حکومت حقائق کیساتھ جواب دینے کیلئے تیار
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو سابق وزیراعلیٰ اورپی ڈی پی کی صدرمحبوبہ مفتی کے 25ہزار نوکریوں میں بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات کی سختی سے تردید کی اوران کی پارٹی پر منافقت کا الزام لگایا۔یوم عاشورہ کے موقعے پر زڈی بل میں صحافیوں کیساتھ بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاوت دہرائی کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے -انہوں نے محبوبہ مفتی کو سخت جواب دیتے ہوئے کہاکہ جن لوگوں نے سب سے زیادہ غیر قانونی اور بھرتی عمل میں بے صابطگیاں کیں وہ ہم پر اب الزامات لگا رہے ہیں۔
عمر عبداللہ نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ کیا ہمیں یہ بھول جانا چاہیے کہ ان کی کئی بیک ڈور تقرریاں عدالتوں نے منسوخ کر دی تھیں۔وزیر اعلیٰ نے یہ بھی الزام لگایا کہ مفتی کے خاندان سے جڑے افراد نے بھی بے قاعدہ بھرتی کے عمل سے فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے سرتاج مدنی کے بیٹے کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی تقرری ایک’بیک ڈور عمل ‘کے ذریعے کی گئی تھی اور بعد میں عدالتی ہدایات کے بعد ہٹا دیا گیا۔وزیر اعلی نے جموں اور کشمیر میں تقرریوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا معاملہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر میں پی ڈی، پی بی جے پی مخلوط حکومت کے دوران کی گئی تقرریوں میں بے ضابگیوں کو گننا شروع کر دوں تو آپ کے پاس پوری فہرست سننے کے لیے اتنا وقت نہیں ہوگا۔محبوبہ مفتی کو اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لئے چیلنج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت حقائق کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔انہوںنے کہاکہ انہیں اپنے الزامات کی حمایت کیلئے ثبوت کا ایک ٹکڑا بھی پیش کرنے دیں۔ صرف ایک امیدوار کا نام بتائیں جسے ہماری حکومت میں غلط طریقے سے تقرر کی گیا ہو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے اس معاملے پر تمام متعلقہ معلومات مرتب کر لی ہیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ انشاء اللہ، اگلے ایک یا 2 دنوں کے اندر، میرے2 سینئر وزیر پریس سے خطاب کریں گے اور تمام حقائق لوگوں کے سامنے رکھیں گے۔