بہت دیکھا ہے آئینہ بدل کے
وہی ملتا رہا چہرہ بدل کے
نہ بچ پائیں گے ہم خیمہ بدل کے
جلا دے گا کوئی شعلہ بدل کے
رواجِ سنگ و سر کیا ہر جگہ ہے
چلو دیکھیں ذرا کوچہ بدل کے
بہت ہیں قصر و ایوان و مکانات
بنے اب گھر کوئی نقشہ بدل کے
مرا شوقِ بْتاں عشقِ خْدا تک
پلاتا ہے مجھے نشّہ بدل کے
ملی بس ایک ہی منزل ہمیشہ
گئے ہم بارہا رستہ بدل کے
مزاجِ کوہ تو اب تک ہے باقی
بھلا کیا فائدہ تیشہ بدل کے
سید شبیب رضوی
اندرون کاٹھی دروازہ ,رعناواری سرینگر
موبائل :- 9906685395
تیرا نہ تھا قیام میری کائنات میں
لیکن نہ بدگمان رہا تا حیات میں
دن ہیں نہیں نصیب میں میرے نشاط کے
پھر کیا غمِ جہان سے مانگوں نجات میں
کارِ جہاں دراز مجھے دے دیئے مگر
یہ بھی رہے خیال کہ ہوں بے ثبات میں
بگڑا مزہ ہے منہ کا تلخیٔ کام سے
کیسے کہوں مٹھاس ہے قندو نبات میں
تڑپا بہت ہے ہجر میں وہ بھی میری طرح
اُس نے یہ انکشاف کیا بات بات میں
محسوس ہر طرف ہو جہاں دن میں وسوسہ
نکلے وہاں سڑک پے بھلا کون رات میں
بزمِ جہاں میںڈھونڈنہ راحتؔ کویار تو
محصور ہوچکا ہے وہ اپنی ہی ذات میں
رئوف راحتؔ
موبائل نمبر؛9419626800
سایہ میرے وجود سے آگے نکل گیا
میں ہی غم حیات کے سانچے میں ڈھل گیا
اب تو نئے سفر کا نیا اہتمام ہو
میں نے سنا ہے ہجر کا موسم بدل گیا
کس نے تمہیں کہا تھا ہواوں سے جا ملو
میری تو جھونپڑی تھی تمہارا محل گیا
تا عمر آگ سے ہی میرا واسطہ رہا
وہ طور تھا جو برق تجلی سے جل گیا
آیا خیال ان سے جدائی کا جس گھڑی
سانسوں کی ڈور ٹوٹ گئی دل دہل گیا
ساقی تیری شراب میں اب وہ اثر کہاں
کہتے ہیں جام پی کے دیوانہ سنبھل گیا
سردار جاوید خان
مینڈھر، پونچھ
رابطہ۔ 9697440404
اِک طرف ہے شادمانی اِک طرف ماتم بھی ہے
روز و شب کے حادثوں سے زندگی برہم بھی ہے
ایک عرصے سے نہ آیا دیکھنے وہ کج ادا
کیا خبر تھی عاشقی میں ہجر کا موسم بھی ہے
خلوتوں میں منتظر کب تک رہوں گا اے خدا
اِک طرف تھوڑی خوشی ہے آنکھ میری نم بھی ہے
مضطرب ہوں ہے غمِ جاناں فقطہ اک دلگی
وصل کی اُمید بھی ہے اور تھوڑا غم بھی ہے
اِک طرف اُن کی جفائیں بے نشاں سی ہیں مگر
اِک طرف اپنی فغاں ہے اور زیر و بم بھی ہے
اے عقیلؔ اُن کی جفا سے کیوں تغافُل ہے تجھے
دل لگی میں اِک طرف تو بے دلی پیہم بھی ہے
عقیلؔ فاروق
متعلم: شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی
موبائل نمبر: 8491994633
ہم سفر ملتے نہیں ہم کو بشر ملتے نہیں
ہم غریبوں کو یہاں پر رہگذر ملتے نہیں
کچی مٹی کے بنے وہ پیارے گھر ملتے نہیں
تھا سکون و چین جن میں وہ مگر ملتے نہیں
پیڑ تو کہنے کو ہیں چاروں طرف پھیلے ہوئے
ہاں مگر وہ گاؤں کے اونچے شجر ملتے نہیں
دیکھنے کو تو یہاں اہلِ ہنر ہیں خوب ہی
میرؔ جیسے ریختہ کے ہم سفر ملتے نہیں
آدمی ہی آدمی کا ہے بڑا دشمن یہاں
وحدتِ فکر و نظر والے بشر ملتے نہیں
اب چلے بھی آؤ دیکھو منتظر ہوں میں یہاں
دل کو میرے کیوں اے بسملؔ ہم اثر ملتے نہیں
سید بسملؔ مرتضٰی
پیر محلہ شانگس اننت ناگ
طالب علم:ڈگری کالج اترسو شانگس
موبائل نمبر؛9596411285