غوطہ// شام کے شہرغوطہ میں جنگ بندی کے باوجود شامی فورسزکی بمباری جاری ہے، جس میں مزید چونتیس افراد جاں بحق ہوگئے، شامی فورسز کی رہائشی علاقوں میں بمباری سے اب تک 586 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق جنگ بندی کے باوجود شامی فورسز باز نہ آئیں، غوطہ میں بم برساتی رہیں، روس کے غوطہ میں روزانہ پانچ گھنٹے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود شامی جنگی طیاروں نے مختلف علاقوں کونشانہ بنایا۔علاقے الغوطہ الشرقیہ میں ایک ہزار کے قریب زخمی اور مریض ابتر حالت میں محفوظ گزرگاہوں" کا انتظار کر رہے ہیں۔ ادھر عالمی ادارہ صحت کو ان افراد کے موت کے منہ میں جانے کا اندیشہ ہے۔ شامی بمباری کے باعث امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، غوطہ میں ہر طرف تباہی کے منظر ہے، سینکڑوں گودیں اجاڑ گئیں، ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر نے آنکھیں نم کردیں، شامی بچے سوشل میڈیا پر مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ دس روز سے جاری شامی فورسز کی بمباری اب تک ایک سوبیس بچوں کی جان لے چکی ہے۔گذشتہ روز روس کی جانب سے مشرقی غوطہ میں جاری لڑائی میں روزانہ وقفے کا اعلان کیا تھا، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے شام کے شہر غوطہ میں روز 5 گھنٹے بمباری روکنے کا حکم دیا تھا۔روسی صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ شام کے علاقے غوطہ کے مشرقی علاقے میں جاری بمباری روکنے کا فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا۔