حُسن کی نایاب صورت کوئی ہو سکتا ہے کیا
اک سراپا عکسِ حیرت کوئی ہو سکتا ہے کیا
آئینہ بھی دیکھ کر جس کو رہے محوِ جمال
عشق کی روشن عبارت کوئی ہو سکتا ہے کیا
جس کے ماتھے پر لکھی ہو آیتِ مہر و وفا
پیار کی ایسی بھی مورت کوئی ہو سکتا ہے کیا
وہ جو چلتا ہے تو رستے بھی مہکنے لگتے ہیں
چلتی پھرتی ایک نکہت کوئی ہو سکتا ہے کیا
جم گئی ہے خوبیوں پہ اس کی میری ہر نظر
اس قدر زیرِ بصارت کوئی ہو سکتا ہے کیا
قیسؔ اس کے حسن پر بس دَم بَخُود سا رہ گیا
اس قدر جلوۂ قیامت کوئی ہو سکتا ہے کیا
کیسر خان قیس
ٹنگواری بالا ضلع بارہ مولہ
موبائل نمبر؛6006242157
دل کسی سے لگا کے دیکھوںگا
خود کو بسمل بنا کے دیکھوںگا
دردِ دل کو چھپا کے دیکھوںگا
میں بھی اب مسکرا کے دیکھوںگا
لوگ کہتے ہیں چپ لگی کیوں ہے
حالِ دل بھی سنا کے دیکھوںگا
کیا لکھا ہے مرے مقدر میں
ان کے گھر آج جا کے دیکھوںگا
زندگی نام تیرے کر دی ہے
جان تجھ پر لٹا کے دیکھوںگا
دیکھنی ہے مجھے تری چاہت
تجھ کو اپنا بنا کے دیکھوںگا
پریم ناتھ بسملؔ
مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار
موبائل نمبر؛8294170464
زیادہ دیر تک دکھ صاحبِ والا نہیں رہتا
غلط فہمی نہیں رہتی غم و غصہ نہیں رہتا
گرا دیتے ہیں احباب و اقارب اپنی نظروں سے
تعلق تک شکستہ وقت میں اچھا نہیں رہتا
خدا کی رحمتیں اس شخص کے حق میں اُترتی ہیں
بَھلاخوش کس طرح غم بانٹنے والا نہیں رہتا
دعائیں فی امان اللہ کی لے کر نکلتا ہوں
سفر میں حادثے کا کوئی بھی خطرہ نہیں رہتا
تمہیں آنا ہے توآجاؤ اتنی کشمکش کیوں ہے
کبھی دل کا مقفل میرے دروازہ نہیں رہتا
میں اپنی تلخیٔ گفتار پر کتنی صفائی دوں
نوائے راست میں لہجہ کبھی میٹھا نہیں رہتا
دکھاتا گرمیٔ رفتار اپنی میں بھی دنیا کو
اگر پیوست میرے پاؤں میں کانٹا نہیں رہتا
گزر اوقات برقی قمقموں کے بیچ ہوتی ہے
اجالا شہر کے کمروں میں سورج کا نہیں رہتا
محبت دیدہ و دل سے اگر پروان چڑھتی ہے
غیاثؔ انور شہودی دھیان تک اپنا نہیں رہتا
غیاثؔ انور شہودی
مغربی بنگال
موبائل نمبر؛9903760094
بتانی بات تھی جو وہ بتائی کیوں نہیں جاتی
فروزاں جس کو کرنا تھا جلائی کیوں نہیں جاتی
پرانے زخم بھرنے کیوں نہیں دیتی یہ شامیں ہیں
یہ لاشیں دل سے خوابوں کی اٹھائی کیوں نہیں جاتی
ہمیں کیونکر فریبی نے خدا سے دور رکھا ہے
ہمیں وہ غیب کی صورت دکھائی کیوں نہیں جاتی
جوسُن کے یار اپنے بھی یہاں پر غیر ہوتے ہیں
وہ باتیں خامشی میں پھر دبائی کیوں نہیں جاتی
جہاں پل بھر ترسنے کے عوض حاصل سکوں ہوتا
وہ دنیا اے تڑپ میری بنائی کیوں نہیں جاتی
اگر دنیا کے سارے غم محبت سے ہی مٹنے ہیں
ہمارے ذہن و دل سے پھر برائی کیوں نہیں جاتی
اگر ان تند ہواوں میں یہی بچنے کی صورت ہے
وہ یادیں سرد لمحوں میں جلائی کیوں نہیں جاتی
طلب میں وصل کی پھرنا بیاباں میں بہت تنہا
یہ نیندیں اب محبت میں اڑائی کیوں نہیں جاتی
اگر ساقیؔ اسی کاوش سے ممکن ہے تو پھر کیونکر
یہاں پر آگ جذبوں میں لگائی کیوں نہیں جاتی
ساقی اعجاز
ڈوگری پورہ اونتی پورہ پلوامہ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005500468
