمیر حل کرنے کی کوششیں تیز کرے۔ اے آر شیلا نے وفد کو بتایا کہ تمام فریقوں سے با معنی مذاکرات سے ہی مسئلہ کشمیر کا حل نکل سکتا ہے اور بات چیت میں پاکستان اور حریت کی شرکت لازمی ہے۔ٹریڈرس فیڈریشن بارہمولہ نے یشونت سنہا کی قیادت میں آئے وفد پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرے۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری ٹریڈرس فیڈریشن بارہمولہ نے سنہا کی قیادت میں آئے وفد کو بتایا کہ حالانکہ جموں و کشمیر کے عوام کو دبانے کی کافی کوشش کی گئی اورلوگوں نے اتنے ہی طاقت کے ساتھ آواز اٹھائی اور لوگوں کے جذبات کو دبایا نہیں جاسکے گا ۔طارق احمد مغلو نے کہا ’’ کشمیر میں امن کیلئے تمام فریقوں سے بات چیت لازمی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش سنجیدہ ہے تو ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ سول سو سائٹی ممبران میں شامل ایڈوکیٹ نیلوفر نے وفد پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو انسانی مسئلہ سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام پچھلے کئی سال سے مشکلات میں گھیرے ہیں اور مسئلہ کشمیر کا پر امن حل بھارت اور پاکستان کی دوستی کا سبب بنے گا۔ ایڈوکیٹ نیلوفر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل خطے میں امن کی راہ ہموار کرے گا۔‘‘ انہوں نے وفد کو بتایا کہ اگر موجود وہ وقت ضائع کرنے کیلئے آیا ہے تو جموں و کشمیر کے لوگوں کو بات چیت کے عمل پربھروسہ اٹھ جائے گا۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی بھی حل تب تک نامکمل رہے گا جب تک نہ تمام فریقوں کو اس میں شامل کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یشونت سنہا کی قیادت میں آنے والے وفد کا یہ وادی کا دوسرا دورہ ہے جبکہ وفد نے پہلے ہی کشمیر میں زیادہ طاقت اور پلٹ گن کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