اس جہاں کے سب گُلوں میں تو مثالِ رنگ و بُو ہے
تیرے دم سے ہی تو قائم اس چمن کی آبرو ہے
تو نہیں ہو جس میں شامل وہ بھی کوئی زندگی ہے
میرا مجھ میں کیا ہے باقی اب جو ہے بس تُو ہی تُو ہے
ہاتھوں کے یہ تیرے کنگن پاؤں کی یہ تیری پایل
صنفِ نازک تیرا چہرہ میرے ہر دم روبرو ہے
خود کو کھو یا تجھ کو پایا مجھ کو کوئی غم نہیں ہے
تو ہی میری آرزو ہے تو ہی میری جستجو ہے
دم یہ جس دم میرا نکلے تو ہی میرے روبرو ہو
ہے تمنا اتنی سی بس اتنی ہی بس آرزو ہے
اس زمانے کی نظر اب لگ نہ جائے ہم کو ہمدم
جو بھی اپنے درمیاں ہے اسکا چرچا کُو بہ کُو ہے
پھولوں میں بھی دیکھا تجھ کو سب نظاروں میں بھی پایا
ایسی صورت تُو نے پائی ماہِ رو تو ہُو بہ ہُو ہے
عشیار عبداللہ
موبائل نمبر؛7006347399
کرم سے اسی کے ہو زندہ تم اب تک
یہاں مٹ گئے ہوتے ورنہ تم اب تک
زمانے میں جینے کے رستے ہیں لیکن
نہ اپنا سکے ویسا رستہ تم اب تک
سمجھ نہ سکو گی یہ دنیا تمہیں جو
فقیری کا ڈھوتے ہو پستہ تم اب تک
کہیں گھونسلہ جب نہیں ہے تمہارا
کہاں تھے بتاؤ پرندہ تم اب تک
چلا وہ پہن کر کفن آج دیکھو
مگر سورہے ہو اے بندہ تم اب تک
محمد فاروق گیاوی کلال
ضلع گیا بہار
موبائل نمبر؛9905021495
ہم نے چاہا تھا کہ حالات کی تفسیر نہ بنے
کھینچی جو ذہن نے وہ تدبیر نہ بنے
پاؤں رستوں کی مسافت میں شل ہوکے رہ گئے
ہم سفر تو رہے پاؤں کی زنجیر نہ بنے
ہاتھ کی مستند لکیروں میں ڈھونڈتے رہے انہیں
ہاتھ اٹھے تو دعا قسمت کی لکیر نہ بنے
تھے جو صیاد وہی آ کے محافظ ٹھہرے
ہم رہے قید مگر قفس کے اسیر نہ بنے
ہم نے مانا کہ بہت زہر بھرا تھا ان میں
تیر جو دل پہ لگے وہ با تاثیر نہ بنے
ہم پہ مرتی رہی دنیا اور ہم مرتے رہے ان پر
جو ہماری موت پر بھی چشمِ دلگیر نہ بنے
عمر بھر چلتی رہی وقت کے سائے میں صائمہؔ
خواب جو دیکھے تھے قابلِ تعبیر نہ بنے
صائمہ مقبول
جموں و کشمیر
یہ درد آسان نہ ہو جائے
کہیں جینے کا سامان نہ ہو جائے
غمِ دنیا کو گلے سے نہ لگا
دل محبت کا بیابان نہ ہو جائیے
اُن کی محفل میں سنبھل کر بولنا
ہر سخن مؤجبِ زنداں نہ ہو جائے
خامشی سے بھی ڈر لگتا ہے اب
شہر کا شہر ہی سنسان نہ ہو جائے
آئینوں سے بھی ذرا بچ کر ملو
چہرہ اپنا ہی پریشان نہ ہو جائے
نفرتوں کی آگ کو مت دو ہوا
گھر کا آنگن ہی شمشان نہ ہو جائے
وقت کی رفتار کو پہچان لو
خواب آنکھوں کا پشیمان نہ ہو جائے
ایوبؔ اتنا بھی نہ کر خود پر غرور
نام تیرا قصۂ نسیان نہ ہو جائے
محمد ایوب
ترال بالا پلوامہ
موبائل نمبر؛ 9596359446
اظہارِ محبت کو دفنایا ہم نے
لقب بیوفائی کا پا لیا ہم نے
جستجو تھی ملے ہمنشین ایسا
راز دل کو یوں چھپا لیا ہم نے
آج پھر خفا خفا سے وہ لگے
ایسا بھی کیا گناہ کیا ہم نے
ناکام حسرتوں کا جنازہ بھی دیکھا
خاموش یادوں میں چھپا لیا ہم نے
دل کی گہرائی کا سمندر ایسا
زہر کا جام پی لیا ہم نے
ہے خطا انکی جانتے تو ہیں
پھر بھی الزام سر گیا ہم نے
ٹوٹ کر،بکھر کر اورسکڑ کر
ایسے ہی آج تک جی لیا ہم نے
توقع تھوڑی رہی باقی اب تک
نام عؔ غ کا ہی لیا ہم نے
عذرا غنی
آسنور کولگام ، کشمیر